8

وفاداری کی سزا ۔۔۔۔ (قسط نمبر 3)

 

    گلگت بلتستان کی سیاست کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہاں وعدوں کی فصل بہت اچھی اگتی ہے مگر حقوق کا درخت آج تک پھل نہیں دے  سکا ہر پانچ سال بعد سیاسی موسم بدلتا ہے جھنڈے نکلتے ہیں قافلے بنتے ہیں نعرے گونجتے ہیں اور عوام کو یقین دلایا جاتا ہے کہ اب کی بار قسمت بدل جائے گی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گزشتہ تمام ناکامیاں محرومیاں اور ادھورے وعدے کسی جادوئی قلم سے مٹا دیے گئے ہوں اور سیاست کا نیا باب شروع ہونے والا ہو۔ مگر جیسے ہی انتخابات کا سورج غروب ہوتا ہے امیدوں کا چراغ بھی مدھم پڑنے لگتا ہے یہ ایک عجیب سیاسی فلسفہ ہے وعدے نئے ہوتے ہیں مگر مسائل پرانے چہرے نئے ہوتے ہیں مگر پالیسیاں پرانی نعرے نئے ہوتے ہیں مگر محرومیاں وہی پرانی۔

گلگت بلتستان کے عوام کو کبھی بجلی کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔کبھی روزگار کی نوید سنائی جاتی ہے کبھی آئینی حقوق کا لالی پاپ دیا جاتا ہے اور کبھی ترقی کے ایسے نقشے پیش کیے جاتے ہیں جنہیں سن کر لگتا ہے کہ شاید کل صبح پورا خطہ یورپ کا کوئی ترقی یافتہ علاقہ بن جائے گا مگر سوال پھر وہی ہے کہ گزشتہ اناسی برسوں کے خوابوں کا کیا بنا آخر وہ کون سا قبرستان ہے جہاں ہر الیکشن کے بعد وعدوں کو دفن کر دیا جاتا ہے؟

افسوس یہ ہے کہ عوام کو خواب دکھانے والوں سے زیادہ قصور ان خوابوں کے خریداروں کا بھی ہے ہم نے سیاست دانوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ وعدہ پورا کرنا ضروری نہیں وعدہ کرنا ضروری ہے اسی لیے ہر آنے والا سیاسی قافلہ پہلے سے بڑے خواب بیچتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ یہاں خوابوں کی منڈی گرم ہے اور خریدار سوال نہیں کرتے خریدار صرف  وعدوں پر مطمئن ہوتے ہیں 

اس خطے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ یہاں وسائل کم ہیں بلکہ بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں وسائل بہت زیادہ ہیں مگر اختیار بہت کم ہے یہاں دنیا کے بلند ترین پہاڑ ہیں یہاں دنیا کے عظیم ترین گلیشیئر ہیں یہاں ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے یہاں قیمتی معدنیات کے خزانے دفن ہیں یہاں سیاحت کی بے شمار امکانات موجود ہیں مگر ان تمام نعمتوں کے باوجود عوام کی بڑی تعداد آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص سونے کی کان پر بیٹھا ہو مگر روٹی خریدنے کے لیے قرض مانگ رہا ہو یہ المیہ صرف معاشی نہیں سیاسی بھی ہے کیونکہ وسائل وہاں ترقی لاتے ہیں جہاں وسائل پر اختیار ہو جہاں فیصلے مقامی ضرورتوں کے مطابق کیے جائیں جہاں عوام اپنے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں شریک ہو لیکن جب فیصلے کہیں اور ہوں اور نتائج کہیں اور بھگتنے پڑیں تو محرومیاں مقدر بن جاتی ہیں آج گلگت بلتستان کے نوجوان کے دل میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آخر اس کے حصے میں انتظار ہی کیوں آیا؟ اس کے بزرگوں نے قربانیاں دیں اس کے آباؤ اجداد نے وفاداری نبھائی اس کے دریا دوسروں کے لیے روشنی بنے اس کے پہاڑ دوسروں کی ترقی کا راستہ بنے مگر اس کے اپنے گھر میں اندھیرا کیوں باقی ہے یہ سوال کسی ایک حکومت سے نہیں۔پورے نظام سے ہے۔اور شاید اسی لیے جواب بھی کسی ایک جماعت کے پاس نہیں وقت آ گیا ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاست شخصیات کے گرد گھومنے کے بجائے حقوق کے گرد گھومے انتخابات نعروں کا مقابلہ بننے کے بجائے کارکردگی کا امتحان بنیں جلسوں میں جذبات کے بجائے حقائق زیر بحث آئیں اور عوام ہر امیدوار سے صرف ایک سوال پوچھےآپ ہمیں کیا دینے آئے ہیں یہ بعد کی بات ہے پہلے یہ بتائیے کہ گزشتہ وعدوں کا حساب دیں جس دن یہ سوال عام ہو گیا اسی دن سیاست کا لہجہ بدل جائے گا اور نمائیندے بھی سوچنے پر مجبور ہوجائین گے جب سر جھکائے ہر سال خاموشی سے ووٹ دئے جائیں گے تو پھر نمائیندہ کام نہیں ووٹ لینے آئے گا کیونکہ سیاستدان عوام کے شعور سے زیادہ طاقتور نہیں ہوتے وہی قومیں عزت پاتی ہیں جو اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہیں اور وہی قومیں تاریخ کے حاشیے پر چلی جاتی ہیں جو تالیاں بجاتی رہتی ہیں گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے آج بھی دو راستے ہیں ایک راستہ وہی پرانا ہے؛نعرے جذبات شخصیات اور وعدوں کا راستہ دوسرا راستہ شعور احتساب سوال اور حقوق کا راستہ ہے فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ آنے والی نسلوں کو وہ وعدوں کی سیاست ورثے میں دینا چاہتی ہے یا حقوق کی سیاست کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ محرومیوں کی معیشت ہمیشہ وعدوں کی سیاست سے جنم لیتی ہے اور جب تک وعدوں کی سیاست زندہ رہے گی محرومیوں کی معیشت بھی زندہ رہے گی۔

