اسمٰعیل میرٹھی نہیں رہے،مئی میں ان کا شعر اپنے کالم میں درج کرنیوالے انتظار حسین نہیں رہے ،وقت آنے والا ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات کی خوش خبری سن کے مختلف پروگرام بنانے والے بچے پوچھا کریں گے کہ کون اسمٰعیل میرٹھی اور کون انتظار حسین ؟ یہی بات اور درد ناک ہو جائے گی جب آپ ایک استاد شازیہ کرامت کا مکتوب پڑھ لیں گے جس میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں نویں جماعت میں تمام درسی کتابیں انگریزی میڈیم میں پڑھائی گئیں مگر اس برس دسویں میں اردو میڈیم کی کتابیں بھیج دی گئی ہیں،اب بتائیے استاد کیا کرے؟ فریاد کس کے سامنے کرے کہ وزیر تعلیم بیرونِ مُلک گئے ہیں اور پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ ترکمانستان میں ہیں۔سادہ سی بات ہے کہ بہت کچھ بدل رہا ہے مگر یہ حقیقت نہیں بدلی کہ پاکستان میں پانچ قسم کے بچے ہیں، ایک وہ جو کیمبرج سے منسلک ہیں،او لیول اور اے لیول کرتے ہیں،ان کے پرچے آئوٹ بھی ہو جائیں تو وہ انہیں اور ان کے ماں باپ کو انگریزی میں سمجھاتے ہیں ’’صبر کریں،ورنہ انہیں انگلستان میں آ کر کچھ اضافی مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا‘‘۔ دوسری قسم کے بچے بھی ان سے ملتے جلتے ہیں وہ کیڈٹ اسکولوں میں ہیں،وہ انشا اللہ سمندر،فضا اور زمین پر دفاعِ وطن پر مامور ہوں گے،تیسری قسم کے بچے ہیں جو دانش اسکولوں اور سرکاری اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں جہاں استاد اچھے ہیں،ڈسپلن بھی ہے مگر ترکیہ،جاپان یا دوسرے ملکوں کی طرح انہیں اسکولوں میں لے جانے کیلئے ٹرانسپورٹ نہیں ،چوتھی قسم کے بچے دینی مدارس میں ہیں اور پانچویں قسم کے بچے وہ چھوٹے ہیں،جن کے حقیقی یا سوتیلے والدین اور سرپرستوں نے مختلف سیٹھوں کی منّت کرکے انہیں کام پر رکھوایا ہے ۔جب صدر معلمین سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے مزید کتنے بچوں کو اسکولوں میں داخل کیا ہے تو یہی بچے ان کے کام آتے ہیں۔ہمارے ہاں ایک اصطلاح کا چلن ہے ’بے نامی‘ سو یہ بےنامی بچے مختلف نام پاکر کاغذوں میں داخل ہو جاتے ہیں،اسے کہا جاتا ہے’’کاغذوں کا پیٹ بھرنا‘‘ اس دور میں ایک طرف خوش خبری ہے کہ ہمارے دفتر اسٹیشنری لیس ہو چکے ہیں دوسری طرف کون سے کاغذ ہیں جن کا پیٹ نہیں بھرتا؟
امجد اسلام امجد ٹیکسٹ بک بورڈ کے بھی چیئرمین تھے اور چلڈرن لائبریری بھی ان کے پاس تھی،تب شازیہ کرامت جیسے استادوں کے سوال میں انہیں بھیجتا تھا وہ جواب بھی دیتے تھےاور وزیرِ تعلیم اور وزیرِ اعلیٰ سے کہہ بھی دیتے تھے کہ اس کا مداوا کریں،اب کہاں سے لائے جائیں ایسے لوگ؟
