عظمی گل کا نیا کالم جاگتے رہو…شاہ مات!!!

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنئی کے حالیہ بیان نے ایران کے قومی مؤقف کو بھر پور طریقے سے واضح کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کو کچھ اور نہ سوجھا تو مدعا ایرانی قیادت کو منتشر اور کنفیوژ بتا کر بیان ماننے سے انکار کر دیا۔ شکست کے باوجود صدر ٹرمپ پُر امید ہیں کہ جھوٹ، مکر اور فریب کے سہارے ایسا آخری وار کریں گے جس سے وہ فاتح ٹھہریں گے، حالانکہ ناجائز اور باطل جواز پرتو 47سال سے ایران کا ناطقہ پہلے ہی بند ہے۔ عرب ممالک کی توجہ فلسطین پر اسرائیلی مظالم اور اسکے توسیع پسندانہ عزائم سے ہٹانے کے لیے انہیں ایران سے متنفر کیا گیا۔ عرب بادشاہتوں کو ایرانی انقلاب سے ڈرا کران کی مسندِ اقتدار کو خطرے میں دکھایا گیا، اس پر مسلکی اختلافات کو جعلی علماء کے ذریعے دونوں جانب خوب اُجاگر کیا گیا۔ انہی مسلکی اختلافات کی بِنا پر مسلمان ایک دوسرے کو کافر اور کافروں کو دوست ماننے لگے۔ جس سے مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ ہوا اور اُمّت کا شیرازہ بکھر گیا۔ عیسا ئیوں، یہودیوں، صیہونیوں اور دیگر مذاہب بھی فرقوں میں بٹے ہیں لیکن جیسے مسلمانوں نے ملتِ بیضا اور اُمّتِ محمدیؐ کی شناخت کو توڑا وہ اسلام دشمنوں کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں۔ اُنہوں نے انہی اختلافات، خدشات اور شبہات کا فائدہ اٹھایا اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ناپاک پنجے گاڑ لیے۔ ایران کے خلاف دفاع کے لئے عرب ممالک میں اپنے عسکری اڈے قائم کیے، فوجی جوان تعینات کیے اور ان خدمات کے عوض بھاری معاوضے وصول کرتے رہے۔ ان ممالک میں اپنا عسکری، معاشی اور ذاتی اثر و رسوخ اتنا بڑھایا کہ یہ کمزور بادشاہتیں اپنے اقتدار کے لیے بھی انہی کی مرہونِ منت ہو گئیں۔ جبکہ یہ صاحبِ اقتدار خاندانوں میں نقب لگا کر متبادل قیادت تیار رکھتے تاکہ بوقتِ ضرورت انہیں بلیک میل کریں بصورتِ دیگر تختہ الٹا کر اپنا بندہ بٹھا دیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کے ٹوٹنے سے آج تک یہی باطل کھیل جاری ہے۔ آپس کی سطحی لڑائیوں، نفرت اور کدورتوں سے لے کر مسلکی اختلافات کے پیچھے ہمیشہ یہی باطل قوتیں کار فرما رہی ہیں۔

ایران پچھلے سو سال کی تاریخ میں کسی ملک پر حملہ آور نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود عرب ممالک کو ایران کے مبینہ عزائم سے ڈرا کر مغربی طاقتوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بہت راج کر لیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ وہ خطے سے اپنا بوریا بستر لپیٹ کر واپس چلی جائیں۔ یہ پیغام مجتبیٰ خامنئی نے "خلیج فارس کے قومی دن" کے موقع پر دیا جو سترویں صدی میں ایران کا پرتگالیوں سے آ بنائے ہرمز پر قبضہ ختم کرنے کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنئی نے جاری شدہ بیان میں کہا کہ آ بنائے ہرمز ایرانی نظم و ضبط کے تحت ایک نئے دور میں داخل ہو گا اور خطے کے تحفظ کے لیے مقامی مملکتوں کو امریکہ کے بِنا ہی آگے آنا ہو گا۔ انہوں نے ایران پر جنگ مسلط کرنے اور جنگی نقصانات کا ہرجانہ لینے کا بھی اعادہ کیا۔ مجتبیٰ خامنئی نے دو ٹوک کہا کہ ایران اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کا ویسے ہی دفاع کرے گا جیسے اپنی سرحدوں اور اپنے پانیوں کا کرتا ہے۔ ان کے مطابق ہزاروں کلومیٹر دور سے آنے والے غیر ملکی جو بدنیتی اور لالچ کی بِنا پر ناپسندیدہ کام کرتے ہیں ان کی اب خطے میں جگہ نہیں رہی ما سوائے پانی کی تہہ میں۔ مغربی ناقدین نے اس بیان کو سپریم لیڈر سے منسوب کرنے پر اعتراض کر دیا۔ بعض کے مطابق یہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان چیف بریگیڈئر جنرل احمد واحدی کا بیان ہے، کچھ کے مطابق سپریم لیڈر کا میڈیا کے سامنے بیان جاری نہ کرنے کا مطلب ہے کہ قیادت میں شدید اختلافات موجود ہیں۔ تاہم سپریم لیڈر کے حالیہ بیان سامنے آنے تک اسلام آباد میں پاکستانی قیادت کی انتھک کوششوں سے جاری مذاکرات میں ایرانی ٹیم معاملات سلجھانے کی خاطر کافی لچک دکھا رہی تھی۔ در حقیقت یہی موقع تھا کہ امریکہ اس ہاری ہوئی جنگ سے نکل جاتا اور عزت بھی بچا لیتا۔ امریکی دانشمند بار بار یہی مشورہ دیتے رہے ۔ چونکہ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ اسرائیلی مفادات کو امریکی مفادات پر ترجیح دیتی ہے لہٰذا جنگ شروع ہونے سے ختم کرنے تک کا فیصلہ "شیطن یاہو" کے اختیار میں ہے۔ "شیطن یاہو" کبھی امریکہ کو اس جنگ سے نکلنے نہیں دے گا تاوقتیکہ گریٹر اسرائیل نہ بن جائے۔ جس کا ناپاک خواب اب ہر گزرتے دن کے ساتھ ناممکن بنتا جا رہا ہے۔ روسی صدر پیوٹن اور چین کا ایران کے حوالے سے مؤقف واضح کرتا ہے کہ یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ البتہ ماضی کی عالمی جنگوں سے یہ جنگ قدرے مختلف ہو گی جو پراکسی ملکوں، مصنوعی ذہانت، کرنسی کے کھیل، بارٹر ٹریڈ، پیٹرو ڈالر اور پیٹرو یوآن کی بنیاد پر لڑی جائے گی۔ دنیا کے بیشتر ممالک اسے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سمجھ رہے ہیں تاہم اس کے اثرات پوری دنیا میں پھیل جائیں گے اور وہ بے خبری میں ہی مارے جائیں۔

