30

ضمیر کی اکیڈمی کو کھلا رکھیں 

ہم ایک عجیب زمانے میں جی رہے ہیں یہاں جامعات کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ڈگریاں ارزاں ہو چکی ہیں سیمینارز میں اخلاقیات پر مقالے پڑھے جا رہے ہیں مگر اس سب کے باوجود ایک ادارہ ایسا ہے جو مسلسل بند پڑا ہے میں ضمیر کی اکیڈمی کی بات کر رہا ہوں یہ وہ اکیڈمی ہے جس کا نہ کوئی کیمپس ہے نہ وائس چانسلر مگر اگر یہ کھلی رہے تو انسان کو انسان بنائے رکھتی ہے اور اگر بند ہو جائے تو پھر پورا معاشرہ ایک تجربہ گاہ میں تبدیل ہو جاتا ہے کہتے ہیں جس شخص کی ضمیر کی اکیڈمی زندہ ہو وہ کم میں بھی مطمئن رہتا ہے اس کی زندگی میں سکون خاموشی سے آتا ہے، اور رب کی رحمتیں کسی اشتہار کے بغیر اس کے حصے میں آ جاتی ہیں لیکن جس دن یہ اکیڈمی ویران ہو جائے پھر کردار کے زنگ اترنے کے بجائے گہرے ہو جاتے ہیں وہ شخص بظاہر کامیاب نظر آتا ہے مگر اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہوتا ہے

کرپشن کو ہم نے ہمیشہ غربت جہالت اور پسماندگی سے جوڑ کر دیکھا ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کرپشن کا تعلق غربت سے نہیں اہلیت سے ہے مثال کے طور پر ایک چوکیدار کو لے لیجیے وہ کسی بینک کے دروازے پر کھڑا ہے یا کسی وزیر کے دفتر کے باہر اس کی کرپشن اس کی تنخواہ جتنی ہی ہوتی ہے آنے جانے والوں سے سو دو سو روپے لے کر خود کو بڑا مگر اپنے دائرے میں مظلوم سمجھتا ہے اب یہی منظر ذرا اوپر کی سطح پر دیکھیے تعلیم بڑھتی ہے فائلوں کی تعداد بڑھتی ہے اختیار بڑھتا ہے اور کرپشن بھی مہذب ہو جاتی ہے اب رشوت جیب میں نہیں جاتی بینکوں کے راستے چلتی ہے اب کمیشن کو فیسیلیٹیشن فیس کہا جاتا ہے اور لوٹ مار کو  پالیسی ریفارم کا نام دے دیا جاتا ہے کرپشن اب بدبو دار نہیں رہتی خوشبو لگا لی جاتی ہے یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے بی اے، ایم اے، پی ایچ ڈی کرنے والا فرد۔جس نے کتابیں پڑھیں نظریات سمجھے، دنیا دیکھی اسے تو زیادہ ایماندار ہونا چاہیے تھا لیکن ہمارے ہاں عجیب الٹا سفر ہے جوں جوں علم بڑھتا ہے ضمیر سکڑتا جاتا ہے لگتا ہے ہم نے علم کو تربیت کے بغیر بانٹ دیا ہے۔ تعلیم نے عقل دی مگر تربیت نہ دے سکی اور یہی خلا ہمیں یہاں لے آیا۔

آج کے معاشرے میں کرسی جتنی اونچی ہے احتساب اتنا ہی نیچا ہے نچلا ملازم پکڑا جاتا ہے اوپر والا پالیسی لکھتا ہے چھوٹا چور حوالات میں بڑا چور تجزیہ کار بن کر ٹی وی پر بیٹھا ہوتا ہے یہی تضاد ہے جو اس ملک کو اندر سے کھا رہا ہے اور ہم اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر چکے ہیں اب ذرا حالیہ واقعے پر نظر ڈال لیجیے پی آئی اے کی نیلامی

کہا گیا کہ بولی لگی شفاف عمل ہوا سب کچھ قانون کے مطابق ایک دوسرے کو مبارک بندیاں دی گئیں مٹھائیاں بانٹی گئیں  مگر یہ صرف کہانی کا ظاہری حصہ ہے اصل کہانی وہ ہے جو بولیوں کے پیچھے لکھی جاتی ہے وہ نام جو سامنے نہیں آتے وہ مفادات جو دکھائی نہیں دیتے یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ خریدار کون ہے مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہمیں سب کچھ معلوم بھی ہو جائے تو کیا ہم کچھ کر سکتے ہیں؟ شاید نہیں یہی اصل مسئلہ ہے

ہم جانتے سب ہیں مگر بولتے کوئی نہیں ضمیر کی اکیڈمی بند ہے اور ہم سب اس بندش سے مطمئن ہیں ہمیں شور تب آتا ہے جب نقصان ذاتی ہو ورنہ قومی لوٹ مار ہمیں محض ایک خبر لگتی ہے جو اگلے دن اخبار کے نیچے دب جاتی ہے یہاں میں سوال کرتا ہوں کہ یہ سب ہو کیوں رہا ہے؟

شاید اس لیے کہ ہم نے ضمیر کو نجی معاملہ سمجھ لیا ہے حالانکہ ضمیر ایک اجتماعی ادارہ ہے جب یہ ادارہ بند ہوتا ہے تو قومیں نیلام ہو جاتی ہیں کبھی ایئر لائن کی صورت میں کبھی وسائل کی صورت میں اور کبھی مستقبل کی صورت میں سوال یہ نہیں کہ ملک کیوں اس حال کو پہنچا سوال یہ ہے کہ ضمیر کی اکیڈمی آخر خاموش کیوں ہے؟

اور کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اس خاموشی کو ہی معمول سمجھ بیٹھے ہیں؟

بشکریہ اردو کالمز