پرائیویسی پالیسی

1- اردو کالمز کے ایڈمنز، مدیران کا کوئی خاص سیاسی یا فکری فہم ہوسکتا ہے، مگر ان کے نقطہ نظر سے ہٹ کر یا متصادم تحریروں کی اشاعت پر بھی پابندی نہیں، شرط یہ ہے کہ دلیل اور توازن سے بات کہی گئی ہو۔ 2- اردو کالمز کسی بھی موضوع و خیال کو موضوع بحث بنانے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کرے گا جب تک کہ وہ اردو کالمز کے مسلک اعتدال کو نقصان نہ پہنچا رہا ہو۔ 3- اردو کالمز تمام دینی و لادینی، سیاسی و غیر سیاسی یا دوسری تنظیموں اور قیادت کی حمایت و تنقید میں لکھی گئی ایسی تمام تحاریر کو شائع کرے گا جن میں تنقید و حمایت کے آداب ملحوظ رکھے گئے ہوں۔ 4۔ دلیل خود کو کسی دینی و لادینی، سیاسی و غیر سیاسی تنظیم یا کسی گروہ و مکتب فکر کا نمائندہ بننے سے بچنے کے لیے مخصوص تحاریر روکنے کا مجاز ہوگا- 5- دلیل تمام لکھاریوں کو فقہی و فروعی آراء اختیار کرنے اور انھیں اپنی تحریر میں شامل کرنے کی آزادی دیتا ہے لیکن کسی بھی فقہی و فروعی بحث پر مناظرے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہدایات برائے تحریر ادارہ ’اردو کالمز‘ کو تحریر ان پیج یا ورڈ فارمیٹ میں بھیجی جا سکتی ہے۔ کسی بھی موضوع پر تحریر قابل قبول ہوگی۔ ایسی تحریر جو پہلے کسی آن لائن میگزین یا اخبار میں شائع نہ ہوئی ہو، اولین فرصت میں شائع کی جائے گی ایسی تحریر قابل اشاعت نہیں ہوگی جو مکالمے کے بجائے باہمی منافرت میں اضافے کا سبب بنے۔ کسی بھی تحریر کی اشاعت کا صوابدیدی اختیار مجلس ادارت کا ہے۔ مدیر کو یہ حق حاصل ہے کہ تحریر کو قابل اشاعت بنانے کی خاطر قطع و برید سے کام لے۔ کسی تحریر کی اشاعت کے بعد اگر ادارہ ' اردو کالمز' کی مجلس ادارت محسوس کرے کہ یہ ادارتی پالیسی کے خلاف ہے یا مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتی تو اسے حذف کرنے کا اختیار ادارے کو حاصل ہے۔ تحریر بھجوانے سے قبل پروف ریڈنگ یقینی بنائیں اوراچھی طرح جائزہ لے لیں کہ املا کی غلطیوں سے پاک کردیا ہے۔ ایک اچھی تحریر کمپوزنگ کے غیرمعیاری ہونے کی وجہ سے مسترد ہو سکتی ہے۔ مصنف کی شناخت انتہائی اہم ہے۔ قلمی نام سے تحریر شائع ہو سکتی ہے لیکن ادارے کو اصل شناخت کا علم ہونا ضروری ہے۔ گمنام مصنفین کی تحریریں قابل اشاعت نہیں ہوں گی۔ تحریر کی اشاعت کے لیے مصنف کی تصویر بھی درکار ہوگی۔ خواتین اگر تصویر نہ دینا چاہیں تو ان کے لیے استثنی ہوگا تحریر اور تصویر بھیجنے کے لیے اس ویب سائٹ پر دیے گئے ویب فارم یا ادارے کے ای میل ایڈریس کا ستعمال کریں