دنیا کو درپیش توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران، ماحولیاتی تبدیلیوں اور صاف توانائی کی ضرورت نے سائنس دانوں کو ایسے متبادل ذرائع کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے جو نہ صرف ماحول دوست ہوں بلکہ آنے والی نسلوں کی ضروریات بھی پوری کر سکیں۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں جوہری انضمام یا نیوکلیئر فیوژن کو مستقبل کی توانائی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ وہی عمل ہے جس کے ذریعے سورج اور دیگر ستارے توانائی پیدا کرتے ہیں۔ چین گزشتہ کئی برسوں سے اس شعبے میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے اور اب ملک نے مصنوعی سورج کی ٹیکنالوجی میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے، جسے عالمی سطح پر صاف اور تقریباً لامحدود توانائی کے حصول کی جانب ایک نمایاں قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
چین کی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف پلازما فزکس کی جانب سے تیار کردہ "کرافٹ ڈائی ورٹر پروٹوٹائپ" نے حال ہی میں ماہرانہ جانچ اور منظوری کا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ نظام جامع فیوژن ٹیکنالوجی تحقیقی مرکز (کرافٹ) کے انیس بنیادی ذیلی نظاموں میں سے ایک ہے، جہاں مستقبل کے فیوژن ری ایکٹرز کے اہم پرزہ جات تیار اور آزمائے جاتے ہیں۔
اس کامیابی کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ چین نے دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ حرارتی دباؤ برداشت کرنے والا ڈائی ورٹر پروٹوٹائپ مکمل طور پر اپنی مقامی صلاحیتوں کے ذریعے تیار کیا ہے۔ آزمائشی مراحل میں اس نظام نے فی مربع میٹر 20 میگاواٹ تک مسلسل حرارتی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، جو فیوژن ری ایکٹرز کی ترقی کے لیے ایک بڑی تکنیکی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
فیوژن ری ایکٹر میں ڈائی ورٹر کو انتہائی اہم مقام حاصل ہوتا ہے۔ یہ نظام فیوژن کے عمل سے پیدا ہونے والی اضافی حرارت اور ذرات کو خارج کرتا ہے، جبکہ ری ایکٹر کے اندر موجود آلودگیوں کو بھی کنٹرول میں رکھتا ہے۔ اگر یہ نظام مؤثر انداز میں کام نہ کرے تو مسلسل فیوژن کا عمل برقرار رکھنا ممکن نہیں رہتا۔
اس منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت جدید کوٹنگ ڈیزائن ہے، جس کے بارے میں تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ اس سے ٹریٹیم کی افزائش کی شرح میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ ٹریٹیم وہ اہم ایندھن ہے جو مستقبل کے فیوژن ری ایکٹرز میں استعمال کیا جائے گا، اس لیے یہ پیش رفت توانائی کے خود کفیل نظام کی جانب ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔
اس کامیابی کے ساتھ چین نے ڈائی ورٹر کی تحقیق، ڈیزائن، تیاری اور آزمائش کے شعبے میں مکمل خود انحصاری حاصل کر لی ہے۔ متعلقہ حلقوں کے مطابق اس سے مستقبل میں ملکی فیوژن ری ایکٹرز کی تعمیر کے لیے مضبوط تکنیکی بنیاد فراہم ہوگی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس منصوبے میں استعمال ہونے والی کئی ٹیکنالوجیز خلائی تحقیق، جدید طبی آلات، صنعتی الیکٹرانکس اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں سمیت دیگر شعبوں میں بھی استعمال کی جا سکیں گی۔
مصنوعی سورج کا بنیادی مقصد زمین پر سورج جیسا جوہری انضمام پیدا کرنا ہے۔ اگر یہ ہدف مکمل طور پر حاصل ہو جاتا ہے تو انسانیت کو ایک ایسا توانائی کا ذریعہ میسر آ سکتا ہے جو تقریباً لامحدود، ماحول دوست اور محفوظ ہوگا۔ اسی وجہ سے دنیا کے بڑے ممالک اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
