بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں مالی تعاون اور اس کی واپسی محض اقتصادی معاملہ نہیں ہوتا بلکہ اعتماد، شراکت داری اور سفارتی حکمت کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان حالیہ مالی لین دین اور اس کی واپسی اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے بعض حلقے جذباتی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ اس کی اصل نوعیت ذمہ داری، شفافیت اور باہمی قومی احترام پر مبنی ہے۔ پاکستان کو گزشتہ برسوں میں ادائیگیوں کے توازن کے دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات کے باعث دوست ممالک، خصوصاً یو اے ای، سعودی عرب،چین اور قطر نے پاکستان کو وقتی سہارا فراہم کیا۔ اس ضمن میں یو اے ای نے پاکستان کے مرکزی بینک میں تقریباً 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس رکھے، جنہیں وقتاً فوقتاً رول اوور کیا جاتا رہا۔ اسی طرح سعودی عرب نے بھی 3 ارب ڈالر کے ذخائر اور تیل کی مؤخر ادائیگی کی سہولت فراہم کی جبکہ قطر کے ساتھ توانائی کے شعبے میں طویل المدتی معاہدے موجود ہیں۔ یہ مالی تعاون کسی یکطرفہ احسان کے بجائے ایک باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کا حصہ ہوتا ہے۔ عالمی مالیاتی نظام میں یہ ایک معمول کی بات ہے کہ ممالک ایک دوسرے کو قلیل مدتی مالی سہولت فراہم کرتے ہیں، جس پر طے شدہ منافع یا شرح سود ادا کی جاتی ہے۔ پاکستان نے بھی یو اے ای کو اسی اصول کے تحت منافع ادا کیا اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا۔ مزید برآں، پاکستان کی درخواست پر یو اے ای نے کئی بار ان ڈپازٹس کی واپسی میں مہلت دی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہے۔اب جب یو اے ای نے اپنی رقم کی واپسی کا تقاضا کیا ہے تو پاکستان کی جانب سے اسے خوش دلی سے واپس کرنا ایک ذمہ دار ریاست کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ اس عمل سے قلیل مدت میں مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ اقدام پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ، عالمی اعتماد اور سفارتی ساکھ کے لیے نہایت مثبت ثابت ہوگا۔ عالمی مالیاتی ادارے، جیسے آئی ایم ایف اور عالمی بینک، بھی انہی ممالک کو ترجیح دیتے ہیں جو اپنی مالی ذمہ داریوں کو بروقت پورا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے، سوشل میڈیا کے کچھ حلقے اس معاملے کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ بعض اکاؤنٹس، جو یا تو لاعلمی کا شکار ہیں یا دانستہ طور پر گمراہ کن بیانیہ پھیلا رہے ہیں، اس مالی معاملے کو حالیہ ایران امریکہ کشیدگی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ پاکستان کے سفارتی مفادات کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر ملک اپنے قومی مفادات کے تحت فیصلے کرتا ہے۔ یو اے ای کا اپنی رقم کی واپسی کا مطالبہ ایک معمول کی مالیاتی کارروائی ہے، جسے کسی جغرافیائی یا عسکری تنازعے کے ساتھ جوڑنا بے بنیاد ہے۔ اسی طرح پاکستان کا یہ فیصلہ کہ وہ اس رقم کو واپس کرے، اس کے مالیاتی نظم و ضبط کا مظہر ہے، نہ کہ کسی دباؤ یا بیرونی ایجنڈے کا نتیجہ۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ توازن اور اعتدال پر مبنی رہی ہے۔ ایران، سعودی عرب، قطر اور یو اے ای جیسے برادر ممالک کے ساتھ تعلقات میں پاکستان نے ہمیشہ ایک محتاط اور متوازن حکمت عملی اپنائی ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کی طویل سرحد، توانائی کے امکانات اور ثقافتی روابط اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ اقتصادی، مذہبی اور دفاعی تعلقات گہرے ہیں۔ قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدے پاکستان کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان ان تمام ممالک کے مفادات کا احترام کرتا ہے اور کسی ایک کے حق میں دوسرے کو نظر انداز نہیں کرتا۔ اس پالیسی کا مقصد خطے میں استحکام کو فروغ دینا اور اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ تاہم، پاکستان کے کچھ مخالف عناصر اس متوازن پالیسی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور سوشل میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں اطلاعات کی جنگ ایک حقیقت بن چکی ہے۔ مختلف ممالک اور گروہ اپنے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ عوام معلومات کو پرکھنے کی صلاحیت پیدا کریں اور ہر خبر یا تجزیے کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کریں۔ اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت بتدریج استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔سٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں حالیہ مہینوں میں بہتری آئی ہے، جبکہ برآمدات اور ترسیلات زر میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جنگ کی وجہ سے ترسیلات زر متاثر ضرور ہوئی ہیں تاہم مالی سال 2025-26 میں ترسیلات زر تقریباً 30 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ اسی طرح، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات نے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔ ایسے حالات میں یو اے ای کو رقم کی واپسی ایک چیلنج ضرور ہے، مگر یہ ناقابلِ برداشت نہیں۔ اگر پاکستان اس عمل کو کامیابی سے مکمل کرتا ہے تو یہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو مزید مضبوط کرے گا، اور مستقبل میں مزید سرمایہ کاری کے دروازے کھولے گا۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات محض مالی لین دین تک محدود نہیں ہیں۔ یہ رشتہ تاریخ، ثقافت، مذہب اور باہمی اعتماد پر قائم ہے۔ لاکھوں پاکستانی یو اے ای میں روزگار کے مواقع سے مستفید ہو رہے ہیںاور ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھیجتے ہیں۔ یہ انسانی اور اقتصادی روابط دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب رکھتے ہیں۔لہٰذا، اس مالی معاملے کو سنجیدگی اور حکمت کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جذباتی ردعمل یا غیر مصدقہ بیانیے نہ صرف حقیقت کو مسخ کرتے ہیں بلکہ قومی مفادات کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے اپنے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنائے اور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس عمل میں مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔یہی رویہ ایک مضبوط، خوددار اور باوقار قوم کی پہچان ہوتا ہے۔
46