155

پاکستان اور کیا کرے؟...

امریکہ اسرائیل کے ایران پر حملوں کے حوالے سے میں پہلے دن سے اس پختہ رائے کا اظہار کر رہا ہوں کہ پاکستان ایران کی حمایت کر رہا ہے اور سعودی عرب کی ہرگز یہ خواہش نہیں ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت اس وقت گر جائے کیوں کہ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اسرائیلی اس کے بعد کسی صورت بھی سعودی عرب کے موجودہ ڈھانچہ کو برقرار نہ رہنے دینے کے لئے ہر حد کو عبور کریں گا۔ ایران سعودی عرب کے لئے اس وقت ڈیفنس لائن کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ تادم تحریر صورت حال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنی دھمکی پر عمل پیرا ہونے کی بجائے گفت و شنید کی طرف رغبت دکھائی گئی ہے اور اب تو دنیا کا میڈیا بتا رہا ہے کہ یہ سب پاکستان کی ثالثی میں ہو رہا ہے۔

مگر ذرا ٹھہریئے پاکستان میں خالص طور پر سیاسی عناد کے سبب سے کچھ لوگ اپنے ملک کی ہی جڑیں کاٹنے میں اس دوران مصروف رہے، ایک الزامات کا ہلا بول دیا گیا کہ پاکستان اس جنگ میں ایک فریق کے طور پر امریکہ و اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے اور اس پروپیگنڈا پر یقین بلکہ زبان زد عام کرنے والوں میں اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد بھی شامل رہے حالاں کہ روز روشن کی طرح سے پہلے دن سے عیاں ہو رہا ہے کہ پاکستان اس جنگ سے ایران اور خطے کو محفوظ رکھنے کی غرض سے ہر ممکن کوشش کرنے میں لگا ہوا ہے اور یہ کوئی صرف حمایت برائے حمایت بات نہیں ہے اور نا صرف پاکستان کا ہی یہ دعویٰ ہے بلکہ ایران کی اعلیٰ ترین سطح سے اس کا ببانگ دہل اعتراف کیا جا رہا ہے۔ چلو تشکر تشکر پاکستان کے نعرے تو گزشتہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران لگے تھے مگر اس بار تو ایران کے وزیر خارجہ عراقچی نے پاکستانی قوم سے اردو میں براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے پاکستانی قوم اور حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر نے اپنی پہلی تقریر میں اپنے شہید والد کی پاکستان کے لئے پسندیدہ ترین ملک ہونے کا ذکر کرنا ضروری سمجھا، ایران کے اقوام متحدہ میں نمائندے نے روس چین کے ساتھ ساتھ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایران پر کیے جانے والے حملوں کی مذمت کی اور جب دوبارہ سے خلیجی ممالک پر حملوں کے حوالے سے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا تو تب بھی پاکستانی نمائندے عاصم افتخار نے اپنی تقریر میں دوبارہ امریکی و اسرائیلی حملوں کی مذمت کو دوہرایا۔

ایران پر حملے شروع ہوئے تو لڑائی میں فریق ممالک سے ہٹ کر ایران کے وزیر خارجہ نے جس ملک سے سب سے پہلے رابطہ قائم کیا وہ پاکستان تھا۔ ایرانی صدر نے بعد میں صدر پیوٹن اور وزیر اعظم شہباز شریف سے ہی ٹیلی فون پر طویل گفتگو کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے نوروز کی مبارک باد دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کی جانب سے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن کے دوران ایرانی صدر سے پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور اس کے فوری بعد نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جب کہ فنانشل ٹائمز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو صدر ٹرمپ سے گفتگو کی اور اب پاکستان کی کوششوں سے دوبارہ مذاکرات کی میز سجنے کو ہے۔ اب اس سب کے باوجود یہ الزام عائد کرتے چلے جانا کہ پاکستان ایک فریق کے طور پر ہے سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ یا تو یہ لوگ مجتبیٰ خامنائی، ان کے والد، صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی زیادہ باخبر ہیں یا صریح طور پر جھوٹ گھڑ رہے ہیں اور جھوٹ ہی گھڑ رہے ہیں۔

