10

فیلڈ مارشل :سپہ سالاری اور سفارتکاری

پاکستان کے موجودہ عسکری منظر نامے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ظہور محض ایک عہدے کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئے تزویراتی (Strategic) عہد کا نقطہ آغاز ثابت ہوا ۔ گزشتہ ایک سال کے دوران جنوبی ایشیا کے جغرافیائی و سیاسی حالات نے جس تیزی سے پلٹا کھایا ، اس نے نہ صرف پاکستان کے دفاعی وقار کو ہمالیہ سے بلند کر دیا بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک ایسی عالمی شخصیت کے طور پر متعارف کروایا جنکی حکمتِ عملی کا اعتراف واشنگٹن سے لیکر تہران اور ریاض تک کیا جا رہا ہے۔ وہ عسکری میدان میں ایک فاتح جرنیل کے طور پر ابھرے اور دیکھتے ہی دیکھتے انسانیت کیلئےامن کے سفیر بن کر سامنے آئے۔

اس ہمہ گیر تبدیلی کا نقطہ آغاز مئی 2025ءمیں ہونیوالی پاک بھارت چار روزہ جنگ تھی، جب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے دشمن کی عددی برتری کو تکنیکی مہارت اور ایمانی جذبے سے خاک میں ملا دیا ۔ یہ معرکہ صرف سرحدوں کے دفاع کا نہیں تھا بلکہ یہ جدید جنگی ٹیکنالوجی کے امتحان کا دن بھی تھا۔ فیلڈ مارشل نے پہلے دو دن دشمن کی نقل و حرکت کا باریک بینی سے جائزہ لیا اوروہ جوابی وار کیا جسکی توقع دہلی کے ایوانوں میں کسی کو نہ تھی۔ پاک فضائیہ نے جب فضاؤں میں بھارتی غرور کو خاک میں ملایا اور دنیا کے مہنگے ترین اورناقابلِ شکست سمجھے جانے والے چھ طیاروں، جس میںرفال بھی شامل تھا،کو مار گرایا، تو عالمی دفاعی ماہرین دنگ رہ گئے۔پاک فضائیہ کی جانب سے بھارتی فضائیہ کے گرائے جانیوالے طیاروں کے بعدبھارتی فضائیہ اپنے طیاروں کو پاکستان کی سرحدوں سے 300 کلومیٹر پیچھے رکھنے پر مجبور ہوگئی، جس سے بھارت کا عظیم طاقت کہلوانے کا بھرم ہمیشہ کیلئے پاش پاش ہو گیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان کامیابیوں کی جڑیں ان کے شاندار پیشہ ورانہ ماضی میں پیوست ہیں۔ اس باصلاحیت افسر نے ہمیشہ نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کو مقدم رکھا۔ وہ پاکستان کی عسکری تاریخ کے پہلے سربراہ ہیں جنہوں نے ملٹری انٹیلی جنس (MI) اور آئی ایس آئی (ISI) دونوں اداروں کی قیادت کی۔ یہی وہ انٹیلی جنس پس منظر ہے جس نے انہیں جنگی حکمتِ عملی اور تزویراتی چالوں میں حریف پر سبقت دلائی۔ نومبر 2022ءمیں آرمی چیف کا منصب سنبھالنے کے بعد، انہوں نے نہ صرف آپریشنل تیاریوں کو جدید بنایا بلکہ فوج کے اندرونی ڈھانچے میں ایسی اصلاحات متعارف کروائیں جن کا مقصد طویل مدتی دفاعی خود انحصاری تھا۔ ان کی نظر صرف سرحدوں پر نہیں تھی، بلکہ انہوں نے دفاعی صنعت کو ملکی معیشت کا سہارا بنانے کے لیے بھی انقلابی اقدامات کیے۔

اس جنگی کامیابی اور اصلاحات نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شخصیت کو بین الاقوامی میڈیا کی سرخیوں میں اعلیٰ مقام دلایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی بے باک طبیعت کے لیے مشہور ہیں، فیلڈ مارشل کی بہادری اور اسٹرٹیجک پلاننگ کے اس قدر گرویدہ ہوئے کہ انہوں نے نہ صرف عوامی سطح پر اس کا اعتراف کیا بلکہ تاریخ میں پہلی بار کسی غیر ملکی فوجی سربراہ کو وائٹ ہاؤس میں خصوصی لنچ پر مدعو کر کے ایک نئی روایت قائم کی۔ صدر ٹرمپ کا انہیں اپنا فیورٹ فیلڈ مارشل قرار دینا اورفنٹاسٹک انسان کے القابات سے نوازنا اس بات کی دلیل ہے کہ اب پاکستان کا عسکری بیانیہ دنیا کے طاقتور ترین ایوانوں میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس عالمی پذیرائی کا ایک بڑا ثمرجے ایف-17تھنڈرطیاروں کی فروخت میں ریکارڈ اضافے کی صورت میں نکلا، جہاں دنیا بھر کے ممالک اب پاکستانی دفاعی ٹیکنالوجی پر بھروسہ کر رہے ہیں۔

عسکری فتوحات کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جس طرح اپنی توجہ عالمی امن اور سفارت کاری کی جانب مبذول کی، وہ ان کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، فیلڈ مارشل نے ایک غیر جانبدار ثالث کا بیڑا اٹھایا۔ ان کی کوششوں کا محور صرف پاکستان کا ہی مفاد نہیں بلکہ پوری انسانیت کو ایک ہولناک جنگ سے بچانا ہے۔ ایران اور امریکہ دونوں کا فیلڈ مارشل پر مکمل اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب محض ایک فریق نہیں بلکہ ایک ایسا سفارتی پل بن چکا ہے جو متصادم طاقتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ ان کے حالیہ دورے، بالخصوص سعودی عرب اور قطر کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدے، اس نئی علاقائی صف بندی کا حصہ ہیں جہاں پاکستان کو ایک ناگزیر سیکورٹی پارٹنر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا حالیہ دفاعی اشتراک، جسکے تحت ایک ملک کا دفاع دوسرے کے ساتھ منسلک ہے، عالمِ اسلام کے اتحاد کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

آج دنیا بھر کی ملٹری اسٹرٹیجک اکیڈمیوں میں پاکستان کی اینٹی رفال حکمتِ عملی پر لیکچرز دیے جا رہے ہیں اور ماہرین حیران ہیں کہ کیسے ایک محدود وسائل والے ملک نے جدید ترین فضائی برتری کو ناکام بنایا۔ بھارت، جو کبھی پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی پر گامزن تھا، آج خود اپنی غلط حکمتِ عملی کے باعث عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے برعکس، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا وقار اس بلندی پر پہنچ چکا ہے جہاں خلیجی ممالک اور عالمی طاقتیں پاکستان کے ساتھ دفاعی اور معاشی معاہدوں کیلئے کوشاں ہیں۔ فیلڈ مارشل کی شبانہ روز محنت اور ’پاکستان ہمیشہ زندہ باد‘ کی پالیسی نے ثابت کر دیا ہے کہ جب قیادت مضبوط ہو تو چیلنجز خود بخود مواقع میں بدل جاتے ہیں۔ تاریخ ان کے ان اقدامات کو سنہری حروف میں لکھے گی، جنہوں نے نہ صرف ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز