11

واٹس ایپ اور فیس بک میسنجر کے بعد بیرونِ ملک پاکستانیوں کی بدلتی ہوئی زندگی

 

دنیا میں ٹیکنالوجی نے انسانوں کے درمیان فاصلے ضرور کم کیے ہیں، لیکن بعض اوقات یہی آسانیاں نئی قسم کی مشکلات بھی پیدا کر دیتی ہیں۔ ماضی میں جب انٹرنیٹ عام نہیں تھا اور نہ ہی مفت کالنگ ایپس موجود تھیں، تو بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانیوں کا اپنے خاندان اور دوستوں سے رابطہ محدود ہوا کرتا تھا۔ بین الاقوامی کالیں مہنگی تھیں، اس لیے لوگ صرف خاص مواقع پر ہی فون کرتے تھے۔ ایک مختصر گفتگو میں خیریت دریافت کی جاتی، گھر والوں کی ضروری باتیں ہوتیں اور پھر کال ختم ہو جاتی۔ اس زمانے میں نہ ہر روز رابطہ ممکن تھا اور نہ ہی ہر شخص بلا جھجھک مالی مدد مانگنے کی ہمت کرتا تھا۔

 

پھر وقت بدلا، اسمارٹ فون آئے، انٹرنیٹ سستا ہوا، اور واٹس ایپ اور فیس بک میسنجر جیسی مفت کالنگ سروسز نے دنیا کو ایک دوسرے کے بہت قریب کر دیا۔ بظاہر یہ سہولت بہت فائدہ مند تھی۔ ماں اپنے بیٹے کو روز دیکھ سکتی تھی، بہن بھائی ایک دوسرے سے ہر وقت رابطے میں رہنے لگے، اور دوستیاں مزید مضبوط محسوس ہونے لگیں۔ مگر اس آسان رابطے کے ساتھ ایک ایسا سماجی دباؤ بھی پیدا ہوا جس نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کی زندگی کو کئی حوالوں سے مشکل بنا دیا۔

 

پہلے اگر کسی کو بیرونِ ملک موجود رشتہ دار سے بات کرنی ہوتی تو وہ سوچ سمجھ کر کال کرتا تھا کیونکہ کال مہنگی ہوتی تھی۔ اب چونکہ واٹس ایپ اور میسنجر پر کال اور ویڈیو کال مکمل مفت ہیں، اس لیے دن رات کسی بھی وقت رابطہ کر لیا جاتا ہے۔ بہت سے اوورسیز پاکستانی شکایت کرتے ہیں کہ انہیں سکون سے رہنے کا موقع نہیں ملتا۔ کبھی کوئی دوست کال کر رہا ہوتا ہے، کبھی کوئی دور کا رشتہ دار میسج بھیج رہا ہوتا ہے، اور کبھی کسی پرانے جاننے والے کو اچانک یاد آ جاتا ہے کہ “بھائی، ایک چھوٹی سی مدد چاہیے تھی۔”

میرے پاس  ایسے ایسے لوگوں کی کالز یا میسجز آتے ہیں جنہیں میں صرف نام سے جانتا ہوں یا کبھی زندگی شاید ایک آدھ بار ہی ملاقات کوئ ہوگی ، بچپن کے کلاس فیلوز ، پرانے محلے دار ، انتہائ دور کے رشتہ دار ، قریبی دوست احباب ایسے ایسے بہانے بناتے ہیں کہ شیطان بھی سوچتا ہوگا کہ ! کون لوگ ہیں یہ ؟ جب تک یہ دونوں سروسز مہیا نہیں تھیں تو ان میں سے تو کجا میرے سگوں کی کال نہیں آتی تھی ، میں یہاں کئ دہائیوں سے مقیم ہوں اور اس دوران میرے والدین کا پاکستان میں انتقال ہوا تو کسی کا فون نہیں آیا تعزیت کے لئے کیونکہ ان کا پیسہ خرچ ہوجاتا ، میری شادی ہوگئ ، میرے بچے ہوئے مگر کسی نے فون نہیں کیا مبارک باد کے لئے ۔ 