ابھی چند دن قبل میری ایرانی سفارت کاروں سے ملاقات ہوئی تو ان سے میں نے سوال کیا کہ جو لوگ اس صورت حال کو مخصوص مکتب فکر کا رنگ دے رہے ہیں ان کے حوالے سے آپ کا کیا خیال ہے؟ جواب بڑا معقول تھا کہ آپ خود بتائیں کہ ایران کے مفاد میں یہ ہے کہ پاکستان کی پوری قوم اس سے ہمدردی رکھتی ہو یا صرف ایک مخصوص مکتب فکر تک اس کی حمایت محدود ہو جائے، ایران کے مخالفین تو خواہش ہی یہ رکھتے ہیں کہ یہ معاملہ مسلکی رنگ اختیار کر جائے اور جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ ہرگز ایران کی فکر کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں۔ اگر ایران کی نمائندگی نہیں کر رہے ہیں تو پھر کیا یہ لوگ پاکستان میں بسنے والے کسی مکتب فکر کی نمائندگی کر رہے ہیں تو اعداد و شمار کی روشنی میں اس کا جواب بھی نفی میں آئے گا۔ ایم ڈبلیو ایم نے 2013 کے عام انتخابات میں حصہ لیا اور پورے ملک سے ان کو کوئی بیالیس ہزار ووٹ ہی مل سکے۔ گلگت بلتستان اسمبلی میں براہ راست نشستیں 24 ہیں۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے 2015 کے انتخابات میں ایم ڈبلیو ایم اور اسلامی تحریک پاکستان کو دو، دو جبکہ جے یو آئی ایف کو ایک نشست ملی جبکہ 2020 کے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں یہ تینوں جماعتیں ایک ایک نشست ہی حاصل کر سکی۔ خیال رہے کہ 2020 کے انتخابات کے وقت پاکستان میں عمران خان کی حکومت قائم تھی۔

اب ان انتخابی اعداد و شمار کو پیش نظر رکھتے ہوئے تو ان جماعتوں کو گلگت بلتستان کے عوام کی نمائندہ نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ جب یہ حقیقت سامنے والی بات کی طرح موجود ہے تو پھر گلگت بلتستان میں ہونے والے کسی بھی جلسے جلوس کے حوالے سے اتنی اعلیٰ سطح پر ان لوگوں کو بلا کر خطاب کرنے کی بھلا کیا ضرورت تھی؟ دوسرا یہ کہ یہاں تک تو ٹھیک بات ہے کہ پاکستان کے ادارے آپس میں یکجان ہو کر ریاستی امور میں اقدامات کریں مگر سیاسی لوگوں سے تو سیاست دانوں کو ہی نبٹنے دینا چاہیے یہ ان کا ہی کام ہے سب جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں انتخابات قریب ہیں اور اس ملاقات کے امور کو اچانک جس طرح سے اچھالا گیا اس سے آئندہ انتخابات میں ایک نعرہ حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے۔ سیاست دان پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے ہیں ابھی ایک فریق دوسرے کو برا بھلا کہہ کر فارغ ہی ہوا ہوتا ہے تو دوسرا اٹھ کر کہتا ہے کہ ہم ان سے بات چیت کے لئے تیار ہیں کیوں کہ سیاسی ذہن کی ایسی ہی تربیت ہوتی ہے اسی طرح سے دوسرے اداروں میں بھی ایک مزاج تشکیل دیا جاتا ہے جو کہ اس ادارے کی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے جب اس مزاج کے ساتھ سیاسی امور میں گفتگو کی جاتی ہے تو پھر لا محالہ مسائل جنم لیتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے امور پر بہت ہی ضرورت تھی تو بس ایک پریس نوٹ جاری کر دیتی کہ اس صورت حال میں قانونی یہ پوزیشن ہے اور اس پر عمل کیا جائے گا جیسے ان لوگوں کے مجرموں کو بھی ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے جن کی وجہ سے کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر بے گناہ انسانوں کو جان سے جانا پڑا۔

خدا کرے کہ اس امریکہ اسرائیل ایران جنگ سے جلد از جلد نجات نصیب ہو اور پاکستان اس کے لئے اپنا بھرپور کردار بھی ادا کر رہا ہے اور بس یہ کردار ان کو ہی نظر نہیں آ رہا ہے کہ جن کی آنکھوں پر سیاسی مخالفت کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔

بشکریہ ڈان ںیوز