ہفتے کا دن عام طور پر میری زندگی کا سست ترین دن ہوتا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ کوئی بیرونی مصروفیت نہ ہو۔ سردیوں کی دھوپ ہو ، جی چاہتا ہے رضائی میں دیر تک پڑا رہوں، کمرے میں چائے کی خوشبو رچی رہے اور وقت اپنی رفتار میرے مزاج کے ساتھ طے کرے۔ہمیں تو سکول سے ایک ہی ہفتہ وات چھٹی ہوتی تھی ،اب بچے زیادہ چھٹیاں پاتے ہیں۔اس روز مناہل کی بھی سکول سے چھٹی ہوتی ہے، اس لیے گھر میں ایک الگ سی رونق رہتی ہے۔ اس کی ماں ہم دونوں کے لیے کھانے پکاتے ہوئے خوش ہوتی ہے۔میرا اس ہفتے بھی کچھ ایسا ہی موڈ تھا۔دو دن پہلے ’’ پریشر ککر‘‘ شروع کیا تھا۔ چھٹی کے دن اسے ختم کرنا تھا۔صدیق سالک کی بھارتی قید کی روداد بہت سال پہلے پڑھی تھی ، ہمہ یاراں دوزخ،بہت دنوں سے سنجیدہ اور نان فکشن پڑھ رہا تھا ،موڈ تھا کہ یہ بھی پڑھ لوں۔ کوئی گیارہ بجے کا وقت ہوگا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ سکرین پر نام چمکا،سید مختار رضوی۔ لاہور میں ان جیسے لوگ اب کم رہ گئے ہیں جو شہر کو صرف رہائش نہیں، وراثت سمجھتے ہیں۔ ان کا خاندانی ادارہ دارالعلوم حزب الاحناف، کربلا گامے شاہ کے دروازے کے بالکل ساتھ ہے۔ایک ایسا دینی و تعلیمی مرکز جس کی بنیاد ان کے دادا سید دیدار شاہ اور والد سید ابوالحسنات محمد احمد رضوی نے رکھی تھی۔ یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس عمارت کی زمین پر کبھی سر میلہ رام اور ان کے فرزند سر سرن داس کی لال کوٹھی ہوا کرتی تھی۔کہیں کھدائی ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ لاہور میں عمارتیں نہیں، زمانے ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے ہیں۔ مختار شاہ صاحب نے بغیر تمہید کے کہا: ’’یہاں سڑک چوڑا کرنے کے لئے کھدائی ہو رہی ہے… اور کچھ عجیب چیزیں نکلی ہیں۔‘‘ چند لمحوں بعد واٹس ایپ پر تصاویر آئیں۔ ملبے میں بکھرے ہڈیوں کے ٹکڑے،ٹوٹے، بکھرے، بینام۔ نہ یہ واضح تھا کہ انسانی ہیں یا جانوروں کے، مگر ان کی خاموشی چونکا دینے والی تھی۔ میں نے فوراً برادرم مرزا عثمان بیگ کو فون کیا کہ اگر وہ اس علاقے کے قریب ہوں تو شواہد ریکارڈ کر لیں۔مرزا عثمان بیگ پاکستان مین قبروں کی تلاش اور کھوج میں نامور ہیں،انہوں نے ساتھ ہی برادرم عادل لاہوری کو بھی اطلاع دے دی ۔سچ بات ہے عادل لاہور میں لاہور کا مزاج مہکتا ہے، مجھے عادل بہت پسند ہے۔کھدائی کہیں ہو تو پتہ ہی نہیں چلتا ۔ لاہور میں ایسے مواقع ضائع ہو جانا کوئی نئی بات نہیں۔میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ موقع ہاتھ سے جائے۔مناہل اور بیگم میرے باہر جانے کا سن کر کچھ ناراض سی ہو گئیں لیکن وہ میری دلچسپیوں کو سمجھتی ہیں۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ یہاں سے کچھ پتھر کی تختیاں بھی ملی ہیں جن پر دیوناگری یا سنسکرت سکرپٹ نقش تھا۔ میں فوراً پہنچا، مگر وہاں کوئی تحریر والی تختی نظر نہ آئی۔ یا تو ملبہ اٹھانے والی گاڑی انہیں لے گئی تھی، یا کسی ہوشیار آنکھ نے وقت پر پہچان کر غائب کر دیا تھا۔ لاہور کی زمین بڑی رازدار ہے۔ میں نے ملبے میں بکھری ہوئی چند ہڈیوں کی تصویریں بنائیں۔ ساتھ ہی پتھر کی کچھ سلیبیں بھی نظر آئیں، مگر ان پر کوئی واضح نقش نہ تھا۔ دل میں ایک عجیب سا خیال آیا کہ اگر کھدائی ذرا اور گہری ہوتی تو شاید بہت کچھ سامنے آ جاتا۔یہاں مغل دور میں قبروں اور بعض مزارات کا پتہ چلتا ہے۔ یہ علاقہ انگریز دور میں باقاعدہ آباد ہوا، مگر اس سے پہلے مہاراجہ رنجیت سنگھ اور مغل دور میں بھاٹی دروازے کے سامنے یہ میدانِ جنگ رہا ہے۔ قریب ہی انگریز دور میں برف کا کارخانہ بھی تھا،یعنی یہ زمین ہمیشہ کسی نہ کسی سرگرمی کے بوجھ تلے رہی ہے۔ جس چیز نے مجھے واقعی چونکا دیا، وہ تیز سرخ رنگ کا ایک پتھر تھا۔ کوئی تین فٹ ضرب ڈیڑھ فٹ کا، بے ڈھب سا ٹکڑا۔ ایک جانب انسانی ہاتھوں سے اسے گولائی دی گئی تھی، جیسے اسے کسی خاص مقصد کے لیے تراشا گیا ہو۔ یہ عام تعمیراتی پتھر نہیں تھا۔ میں نے ملبے میں پڑے اس بڑے پتھر سے ایک تین، ساڑھے تین کلوگرام وزنی ٹکڑا الگ کر لیا۔ کرین مسلسل چل رہی تھی، جیسے اسے جلدی ہو اور ماضی کو سمیٹ کر کہیں اور پھینک دینا ہو۔ یہ وہ آبادی ہے جہاں انگریز دور میں ہندو، سکھ اور مسلمان وکیلوں نے گھر بنائے تھے۔ کچہری قریب تھی، اس لیے پیشہ ور طبقہ یہاں آباد ہوا۔ دو تین مزارات بھی اسی علاقے میں ہیں، گویا یہ خطہ ہمیشہ خانقاہ، قانون اور زندگی کے بیچ کہیں ٹھہرا رہا ہے۔مختار شاہ صاحب نے ایک اور بات بتائی جو اس کہانی کو بالکل نئے رخ پر لے گئی۔ جس جگہ کھدائی ہوئی، وہاں نکڑ پر بابا نیاز کا پان سگریٹ کا کھوکھا تھا۔ بابا نیاز، یہاں کے رہائشی فیصل اویس مٹو ایڈووکیٹ کے کرایہ دار تھے۔ فیصل اویس نے بتایا کہ ان کا خاندان آزادی سے بہت پہلے ایمن آباد سے آ کر یہاں آباد ہوا تھا۔انہوں نے ایک پرانی بات یاد کرتے ہوئے بتایا کہکئی سال پہلے جب گھر کی رہائشی سہولت کو کشادہ کرنے کی ضرورت پیش آئی تو صحن کی کھدائی کروائی گئی۔ وہاں سے ایسی بڑی پتھر کی سلیں نکلیں جن پر دیوناگری یا سنسکرت میں کچھ تحریر تھی۔ اس وقت انہیں محض ملبہ سمجھ کر پھینک دیا گیا۔ نہ تصویر بنی، نہ کسی ادارے کو خبر دی گئی۔ لاہور میں تاریخ اکثر ایسے ہی کوڑے دان میں چلی جاتی ہے۔ فیصل اویس کا خیال ہے کہ ان آثار سے یہی لگتا ہے کہ یہاں کبھی کوئی چھوٹا سا قدیم مندر تھا۔ یا تو وہ خستہ حال ہو کر خود ہی منہدم ہو گیا، یا رہائشی مقاصد کے تحت اسے ہموار کر دیا گیا۔ مگر اس عمل میں اس کا تعمیراتی مٹیریل یہیں دب گیا۔ میرے لیے حیرانی کے در ابھی بند نہیں ہوئے تھے۔ سرخ پتھر میرے ہاتھ میں تھا، مگر سوال میرے ذہن میں تھے۔ یہ پتھر کہاں سے آیا؟ کس دور کا ہے؟ کیا یہ کسی مذہبی ساخت کا حصہ تھا، کسی دروازے کی دہلیز، کسی مورتی کی بنیاد؟ اور ہڈیاں،یہ کس کہانی کا اختتام ہیں؟ لاہور کی زمین بولتی نہیں، سرگوشی کرتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ کوئی سننے والا ہو۔ اس دن گھر کا آرام، سستی اور ہفتے کی بے فکری کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔ میں ایک ایسے دروازے پر کھڑا تھا جس کے پار ابھی بہت کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا،مگر اتنا ضرور تھا کہ اب واپسی ممکن نہیں رہی تھی۔میں آج کچھ دروازے پار کرنا چاہتا تھا۔ پتھر کا ٹکڑا کوئی قیمتی نہیں ،یہ مجھے معلوم تھا لیکن اس کی ایک قدیم اور گنجان علاقے میں چھ فٹ گہرائی سے دریافت کئی کہانیوں کا سرا ہے۔(جاری ہے…)
116