ایک بچہ پیدا ہوا جوان ہوا بوڑھا ہوا  اور پھر دنیا سے رخصت ہو جائے مگر اس کی شناخت کا سوال حل نہ ہو تو اس سے بڑی سیاسی ناانصافی اور کیا ہو سکتی ہے؟

دنیا میں ایسی بہت کم مثالیں ملتی ہیں جہاں ایک خطے کے لوگ نسل در نسل اپنی آئینی شناخت کے انتظار میں زندگی گزار دیں گلگت بلتستان کے کئی بزرگ اس دنیا سے رخصت ہو گئے ان کے بچے بھی بوڑھے ہو رہے ہیں مگر وہ سوال آج بھی زندہ ہے جو 1947 میں پیدا ہوا تھا اس سوال کو دبایا جا سکتا ہے، ٹالا جا سکتا ہے اس کے گرد سیاسی بیانات کی دیوار کھڑی کی جا سکتی ہے مگر اسے ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ شناخت صرف ایک قانونی اصطلاح نہیں ہوتی شناخت انسان کی عزت ہوتی ہے شناخت اس کے وجود کا اعتراف ہوتی ہے شناخت اس کے سیاسی مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے شناخت یہ احساس دیتی ہے کہ آپ اس ریاست کے برابر کے شہری ہیں محض ضرورت کے وقت یاد کیے جانے والے باشندے نہیں

المیہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام سے ہمیشہ قربانی کا مطالبہ کیا گیا لیکن اختیار دینے میں بخل سے کام لیا گیا ان سے حب الوطنی کا ثبوت مانگا گیا لیکن ان کے حقوق کی بات آنے پر خاموشی اختیار کی گئی ان سے وفاداری کی توقع رکھی گئی لیکن انہیں فیصلہ سازی کے مکمل عمل میں شریک نہیں کیا گیا یہ تضاد جتنا پرانا ہے اتنا ہی خطرناک بھی ہے کیونکہ قومیں صرف محبت سے نہیں چلتیں انصاف سے بھی چلتی ہیں ریاستیں صرف جذبات سے مضبوط نہیں ہوتیں۔مساوی حقوق سے بھی مضبوط ہوتی ہیں اور جب کہیں حقوق اور اختیارات کے درمیان فاصلہ بڑھنے لگے تو وہاں محرومی جنم لیتی ہے گلگت بلتستان کا نوجوان آج سوشل میڈیا کے دور میں زندہ ہے وہ دنیا کو دیکھ رہا ہے اپنے حقوق کو سمجھ رہا ہے آئین اور قانون کی زبان جان رہا ہے اسے محض نعروں اور جذباتی تقریروں سے زیادہ دیر تک مطمئن نہیں رکھا جا سکتا آج وہ پوچھ رہا ہے کہ اگر ہم اس ملک کے وفادار شہری ہیں تو ہمارے حقوق مکمل کیوں نہیں؟

اگر ہم اس ریاست کا حصہ ہیں تو ہماری حیثیت غیر واضح کیوں ہے؟

اگر ہماری قربانیاں قابلِ فخر ہیں تو ہماری شناخت متنازع کیوں ہے؟

یہ سوالات کسی بغاوت کی علامت نہیں یہ سوالات شعور کی علامت ہیں اور شعور کو خاموش نہیں کیا جا سکتا شاید اب وقت آ گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے مسئلے کو سیاسی فائدے اور انتخابی ضرورت کی عینک سے دیکھنے کے بجائے تاریخی انصاف کی نظر سے دیکھا جائے کیونکہ جو مسئلہ اناسی برس میں حل نہ ہو سکے وہ انتظامی نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ ہوتا ہے اور جو سیاسی مسئلہ نسلوں تک لٹکا رہے وہ آخرکار قوموں کے اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتا ہے

گلگت بلتستان کے عوام آج بھی ریاست سے لڑائی نہیں چاہتے وہ علیحدگی نہیں چاہتے وہ تصادم نہیں چاہتے وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کی وفاداری کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے اور ان کے حقوق کو صدقہ و خیرات کی طرح پیش نہ کیا جائے وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ انہیں وہ مقام دیا جائے جس کے وہ حق دار ہیں کیونکہ وفاداری اگر مسلسل آزمائش بن جائے تو تاریخ اسے محبت نہیں بلکہ ناانصافی کے نام سے یاد رکھتی ہے۔

اور شاید گلگت بلتستان کی داستان کا سب سے بڑا سوال یہی ہے

جاری ہے 

بشکریہ اردو کالمز