پاکستان سے کوئ بھی شخص مالی مدد مانگتے ہوئے شاید یہی  سوچتا ہے کہ بس وہ ہی ایک اکیلا ہے جو مانگ رہا ہے ، دماغ اتنا تیز ہوتا ہے کر جس سے بھی تقاضہ کرتے ہیں پہلے ہی وہ وہاں کی کرنسی کا ریٹ نکل لیتے ہیں کہ ریال ہو یا درہم ڈالرز ہوں یو روبل ۔ اور وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے پانچ سو ڈالرز پانچ سو روپے کی طرح ہیں ، نہیں ایسا نہیں ہے ہمارے لئے پانچ سو ڈالرز کی اہمیت اس سے زیادہ جتنی آپ کے نزدیک ہے کیونکہ ہم ڈالرز میں کماتے ہیں تو ڈالرز میں ہی خرچ کرتے ہیں پاکستانی روپیہ میں نہیں 

 

یہ “چھوٹی سی مدد” اکثر مالی مدد کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ کوئی کاروبار کے لیے پیسے مانگتا ہے، کوئی بیماری کا بہانہ بناتا ہے، کوئی بچوں کی فیس کا ذکر کرتا ہے، اور کوئی قرض لے کر واپس کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ کئی لوگ جذباتی انداز اپناتے ہیں تاکہ سامنے والا انکار نہ کر سکے۔ بیرونِ ملک پاکستانی چونکہ اپنے خاندان سے محبت رکھتے ہیں، اس لیے اکثر مجبوراً مدد کرتے رہتے ہیں، مگر مسلسل ایسی درخواستیں ذہنی دباؤ کا سبب بن جاتی ہیں۔ لوگ حج اور عمرہ کا بہانہ بناکر مانگ رہے ہوتے ہیں تو بقرعید پر قربانی کا رونا رو کر تو بھائ مانگ کر نہ تو حج ہوتا ہے اور نہ ہی قربانی کیونکہ اگر آپ کی استطاعت نہیں ہے تو یہ دونوں فرائض آپ پر نہ تو فروض ہیں اور نہ ہی واجب ۔ کوئ کسی بھی غریب کی بیٹی کی شادی کا بہانہ بناتا ہے تو کوئ بچوں کی فیس کا ۔ یقیناً بیرون ملک رہنے والا ہر پاکستانی ایسی ہی صورتحال سے گزر رہا ہوگا ۔ 

گروپس کے گروپس بنے ہوئے ہیں واٹس ایپ پر ، کوئ پچاس لوگوں کا گروپ تو کوئ دو سو کا گروپ ، اسکول کا گروپ ، کالج کا گروپ ، محلے کا گروپ تو رشتے داروں کا گروپ ، اب ان میں سے تیس پینتیس فیصد لوگ بیرون ملک مقیم ہیں بس شکار آسان کوئ آسٹریلیا میں ہے تو کئ کینڈا میں ، کوئ دبئ میں ہے تو کوئ انگلینڈ میں تو بس کانٹا پھینکے جاؤ کوئ تو مچھلی ہاتھ لگے گی ۔ 

 

اس صورتحال کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ پاکستان میں رہنے والے بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ تصور بیٹھ چکا ہے کہ جو شخص بیرونِ ملک رہتا ہے وہ لازماً بہت امیر ہوتا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ بیرونِ ملک زندگی کتنی مہنگی ہے، وہاں کرایہ، ٹیکس، بل، انشورنس، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات کس قدر زیادہ ہوتے ہیں۔ اکثر اوورسیز پاکستانی دن رات محنت کرتے ہیں، کئی کئی گھنٹے کام کرتے ہیں، تب جا کر وہ اپنے خاندان کو سہولتیں فراہم کر پاتے ہیں۔ لیکن جب ہر دوسرے دن کسی کا پیغام آ جائے کہ “یار کچھ پیسے بھیج دو”، تو انسان تھکن اور پریشانی محسوس کرنے لگتا ہے۔

