مشرف کے دورِ آمریت میں سردار ذوالفقار خان کھوسہ پنجاب کےپارٹی صدر تھے۔ امارت ، سرداری اور بڑی سیاسی حیثیت کے حامل ،بڑے با وقار، تدبر کا شبہ تک نہ تھا، وضع داری کا بہت خیال رکھتے۔ ایک بار ملاقات کیلئے انہوں نے اپنے گھر پر دعوت دی تو راستے میں مجھےپارٹی کے ایک اور صاحب مل گئے ، میں نے انھیں بتایا کہ میں سردار ذوالفقار کھوسہ سے بغرض ملاقات جا رہا ہوں ، وہ صاحب بھی ہمراہ ہو لئے ۔ میں کھوسہ صاحب سے ملا تو میرے ہمراہ آنیوالے صاحب کو دیکھ کر انہیں کچھ حیرت ہوئی ، بہر کیف بہت محبت سے ملے تواضع کی ، ملاقات کے چند روز بعد ان سے پھر ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ جو شخص اس روز ساتھ تھا اسکو دیکھ کر آپ کے چہرے پر کچھ حیرت سی تھی پہلے تو بات کو ٹالتے رہے پھر کہنے لگے کہ یہ شخص میرے متعلق بد زبانی کرتا ہے ۔ میں نےحیرت زدہ ہو کر کہا کہ آپ کے رویے میں تو کوئی فرق نہیں تھا ، میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگے کہ وہ آپ کے ساتھ آیا تھا ویسے وہ صاحب اب وزیر ہیں ۔ سردار صاحب بات کے بہت پکے تھے ، مشرف دور میں میں نے لاہور کے علاقے ساندہ میں ایک جلسے کا انعقاد کروایا، اس میں سردار صاحب اور خواجہ سعد رفیق نے شرکت کرنا تھی ،پتہ چلا کہ سردار صاحب کی طبیعت ناساز ہے شاید وہ نہ آئیں۔ خواجہ سعد رفیق نے مجھ سے سردار صاحب کی آمد کے حوالے سے بات کی تو ان کوسردار صاحب کی ناسازی طبع کے متعلق بتایا اور کہا کہ وہ شاید نہ آ سکیں ، خواجہ سعد رفیق نےکہا کہ جب انہوں نے آنے کا وعدہ کر لیا ہے تو پھر جو مرضی ہو جائے وہ ضرور پہنچیںگے اور ایسا ہی ہوا ۔ اسی طرح میری شادی پر تشریف لانے والے میرے پہلے مہمان سردار صاحب ہی تھے۔ میری والدہ کے انتقال پر بھی موجود تھے ۔ مجھے جب مسلم لیگ ن کے خارجہ امور کے مرکزی کوارڈینیٹر کی ذمہ داری دی گئی تومیں سردار صاحب کی سفارتکاروں سے ملاقاتوں کا انعقاد بھی کرتا رہا ۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ سیاست دان سفارت کاروں کے سوالات اور تجزیوں سے گھبرا جاتے ہیں مگر سردار ذوالفقارکھوسہ ایسی شخصیت تھے کہ سفارت کار انکی مدلل گفتگو کے سحر میں جکڑے جاتے۔میں نے مشرف کی آمریت میں امریکی سفارت کاروں اور حزب اختلاف کے مرکزی قائدین یوسف رضا گیلانی ، سردار ذوالفقار کھوسہ ، پرویز ملک، عرفان قیصر شیخ ،منیر حسین گیلانی کی ملاقات کا انعقاد کیا اور اسی طرح کی اور بھی ملاقاتیں ہوتی رہیں ، سردار صاحب بہت متحرک شخصیت تھے جب جسٹس افتخار چوہدری کا کیس سپریم کورٹ میں سنا جا رہا تھا تو سردارصاحب بھی وہاںموجود تھے۔ عوام کا ایک جم غفیر تھا، مجھے نواز شریف صاحب کا فون موصول ہوا کہ اس وقت وہاں پر کتنے افراد موجود ہیں میں نے ایک تعداد بتائی تو سردار صاحب نے میری فوری تصحیح کی کہ اتنے نہیں بلکہ اتنے افراد موجود ہیںوہ مجمع پر نظر ڈالتے ہی تعداد کا اندازہ لگالیتے تھے ۔ جب جسٹس افتخار چوہدری اپنی معزولی کے بعد کراچی گئےاوروہاں اس دن کئی انسان جانوں سے گئےجن میں مسلم لیگ ن کے کارکنان بھی شامل تھے ان میں سے ایک کا جنازہ براستہ ایئر پورٹ لاہور آنا تھا تو کیپٹن صفدر نے جدہ سے فون کرکے مجھے کہا کہ جنازہ آپ ایئر پورٹ سے لیجئے ، میں نے سردار ذوالفقار خان کھوسہ اور خواجہ سعد رفیق کو فون کیا ، سردار صاحب اس وقت کھانا کھا رہے تھے اور معاملہ بہت شارٹ نوٹس پر تھا ۔ خواجہ سعد رفیق تو عوامی آدمی ہیں انکے پہنچ جانے کا تو امکان تھاہی مگر سردار صاحب بھی اس مختصر نوٹس پر ایئر پورٹ موجود تھے۔ میں نے جنازہ ایئر پورٹ سے وصول کیا،داتا دربار کے سامنے نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ ان سے آخری ملاقات برطانوی سفارتخانے کی ایک تقریب میں ہوئی ، مسلم لیگ ن کی قیادت سے محبت اور احترام کا جذبہ ان میں واضح طور پر نظر آ رہا تھا بس وہ کچھ اس کے پاس والوں سے ناراض تھے ۔ سردار صاحب کی یادیں تحریر کر رہا تھا تو ایک دوست نے ایک ترکی کے تھنک ٹینک سے لیا گیا تبصرہ جو پاکستانی اخبارات کی زینت بنا شیئر کیا کہ ان خیالات پر آپ کا کیا تبصرہ ہے ۔ میں نے تبصرہ دیکھا تو اس دوست کو ترکی کے تھنک ٹینک کا لنک ارسال کر دیا کہ بھائی میں اپنے کہے پر کیا تبصرہ کروں ؟ جواب آیا کیا مطلب ؟ بھائی مطلب یہ ہے کہ یہ میرا ہی ایک انٹرویو تھا جو ترکی کے معروف تھنک ٹینک نے شائع کیا اور اس کو ہی پاکستان میں ترک تھنک ٹینک کے تجزیہ کے طور پر شائع کر دیا گیا لیکن اس خاکسار کا ذکر تک نہ کیا گیا ۔ پاکستان ، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے امکانی اتحاد پر سوال کیا تھا کہ اسکے ایران جنگ کے تناظر میں مڈل ایسٹ کی سلامتی پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ اور اس جنگ کے بعد اس مجوزہ اتحاد کا کیا کردار ہوگا ؟جبکہ پاکستان اور ترکی کا ایران جنگ کے حوالے سے کیا کردارہے ؟ بات بالکل واضح ہے کہ اس چار رکنی اتحاد کا اثر جنوبی ایشیا ، مشرق وسطیٰ سے ہوتا ہوا صحرائے صحارا تک ہوگا اور اس میں بھرپور فوجی طاقت اور معاشی و توانائی کے وسائل موجود ہونگے ۔ یہ کوئی 3300 ارب ڈالر کی معیشت ہوگی ساتھ پچاس کروڑ کی آبادی اور وسیع علاقے پر اثرات۔ اسرائیل ہو یا انڈیا سب کیلئے ایک الارم ہوگا اور جب الارم ہوگا تو اس کی مخالفت بھی اسی سطح کی ہوگی اور جو ان ممالک میں فالٹ لائنز موجود ہیں ان کے استعمال کی کوشش ہوگی اور اس سے ہی ان تمام کو محفوظ رہنا ہوگا ۔ ویسے خیال رہے کہ یہ ابھی صرف تصورات ہی ہیں۔
14