چین کے مصنوعی سورج کے منصوبوں میں "ایچ ایل-3" کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ چین کا سب سے بڑا اور جدید ترین ٹوکامک فیوژن تجرباتی آلہ ہے جو سورج میں توانائی پیدا کرنے والے اصولوں کو زمین پر دہرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین کی نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن کے مطابق یہ نظام اپنے شعبے کے سب سے اعلیٰ عملیاتی معیار حاصل کر چکا ہے۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) میں قابلِ کنٹرول جوہری انضمام کو مستقبل کی اہم ترین سائنسی اور صنعتی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعبے میں تحقیق اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ صاف توانائی کے تجارتی استعمال کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکے۔
قابلِ کنٹرول جوہری انضمام حاصل کرنا سائنسی دنیا کے مشکل ترین چیلنجز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے لیے کروڑوں ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پیدا کرنا، انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان قائم رکھنا اور پلازما کو مستحکم حالت میں برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہی عوامل کسی بھی کامیاب فیوژن ری ایکٹر کی بنیاد بنتے ہیں۔
اس نظام کا ایک اہم ترین حصہ "فرسٹ وال" یا پہلی حفاظتی دیوار ہے جو انتہائی گرم پلازما کے بالکل سامنے نصب ہوتی ہے۔ یہ دیوار ٹنگسٹن، تانبے اور اسٹین لیس اسٹیل جیسے مضبوط دھاتوں سے تیار کی جاتی ہے تاکہ شدید حرارت اور ذرات کے مسلسل دباؤ کو برداشت کر سکے۔ چین اب اس اہم حصے کی تیاری، مینوفیکچرنگ اور جانچ میں بھی مکمل خود انحصاری حاصل کر چکا ہے، جبکہ اس کی کارکردگی کو عالمی سطح پر نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیقی اداروں کے مطابق ایچ ایل-3 نے حالیہ برسوں میں کئی نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ 2025 میں اس نے 12 کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ آئن درجہ حرارت اور 16 کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ الیکٹران درجہ حرارت حاصل کیا، جو اس شعبے میں ایک نمایاں کامیابی تصور کی جاتی ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق 2027 کے قریب ایچ ایل-3 میں پہلا فیوژن اگنیشن تجربہ متوقع ہے۔ اس مرحلے پر نظام بیرونی حرارت پر انحصار کم کرتے ہوئے خود اپنی توانائی سے فیوژن کے عمل کو برقرار رکھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، جو سورج کے اندر جاری عمل سے مشابہت رکھتا ہے۔
چین کے سائنسی منصوبوں کی مجموعی حکمت عملی کے مطابق 2035 کے لگ بھگ ایک تجرباتی فیوژن ری ایکٹر اور 2045 کے قریب ایک نمائشی ری ایکٹر تعمیر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد تجارتی سطح پر فیوژن توانائی کے استعمال کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اسی دوران حے فی شہر میں قائم "ایسٹ" مصنوعی سورج منصوبہ بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور رواں دہائی میں اس نے 10 کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر ایک ہزار سیکنڈ سے زائد عرصے تک اعلیٰ معیار کا پلازما برقرار رکھنے کا عالمی سنگ میل حاصل کیا ہے۔
چین کی یہ مسلسل پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک مستقبل کی توانائی کی دوڑ میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اگر فیوژن توانائی کو تجارتی سطح پر قابلِ عمل بنا لیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف توانائی کے عالمی منظرنامے کو تبدیل کر سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی تحفظ، صنعتی ترقی اور خلائی تحقیق کے نئے دروازے بھی کھول سکتی ہے۔ یوں مصنوعی سورج کا خواب محض سائنسی تجربہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے صاف، محفوظ اور پائیدار توانائی کے ایک روشن مستقبل کی امید بن چکا ہے۔
