اب توپتہ چل گیاہوگاکہ پاکستان کیاچیزہے۔؟جولوگ کل تک شام،لبنان اورلیبیاجیسے ممالک سے پاکستان کاتقابل کررہے تھے امیدہے کہ فیلڈمارشل کے دورہ ایران سے اب انہیں پاکستان کی اصلیت ،حقیقت اورحیثیت کاپتہ لگ گیاہوگا۔ ایران کی ان فضاءوں جن سے اب بڑے بڑوں کوبھی ڈرلگتاہے،ان فضاءوں میں پاکستانی جہازوں کاشاہینوںکی طرح اڑناوپھرنایہ اس ملک کاہی خاصاہوسکتاہے جوخوددفاعی طورپرمضبوط ہو۔کل تک ہم صرف یہی سنتے اورپڑھتے رہے کہ پاکستان ایک کمزور ریاست ہے ۔ اس کے فیصلے بیرونی دباؤ کے تابع ہوتے ہیں اور اس کے عوام یا قیادت میں وہ جرات نہیں جوسراٹھاکردنیاکے سامنے چل سکیں یا بڑے عالمی معاملات میں اپناکوءی مؤقف اختیار کر سکیں مگر اسلام آبادمیں پاکستانی میزپر امریکہ اورایران کے درمیان مذاکرات اورپھرایران کی پرخطر فضاءوں میں فیلڈمارشل کے طیارے کواڑان بھرتے دیکھ کرواللہ دل خوش اور سرفخرسے بلندہوگیا۔عام حالات میں توجس طرح بھی ہواوچ نیچ کے ساتھ نظام چل اورگزاراہوجاتاہے لیکن جب امریکہ جیسی عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت صف بندیاں کر رہی ہوںتوپھر ایسے میں کسی ملک کا متوازن، خودمختار اور واضح مؤقف اختیار کرناہرگز آسان نہیں ہوتا۔ پاکستان نے موجودہ نازک حالات میں جس انداز سے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوءے سفارتی اور عسکری سطح پراپنی موجودگی دکھاءی ہے۔ یہ دنیاکے ساتھ پاکستان کے ان دشمنوں کے لءے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان نہ تو تنہا ہے اور نہ ہی کمزور۔پاکستان تنہاء ہوتاتوامریکہ اورایران مذاکرات کے لءے اسلام آبادنہ آتے نہ ہی وزیراعظم شہبازشریف عرب ممالک اورفیلڈمارشل جنرل عاصم منیرایران کے دورے پرجاتے۔جوملک تنہاء ہوتاہے ان کے حکمران مودی کی طرح ہاتھ ملتے، فوجی افسران اپنی ناک رگڑتے اورصحافی مفت میں گلے پھاڑتے رہتے ہیں۔اس وقت عالمی حالات اورایران امریکہ تنازعہ میں پاکستان کااہم اورشاندارکرداراس بات کی واضح دلیل اورثبوت ہے کہ پاکستان اوریہاں کی قیادت حالات کو سمجھنے، ان کا تجزیہ کرنے اور اپنے قومی مفاد میں فیصلے کرنے کی بہترسے بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔یہ بات نہ ہوتی پاکستان کاآج دنیامیں یہ چرچانہ ہوتا۔کہاں امریکہ،برطانیہ،چین،قطر،ترکی اورسعودی عرب جیسے بڑے بڑے ممالک اورکہاں ہماراغریب پاکستان۔۔؟کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھانہ ہی کبھی کسی نے سوچاتھاکہ پاکستان امریکہ اورایران کے درمیان کبھی ثالث بنے گا۔۔؟باہرکی دنیاتمام ترطاقت،دولت اورسرمایہ کے باوجودچھیالیس سینتالیس سال میں جوکام نہیں کرسکی وہ کام فقط اللہ کے مبارک نام پرقاءم وآبادایک غریب پاکستان نے اللہ کے فضل وکرم سے سال اورمہینوں نہیں بلکہ چنددنوں میں کردکھایاہے۔وہ امریکہ اورایران جوسینتالیس سال سے ایک دوسرے کاگوشت نوچنے اورخون چوسنے سے کم کوءی کام اوراقدام کرنے پر تیارنہیں تھے اسی پاکستان کی وجہ سے وہ دونوں ممالک برسوں بعدایک دوسرے کے سامنے بیٹھنے اوربات کرنے کے لءے تیارہوگءے۔امریکہ اورایران کی جنگ توپاکستان اس دن ہی جیت گیاتھاجس دن امریکہ اورایران کے اعلیٰ سطح کے لوگ ایک دوسرے سے بات اورمذاکرات کے لءے پہلی بار پاکستان آگءے تھے۔.ثالث جسے ہم دیسی زبان میں جرگوءی کہتے اوربولتے ہیں یہ کوءی معمولی شے نہیں۔