اگرچہ ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے ترقی یافتہ مُلکوں سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر لئے ہیں جسکے بعد آپ دیکھیں گے کہ زراعت،صنعت،معیشت سے پہلے تعلیم کے شعبے میں انقلاب برپا ہو جائے گا،مفاہمت کی یہ یادداشتیں ہمارے بہت سمجھ دار افسر انگریزی زبان میں تیار کرتے ہیں پھر اپنے اور مہمان ملک کے وزرائے اعظم کیمروں کے سامنے مسکراتے ہیں اور دستخط ہوتے ہیں ،اسی طرح ہمیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ نئے بجٹ کے لئے آئی ایم ایف کے بورڈ کے ذمہ داروں کو قائل کر لیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ ۔پھر خبر آتی ہے کہ سرکاری اسکول اور کالج مرحلہ وار فروخت کئے جا رہے ہیں،اور تو اور آج کے اخبارات میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ نے اپنے پہلے سو دن کی دوسو کامیابیاںگِنوائی ہیں۔ یہ خبریں بھی ہیںکہ یونیورسٹیوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ معقولیت کا راستہ اپنائیں یعنی چلتے ہوئے پروگراموں پر توجہ دیں،کمپیوٹر سائنس،آئی ٹی،توسیع شدہ میکانکی ذہانت،بزنس ایڈمنسٹریشن یا ای کامرس،باقی ماضی کے مقبول پروگرام اردو،فارسی،پنجابی،سرائیکی،بلوچی،براہوی یا پشتو کیلئے مقامی وسائل سے نگارخانے تیار کئے جائیں،ان زبانوں کے استادوں کو گائیکی کی طرف مائل کیا جائے یا اپنے خطے کے ساز بجائیں یا پھرتصوف کی کلاس میں داخلہ لیں۔اس نیک کام کا آغاز ڈیرہ غازی خان سے کر دیا گیا ہے وہاں میر چاکر رند کے نام پر قائم ہونے والی یونیورسٹی کو غازی یونیورسٹی میں ضم کر دیا گیا ہے بہاولپور اور ملتان میں بھی ایسا کیا جا رہا ہے ۔یہاں مجھ ایسے قدامت پسند کو پروفیسر کرار حسین یاد آرہے ہیں یا پروفیسر خلیل صدیقی جو کہتے تھے تعلیمی درسگاہیں قیادت سے چلتی ہیں گورننس سے نہیں،کوئی وجہ تو ہو گی کہ سردار عطا اللہ مینگل،گل خان نصیر اور غوث بخش بزنجو کراچی کے پروفیسر کرار حسین کو لے آئے تھے اور انہیں بلوچستان یونیورسٹی کا پہلاوائس چانسلر مقرر کیا تھا اور سردار محمد اکبر بگٹی نے جبل پور کے پیدائشی ،پان کھانے والے پروفیسر خلیل صدیقی کو اپنا مشیر بنایا تھا،کہاں؟ بلوچستان میں،جہاں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کو پرو وائس چانسلر اور ساتھیوں سمیت اغوا کر لیا گیا ہے۔ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اردن میں پاک اسٹڈیز اور اردو کی چیئر پر رہے ہیں وہ تو قوم پرست بلوچوں میں بہت عزت سے دیکھے جاتے تھے۔ہم سب ان کی واپسی کیلئے دعا گو ہیں مگر شازیہ کرامت! آپ کے مکتوب کا جواب کون دے سکتا ہے ؟ کوئی اچھا استاد ہو تو وہ کہے گا بی بی! اگر پڑھانے والا اچھا استاد ہے تووہ شاگردوں کو علم دے گا،معلومات نہیں، معلومات کا تجزیہ کرنا سکھائے گا،رٹّو طوطا نہیں بنائے گا،البتہ آپ کے سوال کا جواب فی الحال نہ چیئرمین بورڈ کے پاس ہے اور نہ کنٹرولر امتحانات کے پاس کہ کسی مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ان کے پاس نہیں۔فی الحال ان بچوں کو فیصل ریحان کی غزل کے چار شعر پڑھائو،ابھی ڈاک سے ادبیات اسلام آباد کا شمارہ 145ملا،میںنے بطورِ فال آپ کے معاملے میں مدد چاہی تو یہ شعر سامنے آ گئے۔
آنکھ سے خواب لے گیا دریا
دُرِ نایاب لے گیا دریا
حوصلہ چھین لے گیا پانی
سب تب و تاب لے گیا دریا
روشنی گیت چھیڑنے کو تھی
ساز، مضراب لے گیا دریا
کیسے کیسے چراغِ شہرِ جاں
سوئے ماہتاب لے گیا دریا