امریکہ پہلے ہی یوکرائن جنگ اور اسرائیل کی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں جنگی کارروائیوں کے باعث اسلحے کے ذخائر کی کمی کا شکار ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر بھی اسلحہ ساز کمپنیاں یہ کمی کئی سالوں تک پورا نہیں کر سکتیں ۔ آ بنائے ہرمز کی محض 11امریکی بحری جہازوں سے ناکابندی دکھا کر امریکی قوم کو بےوقوف بنایا جا رہا ہے۔ لوٹ مار کے لئے 15کھرب ڈالر کا غیر معمولی دفاعی بجٹ اور نومبر کے انتخابات میں جیت ٹرمپ ٹیم کا بنیادی مطمعٔ نظر بن چکا ہے۔ جنگ میں بدترین شکست کو فتح میں بدلے بِنا امریکہ مذاکرات کا ڈھونگ تو رچا سکتا ہے مگر کبھی معاہدہ نہیں کرے گا۔ چین اور روس کب سے گھات میں تھے کہ امریکہ کوئی فاش غلطی کرے جس پر اسے شاہ مات دی جا سکے۔ 28فروری کو آیت اللّٰہ علی خامنئیؒ کی شہادت ایسی ہی فاش غلطی تھی جس کا ارتکاب کر کے امریکہ اور اسرائیل جال میں پھنس چکے ہیں۔ حملے سے پہلے ایرانی قوم اپنی حکومت سے عالمی پابندیوں کے باعث مہنگائی کی بنا پر اکی تھی لیکن آیت اللّٰہ علی خامنئیؒ کی مع خاندان اور رفقاء بہیمانہ طریقے سے شہادت نے پوری قوم کو باہر سے حملہ آوروں کے خلاف متحد کر دیا۔ مجتبیٰ خامنئی نے پیغام خود دیا یا نہیں، فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ پیغام قومی جذبات کی ترجمانی کرتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل سے 47 سالہ مظالم کا ازالہ چاہتی ہے۔ بے شک حق سرخرو ہو گا اور باطل مٹ جائے گا! اسے مٹنا ہی ہے جیسے پاکستان نے 10 مئی 2025کو "بنیان المرصوص" جنگ میں جھوٹے الزامات پر ہندوستانی حملوں کا ایسا سخت رد ِعمل دیا کہ ہندوستان ابھی تک سنبھل نہیں پایا جبکہ "موذی" دنیا میں منہ چھپاتا پھرتا ہے۔ خطے میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، نئی صف بندیاں کی جا رہی ہیں ، پرانے اعتماد پاش پاش اور اتحاد ٹوٹ رہے ہیں جو کہ ایک نئے نظام کی نو ید ہے۔ اُمید ہے کہ اسلامی ممالک امن و آشتی اور بھائی چارے سے ایک نئے دور کا آغاز کریں گے۔ انشاءاللّٰہ!

؎ہزار چشمہ ترے سنگِ راہ سے پُھوٹے

خودی میں ڈُوب کے ضربِ کلیم پیدا کر

بشکریہ روزنامہ آج