تعلیم کسی بھی ملک کے مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں تعلیمی نظام صرف طلبہ کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں رہا بلکہ معیار، کردار سازی، جسمانی صحت اور عملی صلاحیتوں کی ترقی بھی اس کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ چین نے گزشتہ برسوں میں تعلیم کے شعبے میں بڑے پیمانے پر توسیع کے بعد اب معیار تعلیم کو مزید بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
چین کی وزارت تعلیم کے مطابق ملک نے دنیا کا سب سے بڑا بنیادی تعلیمی نظام قائم کر لیا ہے، جس کا مجموعی معیار اعلیٰ آمدنی والے ممالک کی اوسط سطح تک پہنچ چکا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق چین کے بنیادی تعلیمی نظام میں 4 لاکھ 30 ہزار کنڈرگارٹن، پرائمری اور سیکنڈری اسکول شامل ہیں، جہاں 22 کروڑ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ ایک کروڑ 57 لاکھ 70 ہزار سے زائد کل وقتی اساتذہ تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
چین کا تعلیمی نظام اب صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کی ہمہ جہت تربیت پر توجہ دے رہا ہے، جس میں اخلاقی، ذہنی، جسمانی، جمالیاتی اور عملی تربیت شامل ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 80 فیصد طلبہ نے ریاضی، چینی زبان، انگریزی اور سائنس جیسے بنیادی مضامین میں نصابی معیار حاصل کر لیا ہے، جبکہ 55 فیصد طلبہ نے بہترین یا اچھے درجے کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان نتائج کے باعث چین کو عالمی سطح پر مضبوط تعلیمی نظام رکھنے والے ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت صرف تعلیمی نتائج تک محدود نہیں۔ چینی طلبہ میں قومی شناخت، قومی سلامتی سے متعلق آگاہی، روایتی ثقافت سے وابستگی اور بہتر رویوں کے فروغ میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
وزارت تعلیم کے مطابق ملک بھر کے اسکولوں میں طلبہ کی کردار سازی اور صلاحیتوں کے فروغ کو بنیادی مقصد قرار دیا گیا ہے۔ اسی مقصد کے تحت اسکولوں اور سماجی ماحول کے درمیان بہتر رابطہ قائم کیا جا رہا ہے تاکہ طلبہ کے لیے ایک جامع تعلیمی ماحول تشکیل دیا جا سکے۔رواں موسم گرما کی ہی بات کی جائے تو چین کے مختلف علاقوں میں طلبہ کے لیے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں ثقافتی مطالعاتی دورے، عملی تجربات، سائنسی سرگرمیاں اور کھیلوں کے پروگرام شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد تعطیلات کے دوران طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں اور عملی تجربات میں اضافہ کرنا ہے۔
حالیہ برسوں میں چین کے اسکولوں میں صحت کو بھی تعلیمی نظام کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ "صحت کو ترجیح" دینے کی حکمت عملی کے تحت طلبہ کے لیے روزانہ کم از کم دو گھنٹے جسمانی سرگرمی اور کلاسوں کے درمیان 15 منٹ کے وقفے کو یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔اس پالیسی کے تحت طلبہ کے لیے کھیلوں کے مواقع بڑھائے گئے ہیں۔ وقفوں کے دوران طلبہ کو فعال رکھنے کے لیے راہداریوں اور مختلف مقامات پر گیندیں، رسیاں اور دیگر کھیلوں کا سامان رکھا جاتا ہے، جبکہ طویل وقفے کے دوران اجتماعی کھیلوں اور دوستانہ مقابلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
ان تعمیری کوششوں کا نتیجہ یوں برآمد ہوا کہ اکثر اسکولوں میں طلبہ کی جسمانی فٹنس کی شرح 100 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بہترین اور اچھے درجے کی کارکردگی دکھانے والے طلبہ کا تناسب بھی 90 فیصد سے زائد تک پہنچ گیا ہے۔
چین کے تعلیمی نظام کی یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید دور میں تعلیم کا مقصد صرف کتابی علم فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو علم، صحت، کردار اور عملی صلاحیتوں کے امتزاج کے ساتھ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔
بنیادی تعلیم کے شعبے میں چین کی توجہ اب رسائی سے آگے بڑھ کر معیار، مساوات اور طلبہ کی مکمل شخصیت سازی کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی نظام ہی کسی بھی ملک کی طویل المدتی ترقی کی بنیاد بنتا ہے، اور اسی سوچ کے تحت چین اپنی نئی نسل کی تربیت کو مستقبل کی قومی ترقی سے جوڑ رہا ہے۔
