ہم اُس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جن کے لئے سرکاری ٹی وی پر رات آٹھ بجے والا اردو ڈرامہ دیکھنا سب سے بڑی تفریح ہوتا تھا. ہفتہ بھر انتظار رہتا ، ڈرامے کی کہانی پر اندازے لگائے جاتے ، اخباروں میں شائع ہونے والے تبصرے شوق سے پڑھے جاتے۔ اشفاق احمد ، منو بھائی ،مستنصر حسین تارڑ ، امجد اسلام امجد،اصغر ندیم سید اور نور الہدیٰ شاہ جیسی قد آور علمی ادبی شخصیات کے تحریر کردہ زندگی کے اسباق سے بھرے یہ ڈرامے خاص مقصدیت کے حامل ہوتے تھے ، مختلف سماجی موضوعات پر آگاہی کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے کم پڑھے لکھے لوگوں کی تربیت کا بھی اہتمام ہوتا تھا۔
وقت بدلا بہت سے چینل آگئے، سرکاری ٹی وی پر سیاسی بھرتیوں نے ادارے کو تخلیقی صلاحیت سے محروم کرکے کلرک خانہ بنا دیا ،مارکیٹ میں دستیاب کم درجے کا چمکتا تیار مال خریدنے کی روش چلی جس میں سب مسالے تھے مگر مقصد نہیں تھا، اس سب کے باوجود ڈرامے سے میری محبت کم نہ ہوسکی ہر سہ ماہی مجھے کسی نہ کسی چینل پر کوئی نہ کوئی قابل دید سیریل مل ہی جاتی تھی، پچھلے کچھ عرصے سے عجیب سی یکسانیت نے دل کو ملول کر رکھا تھا۔ ایک جیسے موضوعات ،امیر طبقے کی نمائندگی ،دولت کا دکھاوا اور بے مقصد اسکرپٹ کے درمیان کیس نمبر 9 نے سارے گٍلے شکوے دور کر دئیے ،اُمید کے چراغ دوبارہ جگمگا اٹھے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ موبائل کیمروں اور سوشل میڈیا آنے کے بعد کتنی لڑکیوں کو اُنکی تصاویر اور عام ویڈیوز کو غلط رنگ دے کر خودکشی پر مجبور کیا گیا یا کسی اپنے نے غیرت کے نام پر انھیں مار دیا۔سائبر کرائم کے گرد گھومتی ایک بہت عمدہ سیریل ’ایک اور پاکیزہ‘جو بہت معتبر اور منفرد ڈرامہ نگار بی گل کے قلم اور بہت سی کامیاب سیریلز کرنے والے کاشف نثار کی ڈائریکشن کا شاہکار ہے ، آج کل جیو ٹی وی پر دکھائی جارہی ہے ۔ ڈرامے کی کہانی جس طرح آگے بڑھتی ہے اور دل و دماغ پر اثر کرتی ہے اسے صرف محسوس کیا جاسکتا ہے بیان نہیں کیا جا سکتا ۔
اس کا پوسٹر اس لئے نظر انداز ہوگیا کہ نام دیکھ کر احساس ہوا یہ بھی کوئی ساس نندوں والی کاوش ہوگی ، پھر ڈرامے کی مصنفہ اور ڈائریکٹر کا نام بھی نہ پڑھ سکی . اس ڈرامے کی طرف توجہ دلانے کا سہرا بہت منجھے اداکار اور صوفیا منش انسان نور الحسن کا ہے جن کے کہنے پر میں نے تمام اقساط یو ٹیوب پر دیکھیں ۔ یقین کریں ہر جملے کے ساتھ ہر منظر بھی دل میں اتر گیا، عورت کی خاموشی سے جھانکتا درد روح میں سرایت ہو گیا۔
پچھلے دنوں اس ڈرامے کی کہانی ، ڈائریکشن اور سماج میں اس کی ضرورت کے حوالے سے ایک ریسٹورینٹ اوروجدان کی طرف سے ایک اکٹھ کیا گیا جہاں مصنفہ بی گل ،ڈائریکٹر کاشف نثار سے مکالمہ کرکے بہت اچھا لگا ، سینئر اداکار نورالحسن، ولن کا کردار نبھانے والے علی جان بھی اس محفل میں شریک تھے ۔ ڈاکٹر غزالہ عرفان، سید مزمل شاہ، شاہد ریاض گوندل ، آصف اقبال ، چوہدری محمد اکرم ، ڈاکٹر مومنہ ، کرکٹر احمد شہزاد اور نبیل احمد نے اس ڈرامے کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کئے اور کشف فاؤنڈیشن اور جیو ٹی وی کی کاوش کو بھرپور سراہا۔
آپ سب سے گزارش ہے ایک نہایت اہم اور حساس موضوع پر لکھا یہ ڈرامہ ضرور دیکھئے اور خصوصاََ اپنے بچوں کو بھی دکھائیے تاکہ ہم اپنی نئی نسل کو خیر اور شر کے رستوں میں سے انتخاب میں مدد دے کر ایک مثبت معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ جیو ٹی وی کو مبارک کہ اس نے کیس نمبر 9 کے بعد دوسرا بڑا معرکہ انجام دیا، یقینا دیگر چینل بھی اب مقصدیت کو ترجیح دیتے ہوئے آج درپیش مسائل کو موضوع بنانے کی کوشش کریں گے۔
ہمارا معاشرہ نصیحت اور تلقین سے چٍڑتا ہے ورنہ اتنے مبلغین کی کاوشوں کا ہمارے رویوں پر اثر ضرور ہوتا ، ایسے میں ڈرامے کو وسیلہ کرکے سماجی برائیوں کی نشان دہی اور اٍن کے ازالے کی کوشش بہت کارگر ہو سکتی ہے۔
