ٹرمپ ماہرین نفسیات کے لئے ایک ٹیسٹ کیس بن چکے ہیں۔ ٹرمپ کے غیر یقینی مزاج پراُس وقت زیادہ تشویش ہوئی جب انہوں نے سعودی ولی عہد کےبارے نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے ٹھیک دو دن بعد ان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور خطے کی صورت حال ، جنگ بندی شرائط پر تبادلہ خیال ہوا۔ جس کے بعد ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو دنیا کا ذہین ترین شخص قرار دے دیا۔ قوی گمان ہے کہ حواس باختہ امریکی صدر کسی بھی وقت اس بیان سے مکر جائیں گے۔ محسوس یہی ہوتا ہے کہ ٹیلی فونک رابطے کے دوران ٹرمپ نے جنگ بندی بارے مشاورت کم اپنے گزشتہ ریمارکس پر شرمندگی کا اظہار زیادہ کرتے ہوئے معافی مانگی ہوگی۔ دنیا بھر کے تمام مسلم حکمران اورعوام کو ٹرمپ کے مشکوک رویئے بارے قطعاً کسی خوش فہمی کا شکارنہیں ہونا چاہئے۔ ایسا منتشر المزاج ، تشدد پسند شخص کبھی خیر کی خبر نہیں لائے گا۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ میں موجود یہودی لابی اسے کسی خاص ایجنڈے کے تحت صرف دنیا میں آگ لگانے کیلئے برسراقتدار لائی ہے۔ امریکی عوام کو بھی اپنی تاریخی بلکہ سیاہ ترین غلطی کا شدت سے احساس ہونے لگا ہے۔ گزشتہ دنوں تقریباً 70لاکھ سے زائد افراد کا امریکہ کی سڑکوں پر نکل کر ایران جنگ کے خلاف احتجاج کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں جنگیں ختم کرنے کے دعوے کرنیوالا شخص سب سے بڑا جھوٹا اور ناقابل اعتبار انسان ہے۔ جس نے پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے شعلوں میں دھکیل دیا ہے۔ ٹرمپ نہ صرف ایک ٹیسٹ کیس ہے بلکہ امریکی عوام کیلئے ایک سبق آموز کہانی بھی۔ ٹرمپ دعویٰ کرتا ہے کہ ایران کو بڑی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔ اب سعودی عرب اسرائیل کیساتھ تعلقات معمول پر لاکر ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو جائے۔ گویا زیر لب سعودی عرب کو دھمکی دی جارہی ہے کہ اگر اس معاہدے کا حصہ نہ بنے تو.... جس لمحے وہ سعودی عرب کو یہ پیغام دے رہا تھا اسی لمحے ایران سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر کھڑے امریکی طیاروں جس میں خطے کی فضائی نگرانی کرنے والا انتہائی قیمتی جاسوس طیارہ بھی شامل ہے تباہ کررہاتھا۔ ٹرمپ کو اس جنگ کے نتیجے میں دنیا کا مستقبل روشن نظر آرہا ہے جبکہ دنیا آگ اور بارود کے دھوئیں میں تباہی ہی تباہی دیکھ رہی ہے۔ ٹرمپ یہ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ سعودی عرب کو دھمکیاں بھی دیں دوسری طرف اپنی حماقتوں کے نتیجے میں یہ توقع بھی رکھیں کہ سعودی ولی عہد اسرائیل کے سامنے سر تسلیم خم کردیں گے، ٹرمپ جس جال میں پھنس چکا ہے اس سے نکلنا محال ہے۔ یورپ سے مشرق تک ٹرمپ کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ایران جنگ اگر مزید طول پکڑتی ہے اور مزاحمت یوں ہی جاری رہتی ہے تو نقصان صرف مسلم ممالک کا ہوگا اور دنیا واضح طورپر دو سے تین حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ خلیجی ممالک اس جنگ سے تنگ آچکے ہیں۔ ان ممالک کی معیشت آنے والی کئی دہائیوں تک اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوسکتی۔ امریکہ جنگ سے متاثرہ ممالک خصوصاً سعودی عرب سے جنگی اخراجات کی مد میں ”تاوان“ مانگ رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کی اعلیٰ ترین سفارت کاری ہی وہ واحد حل ہے جو دنیا کو اس بحران سے نکال سکتی ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے بعد سفارت کاری کے محاذ پر دنیا کا دوسرا طاقت ور ترین ملک بن کر ابھرا ہے۔ کون جانتا تھاکہ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچے ملک کو معرکہ حق میں خدا نے جو تاریخی کامیابی عطا کی تھی وہ دراصل انہی دنوں کی ابتدائی تیاری تھی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا تھا۔ شہباز شریف کی اونچی پرواز رُکتی ہے نہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا امت مسلمہ کو متحد کرنے کا عزم ٹھنڈا پڑ رہا ہے۔ سونے پر سہاگہ نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحق ڈار سفارتی محاذ پر اپنے کمال جوہر دکھاتے ہوئے مرد بحران بن کر سامنے آئے ہیں۔ عالمی حالات میں شدید کشیدگی کے باوجود توقع رکھی جارہی ہے کہ طاقت کا توازن امریکہ کے پلڑے سے نکل کر مسلم ممالک کے مشترکہ اتحاد و دفاع کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جنگ بندی کی کوششیں دن رات جاری ہیں۔ پاکستان چین نے جنگ بندی کا پانچ نکاتی منصوبہ پیش کردیا ہے۔ دنیا کو قائل کیا جارہا ہے کہ فریقین کوئی درمیانی راستہ نکال کر آگے بڑھیں، قبل ازیں اسلام آباد میں چار ملکی وزرائے خارجہ بیٹھک جنگ بندی عمل کی ابتدا قرار دی جاسکتی ہے۔ اس عمل کی کامیابی و ناکامی ہر دو صورتوں میں مسلم ممالک کے مضبوط اتحاد کی راہ ہموار ہونے کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں ۔ ایک ایسا اتحاد جو خطے میں امن، آبنائے ہرمز سے محفوظ جہاز رانی، امریکہ کے بغیر مشترکہ نگرانی کی بنیاد بن کر علاقائی فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتا ہے۔دوسری طرف اگر ٹرمپ نے اس بے مقصد جنگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ نکالی تو اس کے نتائج عالمی تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلیں گے اُلٹا امریکہ بھی اس تباہی کا شکار ہو گا۔ جہاں تک خطے میں مستقل قیام امن کی سوچ کا تعلق ہے اگر قطر، متحدہ عرب امارات اپنا دفاعی انحصار امریکہ کے بعد یوکرینی صدر جیسے دھتکارے شخص پرکرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، اس سے بہتر ہے کہ خطے کے اسلامی ممالک مشترکہ دفاعی انڈسٹری میں سرمایہ کاری پر توجہ دیں۔ گوادر، چاہ بہار، بندر عباس، جبل علی پورٹس کے درمیان مشترکہ کاروباری سرگرمیوں کا فروغ، باہمی اعتماد بڑھانے میں سی پیک کی صورت محفوظ عالمی اقتصادی راہ داری کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز بارے سب سے پہلے خطے کے ممالک کے درمیان معاہدہ ہونا چاہئے۔ ایسا معاہدہ ایران کو ایک نیا اعتماد اور گارنٹی دے سکتا ہے۔ اگرچہ ایسی تجاویز پر عمل درآمد کے دوران مشکلات کے پہاڑ کھڑے کردیئے جاتے ہیں اور خدشات بھی موجود رہتے ہیں تاہم دیر پا امن کی راہ ضرور نکالی جاسکتی ہے کیونکہ ایران محفوظ ہے تو سب محفوظ ہیں۔
10