 

واٹس ایپ اور میسنجر نے ایک اور مسئلہ بھی پیدا کیا ہے، اور وہ ہے “ہر وقت دستیاب ہونے” کا احساس۔ اگر کوئی شخص کال نہ اٹھائے تو فوراً شکوے شروع ہو جاتے ہیں کہ “اتنا بڑا آدمی بن گیا ہے؟”، “اب تو بات بھی نہیں کرتا”، یا “بیرونِ ملک جا کر بدل گیا ہے۔” حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ شخص کام میں مصروف ہوتا ہے، ذہنی دباؤ میں ہوتا ہے یا آرام کرنا چاہتا ہے۔ مگر مفت کالنگ نے لوگوں کی توقعات اس قدر بڑھا دی ہیں کہ اب ہر وقت جواب دینا ایک سماجی ذمہ داری بن چکا ہے۔

 

کئی اوورسیز پاکستانی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ پہلے جب رابطہ کم تھا تو رشتوں میں ایک احترام اور فاصلہ موجود تھا۔ لوگ صرف ضروری بات کرتے تھے اور فضول تقاضے کم ہوتے تھے۔ اب مسلسل رابطے نے بعض رشتوں میں خلوص کم اور مفاد زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ بعض دوست صرف اس وقت یاد کرتے ہیں جب انہیں مالی مدد چاہیے ہوتی ہے۔ کچھ رشتہ دار صرف اپنی ضرورت پوری ہونے تک محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس رویے سے بیرونِ ملک رہنے والے افراد کے دل میں مایوسی پیدا ہوتی ہے۔

 

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ٹیکنالوجی نے جہاں محبتوں کو قریب کیا، وہیں مفاد پرستی کو بھی آسان بنا دیا۔ پہلے کسی کو پیسے مانگنے کے لیے سوچنا پڑتا تھا، اب صرف ایک وائس نوٹ یا ویڈیو کال کافی ہوتی ہے۔ کئی لوگ جذباتی کہانیاں سنا کر مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض اوقات اوورسیز پاکستانی خود قرض لے کر دوسروں کی مدد کرتے رہتے ہیں تاکہ خاندان ناراض نہ ہو، مگر اندر ہی اندر وہ ذہنی بوجھ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

 

اس مسئلے کا حل مکمل رابطہ ختم کرنا نہیں، بلکہ حدود مقرر کرنا ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی مالی اور ذہنی صحت کو ترجیح دیں۔ ہر درخواست ماننا ضروری نہیں ہوتا۔ اگر کوئی واقعی ضرورت مند ہو تو مدد ضرور کرنی چاہیے، لیکن ہر شخص کی عادت بن جانا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح خاندان اور دوستوں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ بیرونِ ملک رہنے والا ہر شخص دولت میں نہیں کھیل رہا ہوتا۔ وہ بھی مشکلات، تنہائی، محنت اور دباؤ سے گزر رہا ہوتا ہے۔

 

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ واٹس ایپ اور فیس بک میسنجر نے رابطے کو آسان ضرور بنایا، مگر اس آسانی نے بیرونِ ملک پاکستانیوں پر ایک نیا سماجی اور مالی دباؤ بھی ڈال دیا۔ پہلے لوگ صرف خیریت پوچھنے کے لیے فون کرتے تھے، آج اکثر رابطوں کے پیچھے کوئی نہ کوئی مطلب چھپا ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود بری نہیں، مگر اس کا استعمال اور انسانی رویے یہ طے کرتے ہیں کہ وہ نعمت بنے گی یا آزمائش ۔ 

بشکریہ اردو کالمز