گزشتہ سو دنوں میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں اصلاحات، شفافیت اور معیار کی بہتری کیلئے متعدد اہم اقدامات کیے گئےہیں۔ ایچ ای سی کی بنیادی ذمہ داری اعلیٰ تعلیم کے نظام کو منظم کرنا، سہولت فراہم کرنا اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے، اور اسی مقصد کے تحت موجودہ انتظامیہ نے مختلف شعبوں میں عملی پیش رفت کی ہے۔
سب سے پہلے گورننس اور پالیسی سازی کے نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی۔ کمیشن کی میٹنگز، پالیسی کمیٹیوں اور فیصلہ ساز فورمز کو دوبارہ فعال کیا گیا، جبکہ مختلف اکریڈیٹیشن کونسلز اور ٹاسک فورسز قائم کر کے موجودہ پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا۔ صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنز کے ساتھ تعاون کو بھی مزید مؤثر بنایا گیا۔
تعلیمی معیار اور کوالٹی ایشورنس کے فروغ کے لیے آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن (OBE) کے نفاذ، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں اصلاحات، اور نئی اکریڈیٹیشن کونسلز کے قیام پر کام کیا گیا۔ تدریسی معیار بہتر بنانے کے لیے وزٹنگ فیکلٹی سے متعلق نئی گائیڈ لائنز جاری کی گئیں جبکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی داخلوں میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی ٹیسٹنگ لازمی قرار دی گئی۔
جامعات اور الحاق شدہ کالجز کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایچ ای سی کے معیار اور اکریڈیٹیشن پالیسیوں پر مکمل عملدرآمدکو یقینی بنائیں تاکہ طلبہ کو یکساں اور معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔
ڈیجیٹل تبدیلی کے تحت آن لائن اٹیسٹیشن سروسز متعارف کروائی گئیں، جس سے طلبہ اور شہریوں کو سہولت ملی اور ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری آئی۔ اسی طرح آرٹیفیشل انٹیلی جنس، روبوٹکس، آٹومیشن، ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ جیسے جدید شعبوں میں قائم سینٹرز آف ایکسیلنس کو مزید فعال بنایا گیا۔
بین الاقوامی روابط کے فروغ کے لیے ڈبل، ڈوئل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز سے متعلق پالیسیاں متعارف کروائی گئیں تاکہ پاکستانی جامعات عالمی اداروں کے ساتھ مشترکہ تعلیمی پروگرامز شروع کر سکیں۔ پاکستانی جامعات کی عالمی رینکنگ بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے اور دوست ممالک کے طلبہ کے لیے اسکالرشپس کے مواقع بھی فراہم کیے گئے۔
تحقیق اور جدت کے شعبے میں نیشنل ریسرچ پروگرام فار یونیورسٹیز (NRPU) کے تحت زیادہ تحقیقی منصوبوں کی منظوری دی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ تحقیق کو صنعت، معیشت اور سماجی ترقی سے جوڑا جائے۔ آئی ٹی گریجویٹس کی ملک گیر تھرڈ پارٹی ٹیسٹنگ کے ذریعے جامعات کو نصاب اور تدریسی نظام بہتر بنانے کے لیے رہنمائی فراہم کی گئی۔
اسی دوران تقریباً 56 ہزار زیر التوا ڈگری کیسز اور 126پی ایچ ڈی کیسز نمٹائے گئے۔ صوبائی حکومتوں اور مختلف ریگولیٹری اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے انتظامی مسائل کے حل پر بھی پیش رفت ہوئی۔
باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے قومی سطح پر ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیا گیا، جس کے تحت مختلف سائنسی شعبوں میں نمایاں طلبہ کو بین الاقوامی سائنس اولمپیاڈز کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر ایچ ای سی نے گزشتہ سو دنوں میں اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، تحقیق، بین الاقوامی روابط اور تعلیمی معیار کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد قائم کی گئی ہے، جس سے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو مزید مؤثر اور عالمی معیار کے مطابق بنانے میں مدد ملے گی۔
(صاحبِ تحریرچیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ہیں)
