247

 مفاد پرستانہ فیصلوں کی بھینٹ

    ماہرین کے مطابق ہمارے موسم بگاڑ کا شکار ہو چکے ہیں ،ہمیں کبھی شدید گرمی کا سامنا ہے ،کبھی شدید سردی کا ، کبھی غیر متوقع بارشیں اور سیلاب تو کبھی بارشوں کا خشک موسم ،آج کل انتخابات کا موسم بھی رواں دواں ہے لیکن جہاں گرمی ،سردی،بہار اور خزاں کے مزاج بدلے ہیں وہاں ہمارا انتخابی موسم بھی بدلا بدلا دکھائی دے دیتا ہے ،سیاسی جماعتیں ایک طرف تو الیکشن شیڈول پر عمل پیرا ہو کر انتخابات کی جانب بڑھتی جا رہی ہیں لیکن تاحال عوام کی توجہ اس جانب مبذول نہیں کرائی جا سکی ،انتخابات میں ایک ماہ سے بھی کم مدت باقی ہے ،الیکٹرانک میڈیا ،پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پرتو انتخابی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں لیکن ابھی تک عوامی سطح پر انتخابی گہما گہمی کا نام و نشان تک نہیں ہے،اس کی کیا وجہ ہے ؟ ،کیا انتخابات میں عوامی دلچسپی کم ہو گئی ؟ یا دیگر معاملات کی طرح انتخابات بھی سوشل میڈیائی ہوکر رہ گئے ہیں ؟وطن عزیز کے سیاسی مزاج کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا گز نہیں ہے ،انتخابات میں عوام کی عدم دلچسپی کی اصل وجہ ہمارے سیاستدان ، ان کا طرز سیاست اور عوام کا پختہ ہوتا سیاسی شعور ہے ۔
    ہمارے ہاں بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اور بڑے بڑے سیاستدان حصول اقتدار کیلئے بڑی ہی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے موقف کویو ٹرن دینے میں بدنام ہو چکے ہیں ،ایک جماعت پانچ سال پہلے جس موقف کو لیکر عوام سے مخاطب ہوتی رہی آج وہ جماعت اسی موقف کے متزاد عمل پیرا ہے جبکہ ایک دوسری بڑی جماعت بھی اپنے پانچ سال پہلے والے موقف کو الٹ چکی ہے ،بڑی سیاسی جماعتوں کے اس طرز سیاست سے عوام بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ ان سیاسی جماعتوں کی سیاست عوام کیلئے نہیں بلکہ حصول اقتدار کیلئے ہے ،ان کا موقف ملک و قوم کی ترقی کیلئے ترتیب نہیں پاتا بلکہ ذاتی مفادات کے گرد گھومتا ہے اور مفادات کے حصول و ضیاع پر بدلتا رہتا ہے ،کسی بھی با شعور پاکستانی سے پوچھ لیں سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے متعلق اسی قسم کی رائے سننے کو ملے گی ،سیاسی جماعتوں یا سیاستدانوں کے اس طرز سیاست نے عوام کو بھی سیاسی مفاد پرستی کی جانب دھکیل دیا ہے اور عوام کی ایک کثیر تعدادسیاسی فیصلے کرتے وقت ملکی مفادات کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔
    درج بالا دلیل کی وضاحت ہر انتخابی موسم میں روز روشن کی طرح ہر جگہ عیاں ہوتی ہے اور ان دنوں میں بھی اسے با آسانی محسوس کیا جا سکتا ہے ،قومی اور صوبائی قانون سازوں کی نشستوں پر انتخابات لڑنے والے سیاستدان جب اپنے اپنے حلقے میں عوام سے ووٹ مانگنے جاتے ہیں تو اس موقع پر عوام جو مطالبات کرتی ہے اور سیاستدان جو دعوے ،وعدے کرتا ہے ،ان دونوں عوامل سے ہمارے سیاسی نظام کی بخوبی وضاحت ہوجاتی ہے ،ووٹرز کی اکثریت کو یا تو معلوم ہی نہیں کہ ہم کس کام کوکرنے کیلئے اپنا نمائندہ منتخب کر رہے ہیں یا پھر ووٹرز جان بوجھ کر اس بنیادی سوال کو نظر انداز کردیتے ہیں البتہ ووٹ لینے والے سیاستدان کو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کے رکن کی کیا ذمہ داریاں ہیں لیکن اس کے باوجود وہ جب عوام سے ووٹ مانگنے نکلتا ہے تو عوام کو حلقے کی تعمیر وترقی کے سبز باغ دکھاتا ہے ،حتیٰ کہ ذاتی مفادات کے حسین خواب بھی دکھائے جاتے ہیں جبکہ ان دونوں باتوں کا قانون ساز اسمبلی کے رکن سے دور دور کا تعلق نہیں۔
    انتخابی مہم کے دوران جگہ جگہ بالخصوص قصبات و دیہات میں آپ کو ایسے بینرز لگے ملیں گے جن پر لوگوں نے اجتماعی طور پر ایسی عبارتیں لکھی ہوں گی کہ جو اس آبادی کو گیس یا بجلی کی سہولت دے گا اسے ووٹ ملے گا ،جو اس آبادی کی سڑک کو پختہ کرے گا اسے ووٹ ملے گا ،ایسے بینرز سے ہٹ کر بھی جب ووٹرز ذاتی طور پر سیاستدانوں سے ملتے ہیں یا کارنر میٹنگز اور جلسے منعقد ہوتے ہیں تو ووٹرز کی جانب سے بجلی گیس کی فراہمی سڑکوں گلیوں کی پختگی ،بچوں کو سرکاری نوکری اور سرکاری محکموں میں سفارش جیسے مطالبات ہی کئے جاتے ہیں اور انہی بنیادوں پر ووٹ دیئے جاتے ہیں،عوام کی نچلی سطح کے مسائل حل کرنے کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرکے یہ عوامی نمائندے قانون ساز اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں اور ہماری قانون ساز اسمبلیاں قانون سازوں کی بجائے بلدیاتی سیاستدانوں سے بھر جاتی ہیں ،پھر یہی بلدیاتی سیاستدان ایک جانب تو ملکی سطح کے فیصلوں میں کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک و قوم کا بیڑا غرق کرتے ہیں اور دوسری جانب اپنے حلقے میں سیاسی گرفت قائم کرنے کیلئے مقامی حکومتوں کے قیام میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے عوام کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں ۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے سیاسی مزاج کو بدلیں ،ووٹ ایک اہم ترین قومی فریضہ ہے ،ووٹ دیتے ہوئے ہر قسم کے ذاتی یا گروہی مفادات کو بالائے طاق رکھا جائے اور ملک و قوم کے وسیع تر مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی ووٹ دیا جائے تب جاکر ہی ہمارا ملک مسائل کے گرداب سے نکل سکتا ہے ،اگر ہم ووٹ دیتے وقت ملکی مفادات کو ترجیح نہیں دیں گے تو حالات میں بہتری آنے کی توقع بھی کیسے کی جاسکتی ہے البتہ حالت پہلے سے زیادہ ابتر ہونے کے خدشات ضرور موجود ہیں کیونکہ جب تک عوام مفاد پرستی کی بنیاد پر اپنے نمائندے منتخب کرتی رہے گی تب تک منتخب ہونے والے یہ نمائندے بھی اپنے فیصلے مفاد پرستی کی بنیاد پر ہی کریں گے ،درحقیقت  وطن عزیز انہی مفاد پرستانہ فیصلوں کی بھینٹ چڑھتا جا رہا ہے۔
 

بشکریہ اردو کالمز