233

قو و فعل اور کردار میں فرق کیوں ۔۔؟؟

ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں باتیں کردار سے زیادہ وزن رکھتی ہیں اور دعوے حقیقت سے زیادہ بلند آواز میں گونجتے ہیں لوگ اپنے ظاہر کی چمک پر اس قدر محنت کرتے ہیں کہ اپنے باطن کی سچائی بھول جاتے ہیں نیکی کے نام پر بننے والی تصویریں اخلاق کے نام پر لکھی جانے والی پوسٹس اور دیانت کے نام پر سنائے جانے والے لمبے بیانات… یہ سب کچھ اس وقت تک شیطانی دھوکا بن جاتے ہیں جب تک عمل ان کی گواہی نہ دے کیا عجیب زمانہ ہے انسان زبان سے ولی بنتا ہے مگر عمل سے وہی ہوتا ہے جو اس کے کردار کی گہرائی میں چھپا ہوتا ہے ہم نے نیکی کو پرفارمنس بنا دیا ہے، جبکہ کردار کو پچھلی نشست پر بٹھا دیا ہے۔ حالانکہ فطرت کا اصل قانون یہ ہے کہ نیکی بول کر نہیں کر کے دکھائی جاتی ہے۔

ایک دانا بزرگ کہا کرتے تھے جو نیکی تمہیں چھپانی پڑے وہی اصل نیکی ہے اور جو نیکی دکھانی پڑے وہی سب سے بڑا فریب ہے بدقسمتی سے ہم نے فریب کو فن بنا لیا ہے ہم اچھے ہونے کی تصویریں بنا لیتے ہیں، مگر حقیقت کی دیوار پر کردار کی ایک لائن بھی نہیں لکھ پاتے قول کی دنیا میں ہم فرشتے ہیں مگر فعل کے میدان میں وہی کمزور انسان جو چھوٹی سی آزمائش پر زمین بوس ہو جائے سوال یہ ہے کہ انسان کا اصل مقام کہاں ہے؟ زبان پر یا کردار میں؟ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا نے ہمیشہ کردار کو یاد رکھا اور قول کو بھلا دیا۔ آج صاحب کرداروں کی عظمت صرف اس لیے زندہ ہے کہ ان کا کردار ان کے الفاظ سے کہیں بلند تھا ان کی سچائی اعمال میں جھلکتی تھی، دکھاوے میں نہیں۔

آج بھی جو شخص خاموشی سے نیکی کرتا ہے کسی کا دل جوڑ دیتا ہے کسی کا بوجھ بانٹ لیتا ہے اور جھوٹ، فریب اور ریا سے دور رہتا ہے خدا کی قسم! وہی انسان اصل اشرف المخلوقات ہے اور جو عمل کے بغیر اپنے ظاہر سے نیکی کا تاثر بناتا ہے وہ خواہ کتنا ہی بڑا واعظ کیوں نہ ہو، اس کا کردار شیطان کے فریب میں گم ہو چکا ہوتا ہے زندگی ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ قول اور فعل میں یکسانیت انسان کی سب سے بڑی عبادت ہے جس دن ہمارا کردار ہمارے لفظوں جیسا ہو گیا اس دن ہم اپنے اندر کی روشنی کو پہچان لیں گے اور جس دن لفظ بلند اور کردار زمین بوس ہوا جان لیجئے کہ ہم دکھاوے کی تاریکی میں گم ہو چکے ہیں ہمارے معاشرے میں اب صرف دکھاووں کے جلوے ہیں بظاہر دیکھنے میں لوگ ولی نظر آتے ہیں مگر اصل میں باطنی طور پر شیطان کے بھائ ہوتے ہیں صرف شکلیں بنانے سے انسان ولی نہیں بنتا عمل و کردار سے ولی بنتا ہے آج ہر طرف نظر ڈالیں تو ہر دوسرا انسان قول و فعل اور کردار میں متصادم نظر آتا ہے

بشکریہ اردو کالمز