بری امام اور سید پور میں مکانات کی مسماری کے بعد کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد کی جانب سے ہاؤسنگ سکیموں کو نوٹسز نے دارالحکومت اور مضافاتی علاقوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور عوام حیران ہیں کہ حکومت پاکستان کی ناک کے نیچے یہ کیا ہو رہا ہے؟ سی ڈی اے کے عملے کی سختی , پولیس اور بلڈوزر کی طاقت کے استعمال سے حکومت کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ ایسی مزید کارروائیاں ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
سی ڈی اے کے پاس بری امام اور سید پور کے سینکڑوں مکینوں کے مکانات مسمار کرنے کا قانونی جواز ہو سکتا ہے لیکن پھر بھی متاثرین نے ایسا تاثر چھوڑا ہے جس سے بالعموم اتھارٹی اور حکومت کا وقار مجروح ہوا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام ہاؤسنگ سوسائٹیاں قانونی نہیں ہیں اور سی ڈی اے کے مقرر کردہ قواعد و ضوابط پر پورا نہیں اترتیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ملک میں تمام کاروبار زمینی قوانین کے مطابق چلائے جائیں اور واجب الادا محصول بغیر کسی تاخیری حربے کے ادا کیا جائے۔
لیکن، یہ بھی ایک سنگین معاملہ ہے کہ تمام سوسائٹیز برابر نہیں ہیں اور سی ڈی اے سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سوسائیٹیز کو کیس ٹو کیس دیکھیں، مجموعی طور پر ایک جگ رکھ کرنہیں۔ بنیادی طور پر اسکیموں کی کم از کم دو اقسام میں درجہ بندی ہونی چاہیے۔
1- بڑے پیمانے پر تجارتی مقاصد کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹیز۔ انہوں نے اپنی ملکیتی اراضی سے زیادہ فائلیں فروخت کیں اور پلاٹ حوالے نہیں کئے۔ وہ ڈویلپمنٹ چارجز وغیرہ کے نام پر مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے سرمایہ کاروں کا استحصال کرتے ہیں۔ ان بڑی سکیموں کے زیادہ تر منتظمین اسلام آباد کے مقامی باشندے نہیں ہیں۔ کچھ ملک کے دوسرے حصوں سے آئے اور کچھ کشمیر سے۔ کچھ کا مجرمانہ ریکارڈ ہے اور ان کے کاروبار میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہیں۔
2- وہ اسکیمیں جو کہ اصل میں اسکیمیں نہیں ہیں بلکہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں اسلام آباد کے منسلک دیہات کے مقامی شہریوں کی آبائی زمینوں پر شروع کی گئی ہیں۔ ایسی کالونیوں کے منتظم زمین کے واحد مالک ہوتے ہیں جو اپنی زمین فروخت کرتے ہیں۔ یہ ایک باقاعدہ ہاؤسنگ اسکیم کی طرح نہیں ہے بلکہ یہ صرف دو فریقوں کے درمیان زمین کی خریدوفروخت ہے۔ فریقین حکومت کو فیس ادا کرکے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے قواعد کے مطابق پلاٹ رجسٹر کرواتے ہیں۔ ایسی کالونیوں میں خریدار کا کوئی استحصال نہیں ہے اور نہ ہی کسی خریدار کی طرف سے زمین بیچنے والے کے خلاف کوئی شکایت ہے۔
یہ دوسری قسم چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف کی خصوصی توجہ کی مستحق ہے کیونکہ انہوں نے اپنی آبائی زمین لوگوں کو بیچی اور خریدار متوسط طبقے سے ہیں جو اپنے گھر بنانے کے لیے چھوٹے پلاٹوں کے خواہاں ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے زندگی کی کمائی خرچ کی ہے۔ وہ پلاٹوں کی ضبطی یا اپنے بچوں کے لیے بنائے گئے مکانات کو مسمار کئے جانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان چھوٹے ہاؤسنگ پراجیکٹس میں پلاٹ خریدنے والوں کو بچانے کے لیے کیا کیا جائے؟
جواب بہت آسان ہے۔ جیسا کہ کہا گیا کہ ریاست شہریوں کی ماں کی طرح ہوتی ہے۔ سی ڈی اے ان کے کیس انسانی ہمدردی کے ساتھ الگ سے دیکھ سکتا ہے۔
ان چھوٹی ہاؤسنگ سکیموں کے ایڈمنسٹریٹر سی ڈی اے کی چھتری میں آنے کو تیار ہیں۔ وہ رجسٹریشن فیس اور دیگر ٹیکس ادا کرنے کو تیار ہیں جو بھی سی ڈی اے ان پر عائد کرتا ہے۔ یہ قدم سی ڈی اے، ان زمینوں کے مالکان اور یہاں پلاٹ خرید کر گھر بنانے والے غریب لوگوں سمیت تمام فریقین کے مفاد میں ہوگا۔
سی ڈی اے نے انہیں ایک ہفتے کا نوٹس دیا ہے۔ ان چھوٹے ہاؤسنگ پراجیکٹس کے مالکان کو ایک گروپ میں جمع کیا جا سکتا ہے اور چیئرمین سی ڈی اے سے ملاقات کا اہتمام کیا جا سکتا ہے جس میں فریقین اتھارٹی کے متعلقہ حکام کی تجاویز کے مطابق راستہ نکالنے پر بات کر سکتے ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند دنوں میں عید آنے والی ہے اور اس پرمسرت موقع پر ان سکیموں کے مکین خوف و ہراس کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے سی ڈی اے کے بری امام اور سید پور آپریشن دیکھے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعظم شہباز شریف سے معاملے کو ہمدردی سے دیکھنے کی اپیل کی ہے۔
پاکستان کو پہلے ہی 9 سے 10 ملین مکانات کی شدید کمی کا سامنا ہے، آبادی میں تیزی سے اضافے اور دیہی سے شہری نقل مکانی کی وجہ سے سالانہ 4 لاکھ مکانات مزید درکار ہو تے ہیں۔ بحران غیر متناسب طور پر کم آمدنی والے گروہوں پر اثر انداز ہوتا ہے، جس میں 47 فیصد سے زیادہ شہری گھرانے پرہجوم غیر رسمی بستیوں (کچی آبادیاں) میں یا بنیادی ڈھانچے کے بغیر رہتے ہیں۔
ان حالات میں اپنی مدد آپ کی ان چھوٹی ہاؤسنگ سکیموں کے خلاف کوئی بھی سخت کارروائی اس پریشانی میں مزید اضافہ کرے گی اور ملک کے دارالحکومت میں داخلی طور پر بے گھر افرادکا مسئلہ کھڑا کر نے کے علاوہ کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلے گا
12