10

چین میں انسانی حقوق کے تحفظ کا فروغ

انسانی حقوق کا تحفظ آج دنیا کے ہر معاشرے کی بنیادی ضرورت اور ترقی کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ خوراک، تعلیم، صحت، روزگار، سماجی تحفظ، ماحولیات اور قانون کے تحت مساوی حقوق تک رسائی ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی ملک میں انسانی ترقی کے معیار کا تعین کرتے ہیں۔ چین نے گزشتہ برسوں کے دوران اقتصادی ترقی، سماجی فلاح، ماحولیاتی تحفظ اور قانونی اصلاحات کو یکجا کرتے ہوئے انسانی حقوق کے تحفظ کے شعبے میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق چین نے قومی انسانی حقوق ایکشن پلان (2021-2025) کے تمام اہداف مکمل کرتے ہوئے اس میدان میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ چائنا سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اسٹڈیز اور ملک کے 20 قومی انسانی حقوق تعلیمی و تربیتی مراکز کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کردہ جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2021 میں جاری کیے گئے قومی انسانی حقوق ایکشن پلان (2021-2025) میں شامل تمام 181 اہداف کامیابی سے مکمل کر لیے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ چین کی جانب سے جاری اور نافذ کیا جانے والا چوتھا قومی انسانی حقوق منصوبہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق چین نے ترقی کے ذریعے انسانی حقوق کے فروغ کے تصور کو عملی شکل دی ہے۔ ملک میں ہر پہلو سے معتدل خوشحال معاشرے کی تعمیر مکمل کی گئی جبکہ مطلق غربت کے خاتمے کا تاریخی ہدف بھی حاصل کیا گیا۔ مبصرین کے مطابق غربت کا خاتمہ انسانی حقوق کے تحفظ کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے عوام کو بہتر زندگی، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ چین نے دنیا کے سب سے بڑے تعلیمی، سماجی تحفظ اور صحت کے نظام قائم کیے ہیں۔ ان شعبوں میں مسلسل سرمایہ کاری کے باعث شہریوں کو بنیادی سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ساتھ ہی مشترکہ خوشحالی کے حصول کی جانب پیش رفت نے انسانی حقوق کے مزید فروغ کے لیے ایک مضبوط مادی بنیاد فراہم کی ہے۔ جمہوری شرکت اور قانونی تحفظ کے حوالے سے بھی رپورٹ میں اہم پیش رفت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق چین نے ہمہ گیر عوامی طرز جمہوریت کے تصور کو فروغ دیا، انسانی حقوق کے قانونی تحفظ کو مضبوط بنایا اور عوامی شرکت کے مختلف ادارہ جاتی نظاموں کو مزید مؤثر بنایا ہے۔ متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ عوامی شرکت کے فروغ سے نہ صرف حکمرانی کے معیار میں بہتری آتی ہے بلکہ شہریوں کو اپنی رائے کے اظہار اور قومی ترقی میں کردار ادا کرنے کے مزید مواقع بھی میسر آتے ہیں۔ ماحولیاتی حقوق کے میدان میں بھی چین کی پیش رفت کو نمایاں قرار دیا گیا ہے۔ رواں سال نافذ کیے گئے ماحولیاتی ضابطہ قانون نے ماحولیاتی تحفظ کے قانونی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ اس کے ساتھ فضائی اور آبی معیار میں بہتری، جنگلات کے رقبے میں اضافہ اور ماحول دوست ترقیاتی پالیسیوں نے عوام کے ماحولیاتی حقوق کے تحفظ کو مزید مؤثر بنایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین نے معاشرے کے مختلف طبقات کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کو بھی ترجیح دی ہے۔ اس سلسلے میں خواتین، بچوں، بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات اقتصادی اور سماجی ترقی میں مساوی طور پر شریک ہوں، اپنے جمہوری حقوق استعمال کر سکیں اور جدیدیت کے ثمرات سے یکساں استفادہ کر سکیں۔ انسانی حقوق سے متعلق آگاہی کے فروغ کو بھی چین کی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی تعلیم اور شعور اجاگر کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے، جن کے نتیجے میں عوام میں انسانی حقوق کے احترام اور تحفظ کے بارے میں آگاہی میں اضافہ ہوا ہے۔ تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکز اور سماجی تنظیموں کے ذریعے اس موضوع پر مختلف سرگرمیوں کا انعقاد بھی کیا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر چین نے مساوات، باہمی اعتماد، شمولیت، باہمی سیکھنے، مشترکہ فائدے اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین عالمی سطح پر انسانی حقوق کے شعبے میں تبادلۂ خیال اور تعاون کو فروغ دینے کی حمایت کرتا ہے اور اس حوالے سے تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے۔ تاہم رپورٹ میں اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے شعبے میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ چین کو اب بھی غیر متوازن اور ناکافی ترقی جیسے بعض چیلنجز کا سامنا ہے۔ مزید برآں، سائنس و ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور صنعتی تبدیلیاں بھی نئے نوعیت کے حقوق اور تقاضوں کو جنم دے رہی ہیں، جن کے لیے نئی حکمت عملیوں اور پالیسی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران چین ان نئے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹے گا اور انسانی حقوق کے تحفظ کو مزید آگے بڑھائے گا۔ جدیدیت، سماجی فلاح، ماحولیات کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو یکجا کرتے ہوئے چین ایک ایسے ترقیاتی ماڈل کی تشکیل کی کوشش کر رہا ہے جس میں اقتصادی پیش رفت کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ انسانی حقوق کے تحفظ کا سفر دراصل ایک مسلسل عمل ہے جو معاشی ترقی، سماجی انصاف، قانون کی بالادستی اور عوامی بہبود کے امتزاج سے آگے بڑھتا ہے۔ چین کی حالیہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ترقی اور انسانی حقوق ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون عناصر ہیں۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نئی ٹیکنالوجیز، بدلتے سماجی تقاضوں اور عالمی چیلنجز کے تناظر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مزید کون سے اقدامات سامنے آتے ہیں اور کس طرح عوام کی زندگی کو مزید بہتر بنایا جاتا ہے۔

بشکریہ اردو کالمز