خیر و شر کی آویزش ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی ،اسلام اور عیسائیت کے درمیان بھی کچھ ایسا ہی تعلق قائم ہے جس کی تاریخ صدیوں تک پھیلی ہوئی ہے ،عالم اسلام کی ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو اسلام کا غلبہ و برتری اور عیسائیت کا خوف بڑا واضح دکھائی دے گا ،پہلی ہجری صدی میں یہودیت اور عسائیت کا مرکز یروشلم اور شام ہوا کرتا تھا جسے مسلمانوں نے فتح کرکے وہاں اسلام کا جھنڈا لہرا دیا ،دوسری ہجری صدی میں مسلمانوں نے یورپ کے اہم ترین حصے اندلس (سپین،فرانس،پرتگال) کو فتح کیا ،اس کے بعد سلطان محمد فاتح کے دور میں عیسائیوں کا نامی گرامی مرکز قسطنطنیہ کو فتح کرکے عیسائیوں کو ضرب کاری لگائی گئی ،پھر اسلام اور عیسائیت کے مابین تاریخ کی طویل ترین معرکہ آرائی ہوئی جسے صلیبی جنگوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ،یہاں بھی سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے مرد مجاہد نے عیسائیوں کو دھول چاٹنے پر مجبور کردیا ،اسلام اور عیسائیت کی یہ طویل کشمکش ایک ٹھوس تاریخی حقیقت ہے ۔
ساڑھے چودہ سو سالہ اس معرکہ آرائی میں کم وبیش ساڑھے بارہ سو سال تک مسلمانوں کو غلبہ حاصل رہا جبکہ مختلف ادوار میں مجموعی طور پر کم و بیش دو سو سال تک عیسائیوں نے آزادانہ زندگی گزاری ہے ،ان دو سو سالوں میں حالیہ گزرنے والی صدی بھی شامل ہے ،آج سے ایک صدی قبل جب سلطنت عثمانیہ کے مقابلے میں عیسائیوں اور یہودیوں کو فتح حاصل ہوئی تو مسلمانوں کا دنیا پر غلبہ ختم ہو گیا پھر درجنوں ملکوں نے جنم لیا اور عیسائیوں یہودیوں کے دور کا آغاز ہوا ،اگرچہ ایک صدی بیت چکی ہے مگر عیسائی اور یہودی آج بھی زخم خوردہ دکھائی دیتے ہیں ،کئی صدیوں تک مسلمانوں کے زیر نگیں رہنے والے آج بھی مسلمانوں سے خوفزدہ ہیں،گزرنے والی صدی میں مسلمانوں کو پسماندگی میں دھکیلنے ،خانہ جنگی و باہمی دشمنی کا شکار بنانے کیلئے ہر قسم کے حربے آزمائے گئے مگر پھربھی اسلام کے غلبے کا راستہ روکنے میں ناکام ہیں اور غلبے کے خوف میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
عصر حاضر میں عیسائیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے لیکن جس تیزی کے ساتھ اسلام دنیا میں پھیلتا جا رہا ہے ،اہل مغرب کے اندازوں کے مطابق اس صدی کے وسط تک اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا ،اقوام عالم میںمسلم اکثریتی ممالک کی تعداد57ہے اور آج دنیا میں مسلمانوں کی تعداد2ارب کے قریب پہنچ چکی ہے ،کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کی30فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے ، اور زمین کا اہم ترین اور وسیع رقبہ بھی مسلمانوں کے تصرف و قبضے میں یہ رقبہ روئے زمین کا ایک چوتھائی حصہ بنتا ہے ،مسلم دنیا کے خطے سرسبز و شاداب اور قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہیں،قدیم تہذیبوں کے محور ومرکز بھی یہی مسلم خطے ہیں ،اہم ترین آبی گزرگاہیں بھی عالم اسلام کے حصے میں ہیں جو عالمی تجارت اور دفاعی لحاظ سے اہمیت کی حامل ہیں،عسکری طاقت کے حوالے سے مسلمان ممالک جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی میں اہل مغرب سے پیچھے ضرور ہیں لیکن افرادی قوت اور وسائل کے لحاظ سے اسلامی دنیا کا کوئی مقابلہ نہیں،عالم اسلام میں ترکی و الجزائر سے لے کر افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک تک جنگجو، طاقت آزما اور بہادر افراد دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ، آج اسلام ہر محاذ اور ہر میدان میں عیسائیت کے مد مقابل کھڑا ہوا ہے،مسلمان پورے اسلامی تشخص اور تہذیبی شناخت کے ساتھ ہر میدان میں یورپ و امریکہ میں اپنا وجود تسلیم کرا رہے ہیں ،عیسائیت کی جز وقتی برتری اب ختم ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے اور انہیں یہ خوف لاحق ہے کہ اگر عالم اسلام کو کوئی مضبوط قیادت میسر آ گئی تو وہ دن دور نہیں جب اہل مغرب کی طاقت اور قیادت کا شیرازہ بکھر جائے گا ۔
گزرنے والی صدی اپنے آغاز میں مسلمانوں کے زوال کو دیکھ چکی ہے مگر جب اس صدی کا اختتام ہو رہا تھا تو دنیا میں اسلامی غلبے کے آثار پھر سے واضح ہونا شروع ہو چکے تھے جو کہ اب زیادہ واضح ہو چکے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ عالم اسلام اپنے اندرونی مسائل میں الجھا ہے اور اپنے ابھرتے ہوئے غلبے سے بھی غافل ہے مگر عیسائی دنیا نہ صرف اس غلبے کو محسوس کر چکی ہے بلکہ غلبے کے خوف سے ایسی حرکات و سکنات کرنا شروع ہو چکی ہے جن سے ان کی بے چینی کا خوب اندازہ لگایا جا سکتا ہے ،اسلام دشمن عناصر کی ان بزدلانہ حرکات کو ہی اسلامو فوبیا کا نام دیا گیا ہے ،اسلامو فوبیا کا مظاہرہ کرنے والے ممالک میں بھارت ،فرانس سمیت یورپی ممالک بالخصوص سویڈن ،ڈنمارک زیادہ نمایاں ہیں،ان ممالک میں اسلام مخالف مذموم حرکات کرنے کا ایک تسلسل قائم ہو چکا ہے ،عید الاضحی کے موقع پر سویڈن میں قرآن پاک نذر آتش کرنے کی گھنائونی حرکت بھی اسی کا شاخسانہ ہے جس پر دنیا بھر سے لعن طعن کی جا رہی ہے ۔
اہل مغرب کے اسلام مخالف ایسے گھنائونے افعال جہاں ان کی اخلاقی پستی کا مظہر ہیں وہاں ان سے عالم اسلام کی برتری کا خوف بھی جھلکتا ہے لیکن اس کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اسلام مخالف عناصر کی ان مذموم حرکات سے جہاں اہل اسلام کی دل آزاری ہوتی ہے وہاں اس غیر مسلم معاشرے میں اسلام کی تشہیر بھی خوب ہوتی ہے اور غیر مسلموں کو اسلام کے بارے میں جاننے کا اشتیاق بھی پیدا ہوتا ہے اور جو غیر مسلم حقیقت کے متلاشی ہوتے ہیں وہ اسلام کے متعلق درست معلومات حاصل کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں ،مغرب سمیت دیگر غیر مسلم ممالک میں اسلام قبول کرنے کے رحجان میں اضافے کے پیچھے ایسے ہی عوامل کارفرما ہیں،بدقسمتی سے مسلمان ممالک کی سوجھ بوجھ ان معاملات میں کم فہمی کا شکار ہے اور مسلمان حکومتیں درست اندازے لگانے سے قاصر ہیں ،ٹھوس اور موثر پالیسیوں کا شدید فقدان ہے ، اسلام مخالف عناصر کی ان گھنائونی و بزدلانہ کاروائیوں کا بہترین جواب یہی ہے کہ اہل مغرب اور دیگر غیر مسلم ممالک میں اسلام کی درست عکاسی کرنے کیلئے باقاعدہ مہم چلائی جائے اور غیر مسلم لوگوں تک اسلام کی حقیقی معلومات پہنچائی جائیں کیونکہ مغرب کے غیر مسلم عوام میں حقیقت پسندوں کی اکثریت موجود ہے لیکن یہ لوگ اسلام کے اصل تشخص سے آگاہی نہیں رکھتے بلکہ بگاڑ کر پیش کئے گئے اسلام کو جانتے ہیں اگر ان لوگوں تک حقیقت پہنچ جاتی ہے تو یہی لوگ اسلام کے جھنڈے تلے آ کھڑے ہوں گے پھر یورپ کو فتح کرنے کیلئے کسی معرکہ آرائی کی ضرورت ہی ختم ہو جائے گی اور کچھ مدت بعد یہاں خوبخود مسلمانوں کی اکثریت اور غلبہ قائم ہو جائے گا۔
372