الیکشن الیکشن الیکشن یہ وہ لفظ ہے جو آج کل بہت زیادہ استعمال میں لایا جارہا ہے ،کسی کو الیکشن کی جلدی اور کسی کو الیکشن سے الرجی،کوئی اس کے فوائد بتاتے نہیں تھکتا اور کوئی اس کے مضر اثرات اور خدشات پر مسلسل روشنی ڈالنے میں مشغول ،الیکشن کی جلدی والے ہوں یا الرجی والے حیرت انگیز طور پر مخاطب عوام کو ہی کرتے ہیں جن کا الیکشن ویکشن سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا،عوام کیلئے تو الیکشن بھی ایک تہوار جیسا ہوتا ہے جب تک تہوار منایا جاتا ہے تب تک مسرت کی لہر قائم رہتی ہے ،تہوار ختم ہوتے ہی عوا م کی آس و امید کا گھروندا بالکل اسی طرح ویران ہوجاتا ہے جیسے بقراعید کے بعد قصابوں کی دوکان ،عصر حاضر میں بھی الیکشن الیکشن کے اس کھیل سے عوام کو ناکوں چنے چبوا ئے جا رہے ہیں اور اس ملک کے عوام بھی کمال کے ہیں ارباب اختیار و اقتدار ان کو جس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاتے ہیں یہ خوشی خوشی اسی ٹرک کے مقلد بن جاتے ہیں ،نہ ان کو راستوں کی خبر ،نہ سفر کا مقصد معلوم اور نہ ہی منزل کی پرواہ ،کبھی اس ٹرک کی بتی کے پیچھے اور کبھی اُس ٹرک کی بتی کے پیچھے ،یہی وجہ ہے کہ گزشتہ76سال کے دوران مقصدیت تک بھی نہ پہنچ سکے،گھوم پھر کر آج بھی وہاں ہی کھڑے ہیں جہاں سے سفر کا آغاز کیا تھا ۔
جب سے سیاستدانوں نے پارلیمنٹ میں سیاسی امور طے کرنے کی صلاحیت گنوائی ہے تب سے سیاستدان اپنے حصے کا یہ کام عدلیہ سے سرانجام دلانے کیلئے سرگرم عمل ہیںجس کے باعث اب ایوان عدل میں بھی سیاسی امور پر سماعتیں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ان دنوں ملک میں قانون سازی ،قانون شکنی اور عدلیہ پر گفتگو کا زور ہے ،مختلف آئینی نکات زیر بحث لائے جا رہے ہیں ،دیکھا جائے تو اس سارے منظر میں سیاستدانوں کے ہاتھوں ملک کے دیگر خودمختار اداروں کی درگت بنتے نظر آ رہی ہے اور ان پر طرفداری یا مداخلت کے الزمات کا ایک انبار لگایا جاچکا ہے ،آئین و قانون کو پس پشت ڈالنے ، ملکی سلامتی کو نظر انداز کرنے اور قومی وقار کو پامال کرنے جیسے قبیح افعال تو پہلے سے ہی سرانجام دیئے جارہیتھے لیکن اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ نظام عدل کو بھی خطرے میں ڈالنے سے گریز نہیں کیا گیا ،جبکہ دوسری جانب آئین کے پچاس سال پورے ہونے پر گولڈن جوبلی منانے کی تیاریاں بھی شروع ہو چکی ہیں،عجب تماشا ہے کہ آئین کی گولڈن جوبلی کے اس اہم ترین سنگ میل پر پہنچنے کے بعد بھی ہم آئین کے حقیقی نفاذ سے کوسوں دور کھڑے ہیں۔
کیا آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی اور ملک کے بدترین حالات متقاضی نہیں ہیں کہ ہم بطور شہری سنجیدگی سے غور و غوض کریں اور اپنے اپنے حصے کا کام کرتے ہوئے اپنے وطن کو درست سمت میں گامزن کرنے کیلئے کردار ادا کریں ،جو عام شہری ہیں وہ ووٹ دیتے وقت اپنی رائے کا اظہار ملکی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اظہار رائے کریں ، اپنے قومی اداروں کے وقار اور قومی اثاثوں کی حفاظت کو مقدم رکھیں ،جو صاحب اختیار طبقہ ہے وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ملکی مفاد کو اولین ترجیح دیں،خود مختار ریاستی اداروں کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ملک کو موجودہ بحرانی کیفیت سے نکالنے کیلئے خصوصی طور پر کردار اداکریں، اس وقت ملک میں سیاسی افراتفری اور معاشتی ابتری اپنے عروج پر پہنچی ہوئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ ناقص،کمزور اوربے ہنگم سیاسی نظام ہے ،ملکی اداروں کو حدود و قیود میں رہنے کی دھونس جمانے والے سیاستدان سیاست کے میدان میں ہر ایک حد کو کراس کرتے جارہے ہیں ،عدلیہ کو آئینی لیکچر دینے والا یہ طبقہ خود کو کسی آئین کا پابند نہیں سمجھتا اور اگر اسے پابند بنانے کی کوشش کی جائے تو ذاتی اغراض ومقاصد کیلئے راتوں رات قانون سازی سے بھی دریغ نہیں کرتا ،ملکی مسائل کی اصل جڑ بھی یہی ہے اور جب تک اس جڑ کو نہیں اکھاڑا جاتا بہتری کی توقع خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔
