266

ڈوبتا ہوا سرمایہ

    معاشی بحران غیر ملکی سرمایہ کاری کوٹھوکریں مارمارکر ملک بدر کرتا جا رہا ہے ،عوام کی اکثریت جو غریب ،مزدور اور متوسط طبقے پر مشتمل ہے بدحالی کی انتہائیں دیکھنے پر مجبور ہے،ان کیلئے  نظام زندگی کو رواں رکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے ،لاکھوں کی تعداد میں ہنر مند اور تعلیم یافتہ نوجوان تیزی کے ساتھ ملک سے نکلتے جا رہے ہیں اور اس کوشش میں بہت سے اپنی جانیں بھی گنوا رہے ہیں ،ایک تازہ خبر کے مطابق یونان کے قریب تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوبنے سے سینکڑوں افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے ہیں جن میں پاکستانیوں کی بھی ایک کثیر تعداد شامل ہے ،رواں سال میں ایسے کئی المناک واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں لوگوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں،بتایا جاتا ہے کہ اس کشتی میں پانچ سو سے زائد افراد سوار تھے جن میں ایک بڑی تعداد پاکستانی تارکین وطن کی بھی تھی ،سینکڑوں افراد میں سے زندہ سلامت ملنے والے ایک سو سے بھی کم ہیں،خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چار سو سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔

    اپنے مستقبل کی فکر لئے ملکی حالات سے جان چھڑاتے یہ نوجوان ،یہ ہنر مند اور تعلیم یافتہ پاکستانی درحقیقت قوم کا ایک اہم ترین اثاثہ ہیں جن سے ملک محروم ہوتا جا رہا ہے ،بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال ساڑھے سات لاکھ سے زائد پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں اور یہی سلسلہ رواں سال بھی پوری آب وتاب کے ساتھ جاری ہے ،ملک چھوڑنے والوں میں انجینئرز ،ڈاکٹرز،آئی ٹی کے ماہرین، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جدید شعبہ جات میں مہارت رکھنے والے افراد شامل ہیں ،لاکھوں تارکین وطن میں ہزاروں ایسے بھی شامل ہیں جو بہتر مستقبل کی تلاش میں پر خطر راستوں کا انتخاب کرتے ہیں جن میں سے بہت سے اپنی جانیں بھی گنوا دیتے ہیں ،حالیہ حادثے کے دوران بحیرہ روم میں یونان کے قریب ڈوبنے والی کشتی میں درجنوں پاکستانی جو  جان سے ہاتھ دھو بیٹھے  ،درحقیقت یہ ملک و قوم کا سرمایہ سمندر برد ہوا جس کا کوئی ازالہ نہیں ہے کیونکہ ترقی کی راہ میں یہ نوجوان اور ہنر مند افراد ہی کسی ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔

    دوسری جانب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جہاں مہنگائی کا طوفان برپا کر رکھا ہے وہاں پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں خاطر خواہ کمی ہو چکی ہے اور یہ عمل معاشی ترقی کو تیزی کے ساتھ نیچے گراتا جا رہا ہے ،اس کی وجہ پاکستان کے بگڑتے ہوئے معاشی حالات اور سیاسی عدم استحکام ہے،شدید کمی کا شکار زرمبادلہ کے ذخائر اورآئی ایم ایف سے ڈیل نہ ہونا معاشی بحران کے بڑھنے کی بڑی وجوہات ہیں،ملکی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کے باعث ڈالر میں منافع بھی کم ہوتا جا رہا ہے جبکہ بیرونی سرمایہ کاروں کو ،کمایا جانے والا منافع بیرون ملک منتقل کرنے میں بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار ملک سے نکلتے جا رہے ہیں،پیٹرولیم مصنوعات کی غیر ملکی کمپنی شیل کی جانب سے پاکستان میں اپنے حصص فروخت کرنے کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،شیل کمپنی گزشتہ3سال سے مسلسل اپنی سرمایہ کاری پاکستان سے باہر منتقل کرتی جا رہی ہے ،گزشتہ تین سال کے دوران کم و بیش 17 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری یہ کمپنی واپس لے جا چکی ہے اور اب باقی ماندہ سرمایہ بھی سمیٹا جا رہا ہے ،اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ غیر ملک کمپنیوں کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے ۔

    معاشی بحالی کی بات ہو یا ملک کو جدید شعبہ جات میں ترقی دینے کا معاملہ ہنر مند افرادکی ضرورت سے انکار ممکن نہیں ہے ،بالخصوص انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ جات میں ملک کو ہنر مند افراد کی اشد ضرورت ہے ،یہی لوگ ملکی معیشت کو سہارا دینے میں معاون و مددگار ثابت ہوں گے ،لیکن معاشی و سیاسی عدم استحکام نے ملک میں ملازمتوں کے مواقع کم کئے ہیںجس سے  ہنر مند افراد میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے اور  وہ ملک سے نکلتے جارہے ہیں، یہ عمل ملک کیلئے انتہائی نقصان کا سبب ہے ملکی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن سے سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے ،بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ماحول کو ساز گار بنایا جائے ،ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات بھی ناگزیر ہوچکے ہیں جبکہ جدید شعبہ جات میں ہنرمند افراد کیلئے پرکشش ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا بھی ازحد ضروری ہے ۔

    ملکی کرنسی کی بے دریغ گراوٹ اور بدترین مہنگائی نے عام آدمی کی آمدن خرچ میں توازن بری طرح سے بگاڑ دیا ہے جس کے باعث مزدور کی طے کی گئی کم سے کم اجرت ہو یا سرکاری و نجی ملازمین کی تنخواہیں ہر طرح کی آمدن، خرچ کی نسبت بہت زیادہ کمی کا شکار ہے ،عوام کے اخراجات اور آمدن میں توازن کیلئے ضروری ہے کہ ملکی کرنسی کی قدر غیر معمولی طور پر بڑھ جائے(اس کے امکانات محدود ہیں) یا پھر تنخواہوں اور اجرتوں میں معقول حد تک اضافہ کیا جائے ،حالیہ بجٹ میں ہونے والا اضافہ اور مقرر کی گئی کم سے کم اجرت حالیہ مہنگائی کی نسبت بہت زیادہ کم ہے ،ادھر نجی شعبہ جات میںمقرر کی گئی کم سے کم اجرت یا تنخواہ پر عمل درآمد کرانا بھی امر محال ہے ،حکومت ماضی میں بھی اس پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہی اور اب بھی بے بس دکھائی دیتی ہے ،نجی شعبے کا مزدور ،سکیورٹی گارڈز،ملازم وغیرہ کی اکثریت آج بھی 12سے20ہزار ماہانہ کی اجرت لینے پر مجبور ہے ۔
 

بشکریہ اردو کالمز