4

بدلتی تہذیب کا نوحہ ۔۔۔!!!

 

    نئے دور جدید میں بہت ساری ترقیاں ایجادات ضرور ہوئیں ہیں مگر ہماری تہزیب ، ثقافت کا جنازہ نکلتا جا رہا ہے جدیدیت کے جنون میں ہماری نئی نسل اپنی روایات تہزیب سب کچھ بھول گئی ہے روشن خیالی کو لیکر ہر کوئ بد تہذیبی کا شکار ہے عریانیت کا شکار ہے کہیں سے انسانیت نظر نہیں آتی یہ بات ماننے میں کوئی عار نہیں کہ ہم نے ترقی کی ہے بہت ترقی کی مشینیں تیز ہوئیں فاصلے سمٹ گئے اور معلومات انگلیوں کی پوروں پر آ بیٹھیں مگر شاید اسی دوڑ میں ہم نے کچھ ایسا پیچھے چھوڑ دیا جس کی کوئی متبادل ایجاد آج تک ممکن نہیں ہو سکی اور وہ ہے تہذیب ثقافت اور انسانیت یہ نیا دور عجیب ہے یہاں روشنی بہت ہے مگر دل تاریک ہیں یہاں آوازیں بہت ہیں مگر بات کرنے کا سلیقہ نہیں رہا یہاں آزادی کے نام پر ہر حد پار کی جا رہی ہے اور اسے روشن خیالی کا نام دے کر ایک نیا فریب تراشا جا رہا ہے لباس مختصر ہوتا جا رہا ہے مگر سوچ بھی اسی کے ساتھ سکڑتی جا رہی ہے آنکھوں میں چمک تو ہے مگر حیا کی نمی کہیں گم ہو چکی ہے ہماری نئی نسل جو کل کا مستقبل ہے آج ایک ایسے دو راہے پر کھڑی ہے جہاں ایک راستہ اپنی شناخت اپنی روایات اور اپنی تہذیب کی طرف جاتا ہے اور دوسرا اندھی تقلید، بے راہ روی اور خود فراموشی کی طرف افسوس یہ ہے کہ زیادہ تر قدم اسی دوسرے راستے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں اپنی مٹی کی خوشبو اجنبی لگنے لگتی ہے اور غیر کی ثقافت فخر بن جاتی ہے۔

یہ صرف لباس یا اندازِ گفتگو کا مسئلہ نہیں یہ سوچ کا بحران ہے جب تہذیب زوال پذیر ہوتی ہے تو سب سے پہلے انسان کا اندر خالی ہوتا ہے وہ باہر سے جتنا بھی جدید کیوں نہ ہو اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے پھر نہ رشتوں میں خلوص رہتا ہے نہ باتوں میں وزن نہ آنکھوں میں حیا اور نہ ہی دلوں میں انسانیت ہم نے ترقی تو کر لی مگر کیا ہم بہتر انسان بن سکے ہم نے دنیا کو تو جیت لیا مگر کیا ہم نے خود کو بھی سنبھال لیا یہ سوال آج ہر باشعور دل کے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور شاید جواب بھی وہی ہے جو صدیوں پہلے تھا کہ ترقی وہی ہے جس میں انسانیت زندہ رہے اور تہذیب وہی ہے جو انسان کو انسان بنائے رکھے اگر ہم نے اب بھی خود کو نہ سنبھالا تو آنے والی نسلیں شاید ہمیں ترقی یافتہ نہیں بلکہ گمشدہ تہذیب کے آخری وارث کے طور پر یاد رکھیں گی تو اس موضوع پر ایک کلام قارئین کی خدمت میں حاضر ہے 

یہ جو نفرت کے بیج ہیں دل میں مٹ جائیں تو اچھا ہے

محبت کا کوئی پودا نکل آئے تو اچھا ہے

 

ہر اک چہرہ یہاں آئینہ دارِ اضطراب کیوں ہے

یہ اندر کا کوئی طوفان تھم جائے تو اچھا ہے

 

جہاں انصاف بِکتا ہو، ضمیر ارزاں پڑے ہر سو

وہاں قانون کا معیار بدل جائے تو اچھا ہے

 

یہ دولت کی خدائی اور یہ زر کی حکمرانی بھی

کسی درویش کے قدموں میں ڈھل جائے تو اچھا ہے

 

بڑے مغرور ہیں کچھ لوگ اپنی طاقتوں کے زعم میں

یہ نشہ وقت کی ٹھوکر سے اتر جائے تو اچھا ہے

 

جو سچ لکھنے سے ڈرتے ہیں، جو حق کہنے سے گھبرائیں

قلَم کا خوف یہ دل سے نکل جائے تو اچھا ہے

 

مرمویؔ اس دور کے باسی ہیں سب الجھے اندھیروں میں

کوئی سورج لبِ افق سے نکل جائے تو اچھا ہے

 

کبھی تہذیبیں لباس سے پہچانی جاتی تھیں کبھی کردار سے اور کبھی اقدار سے مگر یہ کیسا زمانہ آن پڑا ہے کہ اب تہذیب کا چہرہ پہچان میں نہیں آتا لفظ وہی ہیں دعوے وہی ہیں مگر معنی کہیں راستے میں کھو گئے ہیں انسان ترقی کی سیڑھیاں تو چڑھ گیا مگر انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی یہ نئی تہذیب جو خود کو روشنی کا استعارہ کہتی ہے درحقیقت ایک ایسے اندھیرے کو جنم دے رہی ہے جس میں آنکھیں تو کھلی ہیں مگر بصیرت سو چکی ہے ہم ایک ایسے دور کے باسی ہیں جہاں شور بہت ہے مگر سچ کی آواز دب چکی ہے جہاں آزادی کے نام پر بے راہ روی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور جہاں شرافت کو دقیانوسیت کا طعنہ دے کر دیوار سے لگا دیا گیا ہے دلوں میں نفرت کے بیج بوئے جا رہے ہیں اور محبت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے ضمیر بکتے ہیں۔اصول جھکتے ہیں اور انصاف صرف کتابوں کی زینت بن کر رہ گیا ہے یہ وہ وقت ہے جب انسان کو خود سے سوال کرنا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑا ہے  تہذیب کے نام پر جو کچھ ہم اختیار کر رہے ہیں کیا وہ واقعی ترقی ہے یا محض ایک خوبصورت زوال؟ کیا ہم نے روشنی کی تلاش میں اپنی آنکھوں کی بینائی ہی قربان کر دی ہے ایسے ہی کرب اسی فکری اضطراب اور اصلاح کی ایک مدھم سی امید کے ساتھ مندرجہ بالا یہ نظم وجود میں آئی ہے ایک صدا ایک احتجاج اور شاید ایک دعا کہ یہ جنوں خیزی کا طوفان تھم جائے اور انسان ایک بار پھر انسان بن جائے دعا ہے ہم پھر سے اپنی اس تہذیب والا تمدن کیطرف لوٹ آئیں جہاں محبت رواداری بھائ چارہ اور انسیت تھی انسانیت سے پیار تھا بے لوث محبتیں تھیں 

بشکریہ اردو کالمز