140

بیماری پر سیاست یا پانی پر سیاست

ہمارا معاشرہ تو پہلے بھی کوی ایسا مثالی نہیں رہا خصوصاََ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے انتہائ زبوں حالی اور اخلاقی زوال کا شکار ھے ۔ایک خاص سیاسی جماعت نے ایسا کلچر پروان چڑھایا جس نے معاشرے کی روایات ،احترام انسانیت اور رواداری کو بے انتہا نقصان پہنچایا ۔ کچھ عرصہ پہلے جب میاں نواز شریف کے اقتدار کا سورج آخری لمحات پر تھا ۔اور میاں صاحب اقامہ کے کیس میں جیل میں تھے مریم نواز بھی ان دنوں جیل میں تھیں ۔اور بیگم کلثوم نواز ان دنوں موت سے لڑ رہی تھیں تب ان کی بیماری پر ایک شرمناک سیاست کی گئ ان کی بیماری کوڈرامہ کبھی مزاق کا رنگ دے کر میاں نواز شریف صاحب کو زہنی ازیت دی گئ تھی ۔اسکے بعد بھی سلسلہ رکا نہیں ۔آج پیپلز پارٹی پر یہ نازک وقت آگیا ھے کہ جب صدر پاکستان آصف علی زرداری کرونا کا شکار ہو گیے ہیں تو ان کی بیماری پر نفرت انگیز سوشل میڈیا مہم چلائی جا رہی ھے ۔نہ صرف سوشل میڈیا واریئرز اس میں شریک ہیں بلکہ پی ٹی آئ کے یو ٹیوبرز اور اینکرز بھی اس طرح کی سازشی مہم کا حصہ بن جاتے ہیں ۔یہ امر بھی حیرت انگیز ھے کہ پی ٹی آئ کا سوشل میڈیا بریگیڈ ہر ایسے موقعے پر بہت ایکٹو ہوتا ھے اور یہ لوگ ہر کسی کی بیماری موت یا کسی مشکل میں طنز ,و تحقیر کا نشانہ بناتے ہیں ۔نہیں معلوم اس موقع پر پیکا ایکٹ حرکت میں کیوں نہیں آتا ۔جبکہ صحافیوں کی ایک ٹویٹ پر بھی قانون حرکت میں آتا ھے مگر اس معاملے میں سواے کراچی کے ایک پولیس افسر کو جسے نامناسب کمںنٹس کی بنیاد پر گرفتار کیا گیاباقی سب کو چھوٹ ھے ۔ حکومت کو سختی سے اس چیز کا نوٹس لینا ہو گا کہ وہ خود اس زیادتی کا شکار ہو چکے ہیں ۔پیپلز پارٹی ایک طرف بیماری پر سیاست کے معاملے سے دوچار ھے تو دوسری طرف سندھ میں پانی پر سیاست ہو رہی ھے ۔سندھ کی قوم پرست جماعتیں سڑکوں پر نکلیں ہوئ ہیں کہ ہم دریاے سندھ سے نہریں نکالنے نہیں دیں گے ۔ان چھ نہروں کے تنازعے پر سندھ بھر میں صورتحال خراب ھے جگہ جگہ احتجاجی سڑکیں بند کر رہے ہیں اور لوگوں کوآنے جانے میں دقتوں کا سامنا ھے خصوصاََ ہائ وے پر ٹریفک کی روانی متاثر ھے مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ معاملہ سنگین صورتحال کی طرف جا سکتا ھے اگر باہم مشاورت سے اسے حل نہ کیا گیا ۔وفاق کو صوبہ سندھ کے تحفظات دور کر کے ہی اس منصوبے پر عمل کرنا ہو گا ورنہ یہ ایک بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ھے پاکستان میں اس وقت اس طرح کے حالات کی گنجائش نہیں ھے کہ معاملات لسانیت یا صوبایئت کی بحث کی طرف جایئں اس وقت مل کر پاکستان کھپے کی بات کرنا ضروری ھے کہ یہ سب پاکستانیوں چاہے وہ سندھی ھے یا بلوچی ،پٹھان ھے یا پنجابی سب کی بقاء کی ضمانت ھے ۔پاکستان ھے تو ہم ہیں ۔

۔

بشکریہ اردو کالمز