ملکی مسائل جس قدر بگاڑ کو شکار ہیں ان کا حل اس قدر ہی سادہ ہے ،حالات بہت شدت سے تقاضا کر رہے ہیں کہ اب ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں،ملک کے طاقتور حلقوں کو اپنا کردارادا کرنا ہو گا اور تمام سیاسی طاقتوں کو جمہوری انداز میں آگے بڑھنے کیلئے قائل کرنا ہو گا ،ملک جس نہج پر پہنچ چکا ہے الیکشن سے بہتری نہیں لائی جا سکتی ،تمام سیاسی طاقتوں کے مشاورت اور رضامندی کے ساتھ تین سالہ قومی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے اور انتخابات کو تین سال کیلئے ملتوی کردیا جائے ،قومی حکومت سب سے پہلے معاشی بدحالی کو دور کرنے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے اور تمام سیاسی جماعتیں اور قومی ادارے اس میں پرجوش کردار اداکریں،اس کے بعد غیر متنازعہ مردم شماری کی جائے ،لا محالہ ملکی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے ،لہذا نئی مردم شماری کے بعد ملک کے گنجان آباد علاقوں میں نئی وارڈز ،یونین کونسلز ،تحصیلیں اور اضلاع کا قیام ایک آئینی تقاضا ہے ،قومی و صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا جبکہ نئے صوبوں کا قیام بھی وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے ،تین سالہ قومی حکومت پہلے مرحلے میں انتہائی ضرورت کے حامل درج بالا انتظامی امور کو سرانجام دیکر ملکی نظام کو حقیقی معنوں میں ایک درست سمت کی جانب گامزن کرسکتی ہے ۔
دوسرے مرحلے میں ملکی آئین کی روح کے مطابق سیاسی نظام کو ڈھانچہ ترتیب دیا جائے ،سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کو آمرانہ قیادتوں سے نجات دلائی جائے اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت قائم جائے ، سیاسی جماعتوں کے جماعتی انتخابات کو سرکاری حیثیت دی جائے اور ان کا انعقاد الیکشن کمیشن کے ذریعے ممکن بنایا جائے تاکہ سیاسی کارکنان اپنی رائے کے ذریعے اپنے قائدین کا انتخاب کر سکیں نہ کہ سیاسی جماعتوں کے آمرانہ سربراہ کارکنان پر اپنی مرضی کی قیادتیں مسلط کریں ،قومی اور صوبائی اسمبلی کیلئے ان لوگوں کو نامزد کیا جائے جو اسمبلیوں میں جا کر قانون سازی کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں نہ کہ اپنے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کرنے میں ماہر ہوں ،قانون ساز اسمبلی کے ممبران کا کام صرف قانون سازی ہے ،عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبہ جات کیلئے بلدیاتی نظام موجود ہے جسے جان بوجھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے ،پہلے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد اور اس کے بعد قومی و صوبائی انتخابات کا انعقاد کرکے اقتدار منتخب حکومتوں کو مستقل کردیا جائے،پیش کیا گیا حل اگرچہ سادہ ہے مگر اس پر عمل درآمد کیا امید نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ با اثر طبقے ملکی خوشحالی کے کیلئے اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے سے تو رہا ۔۔!
283