یہ عزت،احترام،اعتماد،بھروسہ اوریقین کاوہ تاج ہے جوسومیں کسی ایک کواللہ نصیب کرتاہے۔ حاجی ذرین بابا مرحوم اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے یہ ہمارے قریبی رشتہ داراوربڑے معززآدمی تھے،اپنے کیابیگانے بھی باباکی بہت عزت کرتے تھے۔ ہمارے گاءوں میں چھوٹے موٹے مساءل بابا کے گھرہی حل ہوتے تھے۔جب بھی کسی کوکوءی مسءلہ یاکسی کے ساتھ کوءی تنازعہ ہوتاتووہ باباکوثالث بنانے کےلءے ان کے گھرپہنچ جایاکرتے تھے۔باباپھردونوں فریقوں کے درمیان ثالث بن کران مساءل اورتنازعات کواپنی بصیرت ،تحمل اوردانش سے حل کراتے۔گاءوں بلکہ پورے علاقے میںحاجی ذرین باباکی جوعزت تھی وہ کسی اورکی نہیں تھی،علاقہ کیا۔؟باہرعلاقوں اورشہروں کے لوگ بھی دل سے باباکاادب واحترام کرتے تھے۔یہ ثالث اورجرگوءی بنناہربندے کے بس کی بات نہیں۔ لوگوں کے درمیان راضی نامہ اورفیصلے کرانے کے لءے تومودی جیسے فارغ لوگ بھی اس دنیامیں بہت پھرتے ہیںلیکن ثالث اورجرگوءی وہی بنتاہے جس پرنہ صرف فریقین بلکہ دنیاکواعتماد،بھروسہ اوریقین ہو۔ ثالث اورجرگوءی بننااگراتناآسان اورمعمولی کام ہوتاتوپھرمودی جیسے لوگ سال نہیںدن میں دس باریہ کام کرتے ۔یوٹیوب اورسوشل میڈیاکے بے بی ٹاءپ صحافیو اوردانشورو ماءیک اورکیمرہ سامنے رکھ کرچیخیں مارناتوآسان ہے مگر امریکہ اورایران جیسے دوممالک کے درمیان ثالث اورجرگوءی بنناکوءی آسان نہیں ۔اس لءے ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان نہ صرف خوش قسمت بلکہ بہت خوش نصیب بھی ہے کہ بھارت جیسے مکاراوراسراءیل جیسے اغیارکے ہوتے ہوءے یہ امریکہ اورایران کاجرگوءی بنا۔یوٹیوب کے نکے نکے بچے اوراغیارکے بڑے بڑے مگرمچھے چاہے کچھ بھی لکھیں اورکہیں پرسچ یہی ہے کہ واشنگٹن اورتہران والوں کااسلام آبادجرگوءی کے قدموں میں آنایہ کوءی چھوٹی اورمعمولی بات نہیں۔اغیاروں اورمکاروں کے دلال پہلے اپنے سرپھاڑاورڈھنڈوراپیٹ رہے تھے کہ امریکہ والے مذاکرات کے لءے پاکستان نہیں آءیں گے جب امریکہ کی طرف سے وفدکاآناکنفرم ہواتوپھرسوشے چھوڑنے لگے کہ ایران پاکستان میں مذاکرات کے لءے تیارنہیںلیکن جب ایران کی جانب سے بھی پاکستان آنااورمذاکرات کی میزپربیٹھنااوکے ہوگیاتوپھردل بہلانے کے لءے مذاکرات کی ناکامی جیسی باتیں پھیلانے لگے۔امریکی ناءب صدرکاکوءی معاہدہ کءے بغیر واپس جانے پراس قبیل سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اوریوٹیوبروں کواتنی خوشی ہوءی کہ جیسے امریکی ناءب صدرنہیں ان کا داداامریکہ گیاہو۔ پہلی بات مذاکرات کی ناکامی سے پاکستان کی عزت کچھ کم نہیں ہونی۔اللہ نے پاکستان کوجوعزت دینی تھی وہ دے دی ہے اب سوشل میڈیاکے کرایہ داردن کوچیخیں یارات کوچلاءیں وہ عزت واپس نہیں ہونی۔پاکستان کاکام امریکہ اورایران کومذاکرات کے لءے اپنے درپرپاکستان لاناتھااورالحمداللہ پاکستان ان دونوں کولے آیا۔عقل کے اندھوں مذاکرات کامیاب ہوں یاناکام،پاکستان توکامیاب ہوگیاہے نا۔برطانیہ،عرب،ترکی،روس اورچین جیسے ممالک کے ہوتے ہوءے پاکستان کاامن کاعلمبرداراورنمبرداربنناکیایہ کوءی چھوٹی کامیابی ہے۔؟کسی ملک اور قوم کی طاقت کا اندازہ اس کے فیصلوں، اس کی قیادت کی حکمت عملی اور مشکل وقت میں اس کے طرزعمل سے ہوتاہے۔پاکستان نے اپنے قول،فعل اورعمل سے دنیاکودکھااوربتادیاہے کہ پاکستان ایشین ٹاءیگربن چکا،اب اس کاراستہ روکناکسی کےلءے آسان نہیں ہوگا۔
