راحیمہ بی بی کیس ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت ہمارے سامنے لے آیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی اب صرف پہاڑوں، خفیہ ٹھکانوں یا سرحدی گزرگاہوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کی زرد اکاس بیل سر سبزگھریلو زندگی، خاندانی رشتوں اور سماجی کمزوریوں تک پھیل چکی ہے۔ کوئٹہ میں 18 اپریل کو حکومت بلوچستان کی پریس بریفنگ میں راحیمہ بی بی کے اعترافی بیان نے اس منظم نیٹ ورک کی پرتیں کھول دی ہیں جس میں خواتین کو استعمال کیا جا رہا ہے، گھروں کو پناہ گاہ بنایا جا رہا ہے، افغانستان کی سرزمین دہشت گردوں کی تربیت گاہ بن رہی ہے اور پاکستان کے خلاف ایک منظم جنگ لڑی جا رہی ہے۔ یہ معاملہ محض ایک خاتون یا ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے خلاف ایک ایسے منظم منصوبے کی نشاندہی ہے جس میں دہشت گرد تنظیمیں، سہولت کار، سرحد پار ٹھکانے، بیانیہ ساز عناصر اور سماجی کمزوریوں کے ذریعے عام لوگوں کا استحصال کرنے والے گروہ سب شامل ہیں۔ راحیمہ بی بی کے بیان کے مطابق اس کے شوہر نے ایک خاتون خودکش حملہ آور کو پناہ دی، اسے افغانستان بھجوایا گیا، وہاں تربیت دی گئی اور پھر پاکستان میں ایف سی کیمپ پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ انکشاف اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اب روایتی دہشت گردی سے آگے بڑھ کر سماجی ڈھانچے کے اندر سرایت کر چکا ہے۔ یہ بات خاص طور پر تشویش ناک ہے کہ خواتین کو اس جنگ میں بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ہم کراچی میں ایک بلوچ خاتون کی گرفتاری سمیت متعدد واقعات میں یہ دیکھ چکے ہیں۔ بلوچستان کی روایات میں عورت عزت، تحفظ اور احترام کی علامت سمجھی جاتی ہے، مگر دہشت گرد گروہوں نے اسی تقدس کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنا لیا ہے۔ خواتین کو نفسیاتی دباؤ، جذباتی استحصال اور نظریاتی پراپیگنڈے کے ذریعے اس راستے پر ڈالا جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ تہذیبی اور اخلاقی حملہ بھی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس حوالے سے درست کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کسی ایک مقامی گروہ کی کارروائی نہیں بلکہ ایک وسیع نیٹ ورک کی کڑیاں ہیں، جنہیں بیرونی سرپرستی، مالی معاونت اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔ ان کا یہ بیان قومی بیانیے کو مضبوط کرتا ہے کہ بلوچستان میں بدامنی پیدا کرنے والی قوتیں دراصل پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی منظم کوشش کر رہی ہیں۔ یہ جنگ صرف بندوق کی نہیں بلکہ بیانیے، نفسیات اور معاشرتی کمزوریوں کی جنگ بھی ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں جیسے بی ایل اے اور بی ایل ایف صرف مسلح کارروائیاں نہیں کرتیں بلکہ پہلے ذہن سازی کرتی ہیں۔ نوجوانوں میں محرومی کا احساس پیدا کیا جاتا ہے، ریاست کے خلاف شکوک پیدا کیے جاتے ہیں اور پھر انہی کمزور ذہنوں کو تشدد کے راستے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ عمل کئی سطحوں پر چلتا ہے، یہ تہہ در تہہ سازش ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا اور بعض نام نہاد انسانی حقوق کے پلیٹ فارم ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ بناتے ہیں، دوسری طرف دہشت گرد گروہ اسی ماحول سے بھرتی کا مواد حاصل کرتے ہیں۔ یہ کہنا شاید بعض حلقوں کو ناگوار گزرے مگر حقیقت یہ ہے کہ بیانیہ سازی اور دہشت گردی کے درمیان ایک باریک مگر حقیقی ربط موجود ہے۔ جب نوجوانوں کو مسلسل یہ بتایا جائے کہ ریاست دشمن ہے، ادارے ظالم ہیں اور تشدد مزاحمت ہے، تو شدت پسند گروہوں کے لیے بھرتی آسان ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکیورٹی ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ دہشت گردی صرف ہتھیار سے نہیں بلکہ الفاظ سے بھی پروان چڑھتی ہے۔اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو وہ ہے جس کی طرف بلوچستان حکومت نے اشارہ کیا کہ جب ایسے افراد پکڑے جاتے ہیں یا کارروائی ناکام ہوتی ہے تو انہیں فوراً ’’لاپتہ افراد‘‘ قرار دے کر ایک بیانیے میں بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح اصل دہشت گرد نیٹ ورک پس منظر میں چلا جاتا ہے اور ریاستی ادارے کٹہرے میں کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ یہ حکمت عملی دہشت گردی اور پراپیگنڈے کے گٹھ جوڑ کو ظاہر کرتی ہے۔راحیمہ بی بی کے کیس میں افغانستان کا کردار بھی ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔ اگر ایک خاتون کو بلوچستان سے افغانستان لے جا کر تربیت دی جاتی ہے اور پھر واپس پاکستان میں حملے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ محض داخلی مسئلہ نہیں رہتا۔ یہ سرحد پار دہشت گردی کی واضح مثال ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ ایسے واقعات اس مؤقف کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بلوچستان پاکستان کا کمزور حصہ نہیں بلکہ طاقت کا محور ہے۔ معدنی وسائل، ساحلی اہمیت، جغرافیائی محل وقوع اور علاقائی تجارت کے تناظر میں بلوچستان کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن قوتیں اسے غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں۔ گوادر سے لے کر سی پیک تک، بلوچستان پاکستان کی اقتصادی شہ رگ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے یہاں دہشت گردی کا مقصد صرف خون بہانا نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کو نشانہ بنانا بھی ہے۔ قومی بیانیہ یہی کہتا ہے کہ بلوچستان کے عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مگر چند مسلح گروہ بیرونی سرپرستی کے تحت بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ بلوچ عوام کی محرومیوں کا حل دہشت گردی نہیں بلکہ ترقی، شمولیت اور سیاسی عمل ہے۔ ریاست کو ایک طرف دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا ہوگا اور دوسری طرف عوام کو زیادہ اعتماد، ترقی اور مواقع دینا ہوں گے۔ یہ دوہرا راستہ ہی پائیدار امن لا سکتا ہے۔ راحیمہ بی بی کیس ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دہشت گردی کی نئی شکلیں زیادہ پیچیدہ اور زیادہ خطرناک ہیں۔ اب دشمن مورچوں میں نہیں، معاشرے کے اندر چھپا ہے۔ وہ گھروں کو استعمال کر رہا ہے، خواتین کو ہتھیار بنا رہا ہے، جذبات کو بھڑکا رہا ہے اور بیانیے کو جنگی ہتھیار میں بدل رہا ہے۔ ایسے میں قومی اتحاد، مضبوط ریاستی ردعمل اور واضح قومی بیانیہ ناگزیر ہو چکا ہے۔پاکستان کو اس جنگ میں صرف بندوق سے نہیں بلکہ شعور سے جیت پانا ہوگی۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں، بیانیہ سازوں اور بیرونی سرپرستوں کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ بلوچستان کو دشمن کے پراکسی میدان میں بدلنے کی ہر کوشش ناکام بنانی ہوگی۔ یہی وقت ہے کہ ہم سمجھیںکہ یہ جنگ بلوچستان کی نہیں، پاکستان کی جنگ ہے اور اس جنگ میں قومی وحدت ہی سب سے بڑی فتح ہے۔
79