396

کنگ میکر زکی حقیقت

    آج کل پاکستانی سیاست میں کنگزپارٹی کا لفظ بہت زیادہ استعمال میں لایا جا رہا ہے ،سانحہ9مئی سے جنم لینی والی نئی نویلی سیاسی جماعت ؛استحکام پاکستان پارٹی؛کو مستقبل قریب کی سیاست میں کنگ میکر پارٹی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ،قبل ازیں یہ اعزاز  کم و بیش دو دہائیوں تک مسلم لیگ ق کے پاس رہا جبکہ دیگر کئی جماعتیں بھی دوسرے یا تیسرے درجے پر کنگ میکر کی حیثیت سے دیکھی جاتی ہیں ، اگرچہ کنگز پارٹی کی اصطلاح نئی تو نہیں لیکن موجودہ صورتحال میں اس سیاسی اصطلاح پر گفتگو ماضی کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے ،لامحالہ اس کا سبب بھی سوشل میڈیا ہی ہے ،لیکن کنگز پارٹی پر بات کرتے ہوئے سب سے بڑا سوال جو ذہنوں میں گونجتا ہے ،وہ یہی ہے کہ! وہ کون سے خواص ہیں جو کسی سیاسی جماعت کو کنگز پارٹی کے درجے پر فائز کرتے ہیں؟چہ جائیکہ وہ جماعت نئی نویلی ہی کیوں نہ ہو،اس سوال کے جواب کی جڑیں اگرچہ ماضی بعید تک جاتی ہیں مگر اس کی حقیقی بنیاد1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں رکھی گئی۔

    1985ء کے انتخابات چونکہ غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے اس لئے ان انتخابات میں قومی سطح کی سیاست کو شدید ترین نقصان پہنچا اور مقامی سطح کی سیاست پروان چڑھی ،قومی و صوبائی انتخابات میں مقامی سیاستدانوں کوتو پنپنے کا موقع ملا لیکن اس کے ساتھ ساتھ نظریاتی سیاست دفن ہوتی چلی گئی اور حلقے کی سیاست نے بام عروج پایا ،بعد کے آنے والے ادوار میں ایسے  مقامی سطح کے سیاستدانوں کو مضبوطی ملی جنہوں نے اپنی سیاست کا محور و مرکز حلقہ کے مسائل سے منسلک کرلیا ،اس طرز سیاست سے ان سیاستدانوں کو حلقہ میں عوامی پذیرائی تو ملی لیکن ملکی سطح کی سیاست ،جمہوری اسلوب  اور نظریات تحلیل ہوتے چلے گئے،حلقے کی سیاست میں مضبوط گرفت رکھنے والے سیاستدانوں کو ہی ؛الیکٹیبلز؛ کہا جاتا ہے اور حقیقی معنوں میں یہی سیاستدان کنگ میکر ہیں،سیاستدانوں کا یہ گروہ حلقے ، علاقے ،گروہی یا ذاتی سطح کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور قومی مفادات پر سمجھوتہ کرتا ہے ،ان لوگوں کی وابستگی کسی بھی جماعت کے ساتھ مستقل نہیں ہوتی بلکہ یہ ہمیشہ اقتدار کی راہداریوں سے مربوط رہتے ہیں ۔

    حالات و واقعات بڑی سختی کے ساتھ متقاضی ہیں کہ اقتدار کے پجاری ان سیاستدانوں کو ؛الیکٹیبز؛ اور؛کنگ میکر؛ جیسے باوقار القابات دینے کی بجائے ؛مافیا ؛کا لقب دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے ،کیونکہ ملکی سیاست میں ان کے عمل دخل نے ہی ملک و قوم کو اس نہج تک لا چھوڑا ہے کہ حالات سنبھلنے کا نام ہی نہیں لے رہے ،بحران در بحران اور نقصان در نقصان کا ایک تسلسل ہے جو رکتا ہی نہیں ہے اور یہ مافیا ایک کے بعد ایک کنگز پارٹی بناتا جا رہا ہے اور اب بھی اسی مفاد پرستی میں سرگرداں ہے ،یہ مافیا جس جماعت کا حصہ بنتے ہیں نہ صرف اس کے پائوں نیچے سے زمین کھینچ لیتے ہیں بلکہ ملک و قوم کو بھی مسائل کا شکار بناتے ہیں ،تاریخ شاہد ہے کہ ان کے دم قدم سے ملک میں بہتری اور خوشحالی کی بجائے بدحالی ہی وارد ہوئی ہے ،اس مافیا نے ملکی سیاست میں اس قدر اپنی جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں کہ جمہوری اقدار اور نظم و ضبط کیلئے گنجائش ہی ختم ہوتی جارہی ہے ،درحقیقت ملک میں ایک حقیقی سیاسی جماعت کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے ۔

    حلقے کی سیاست کو پروان چڑھانے کی ایک اوروجہ بلدیاتی نظام کی غیر فعالیت بھی ہے ،بالخصوص پنجاب میں بلدیاتی نظام کو غیر فعال رکھ کر انہی الیکٹبلز کو توانائی پہنچائی گئی ،جو کام بلدیاتی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں ،وہ سب کام قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران نے سنبھال رکھے ہیں،تصور کیجئے جس ملک کے قانون ساز اپنے حلقہ انتخاب کی گلی نالی اور سڑک پکی کرانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہوں اور قانون سازی سے ان کا دور دور تک تعلق نہ ہو ،اس ملک میں خوشحالی کیونکر آ سکتی ہے ؟ملکی مسائل کا حل نہ تو میثاق جمہوریت میں ہے نہ میثاق معیشت میں اور نہ ہی پے در پے کنگز پارٹی بنانے میں ،بلکہ جب تلک بلدیاتی نظام کو تسلسل نہیں دیا جاتا ،جب تک حلقے کی سیاست ،علاقے کی سیاست اور گروہی سیاست کا قلع قمع نہیں کیا جاتا ،جب تک ملکی سیاسی جماعتوں کی سیاست نظریات پر استوار نہیں ہوتی یا نظریات رکھنے والی نئی سیاسی جماعت پروان نہیں چڑھتی تب تک کسی بھی بہتری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ،موجودہ سیاسی اسلوب میں کنگز پارٹی کی گنجائش پہلے بھی موجود تھی ،اب بھی ہے اور آئندہ بھی برقرار رہے گی ۔

 

بشکریہ اردو کالمز