111

پاکستانی پانی کی آزادی

پاک بھارت آبی تنازعہ قیام پاکستان سے ہی چلا آ رہا ہے لیکن اس میں کچھ رکاوٹ اس وقت آئی جب 1960میں عالمی بینک کی ثالثی میں سند طاس معاہدے پر دونوں ممالک نے دستخط کئے،اس معاہدے کی رو سے مغربی دریائوں سندھ،جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا جبکہ مغربی دریائوں راوی،ستلج اور بیاس پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا،معاہدے کے مطابق بھارت مغربی دریائوں کا پانی سخت شرائط کے تحت استعمال کرسکتا ہے لیکن اسے پانی روکنے کی اجازت نہیں ہے،لیکن 2005میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے دریائے جہلم(جسے بھارت میں کشن گنگا کا نام دیا جاتا ہے) پر ایک ہائیڈروالیکٹرک منصوبہ شروع کردیا،یہ بھارتی منصوبہ دریائے جہلم میں پانی کی کمی کا موجب بن چکا ہے اور پاکستان کا نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ بھی خدشات کا شکار ہو چکا ہے جبکہ پاکستانی زراعت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں،پاکستان کی ضرورت کا پانی جب بھارت استعمال کرے گا تو پاکستان میں پانی کی قلت سنگین صورتحال اختیار کرجائے گی۔ بھارت کی جانب سے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ شروع کئے جانے پر پاکستان نے 2007میں عالمی بینک سے رجوع کرلیا لیکن معاملہ سست روی کا شکار ہوا اور2010میں اس تنازعے کو مصالحتی عدالت کے سپرد کیا گیا جس سے منصوبے پر کام روکنے کا حکم تو جاری کیا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کرایا جا سکا اور بھارت ہٹ دھرمی کے ساتھ منصوبے کو آگے بڑھاتا رہا،پاکستان کی جانب سے2016میں ایک بار پھر عالمی بینک کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن بات نہیں بنی اور آخر کار یہ بھارتی منصوبہ مکمل ہونے کے بعد بجلی بنانا شروع ہو گیا اور اس منصوبے کا با ضابطہ افتتاح بھی کردیا گیا،اس کے بعد پاکستان نے ایک مرتبہ پھر عالمی بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کو ممکن بنائے،درحقیقت یہ بھارتی منصوبہ سراسر پاکستان دشمنی کی بنیاد پر بنایا گیا ہے،بھارت کے پاس اس منصوبے کا کوئی اقتصادی جواز نہیں ہے،اس منصوبے سے معاشرتی اور ماحولیاتی نقصان ہو رہا ہے اور پیدا ہونے والی بجلی بھی کافی مہنگی ثابت ہو رہی ہے لیکن بھارتی حکومت پاکستان دشمنی میں اندھی ہوکر اپنا نقصان کرنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔ پاکستان کی جانب سے عالمی بینک کو سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کیلئے مطالبات پراگرچہ بھارتی حکومت تاخیری حربے اختیار کرتی آ رہی ہے اور مصالحتی عدالت پر مختلف اعتراضات بھی اٹھائے گئے مگر عالمی ثالثی عدالت نے گزشتہ سال بھارتی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی موقف کو تسلیم کیا جس کے بعد ثالثی عدالت میں پاکستانی دعوے پر سماعت کی راہ ہموار ہوئی اور آخر کار اس پر سماعت کا سلسلہ بھی شروع ہوا، اس سلسلے میں عالمی ثالثی عدالت نے ایک وفد مرتب کیا جس میں عالمی ثالثی عدالت کے ججز،غیر جانبدار ماہرین اور پاکستانی ماہرین و مجاز افسران شامل کئے گئے،ثالثی عدالت کے اس وفد نے مقبوضہ کشمیر کا خصوصی طور پر دورہ کیا اور کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا،یہ وفد30جون کو اپنا دورہ مکمل کرکے واپس آ چکا ہے،اب اس مقدمے کی سماعت5جولائی کو ہالینڈ کے شہر ہیگ میں عالمی ثالثی عدالت کرے گی جس میں ان غیر قانونی اور متنازعہ منصوبوں کی حقیقت بے نقاب ہو جائے گی۔ بھارت کی پالیسی چونکہ مکمل طور پر بدنیتی کی پیداوار ہے اور غیر قانونی حیثیت رکھتی ہے اس لئے بھارت ہمیشہ ٹال مٹول اور تاخیری حربے اختیار کرتا آ رہا ہے،ان متنازعہ منصوبوں کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ بھی نہیں،لیکن پاکستان کیلئے یہ معاملہ بقا کی جنگ کے مترادف ہے،گزشتہ17سال سے یہ معاملہ عالمی ثالثی عدالت میں التوا کا شکار ہوتا آ رہا ہے،اب جا کر اس میں کچھ پیش رفت ممکن ہوئی ہے تو پاکستان کو ٹھوس اور جامع حقائق کے ساتھ عالمی ثالثی عدالت کو بھارتی سازشوںکا یقین دلانے کی ضرورت ہے،اس کے غیر قانونی اقدامات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر بھارت کو سندھ طاس معاہدے کا پابند نہیں بنایا جاتا تو یہ پاکستان کے حصے کا ایک ایک قطرہ روکنے سے بھی دریغ نہیں کرے گا،یہ واحد موقع ہے کہ جب پاکستانی پانی کو بھارتی قبضے سے آزاد کرایا جا سکتا ہے۔

بشکریہ اردو کالمز