حسنین چو یدری کا نیا کالم یہ ’مذہبی ٹچ‘ کہاں تک؟

سوشل میڈیا پر سابق وزیراعظم عمران خان کا ایک بیان وائرل ہے، جو انہوں نے مبینہ طور پر جیل سے اپنے روایتی ذرائع سے جاری کیا ہے۔ فرماتے ہیں: ’’جس نے مجھے جیل میں ڈالا، اس کا شکر گزار ہوں، نوجوانوں اور بچوں کیلئے قرآن پاک کی آیات کے نوٹس بنا رہا ہوں۔‘‘معلوم نہیں کہ اس میں کس قدر صداقت ہے، کیونکہ سال بھر قبل بھی خان صاحب نے کلامِ پاک کے نوٹس تیار کرنے کا اشارہ دیا تھا؛ تاہم یہ بات غور کرنے کی ہے کہ انہوں نے کس خوبی کے ساتھ اپنے تئیں خود کو ابوالکلام آزاد اور ابوالاعلیٰ مودودی کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ ان صاحبان کے بعد، خان صاحب غالباً تیسرے فرد ہوں گے، جو قید خانے سے کلامِ پاک کی تفسیر/نوٹس لکھنے کا اعزاز حاصل کر رہے ہیں۔عین ممکن ہے کہ فیلڈ مارشل صاحب کو جا بجا قرآن کی آیات سے استدلال کرتا دیکھ کر، ان کے تفسیری ذوق نے بھی جوش مارا ہو کہ ہم اس معاملے میں کیوں پیچھے رہیں۔ مذہب ایسی ذاتی اور مقدس شے، گزشتہ چند برسوں سے جس طرح ان کے بقراطی تازیانوں کا ہدف بنی ہوئی ہے، عین ممکن ہے کہ ان کے قلم سے نکلی کوئی قرآنی تفسیر بھی منصۂ شہود پر آ جائے۔ہم تو سمجھے تھے کہ تین دہائیاں قبل لاہور میں جاوید احمد غامدی کی رفاقت و تائید سے شروع ہونے والا یہ سفر، احمد رفیق اختر کے روحانی وظائف کی سرحدیں عبور کرتا ہوا، میاں بشیر کے روحانی مشوروں کی رہنمائی میں، پاک پتن کے آستانے پر بشریٰ بی بی کے سامنے زانوئے ارادت تہہ کرنے کی منزل پر اختتام پذیر ہو چکا ہوگا؛ لیکن لگتا ہے کہ ہنوز دلی دور است۔ویسے تو اس روحانی سفر کا آغاز بچپن ہی میں ہو چکا تھا، جب انہوں نے اپنے قاری صاحب سے سازباز کرکے گھر میں ناظرہ قرآن ختم ہونے کا بہانہ کیا تھا۔ لیکن والدہ کے ایک روحانی پیر نے پہلی ملاقات ہی میں بھانپ لیا تھا کہ لڑکے نے ناظرہ قرآن مکمل کرنے کا جھوٹ رچا رکھا ہے۔ اس روحانی کرامت کو دیکھ کر خان صاحب روحانیت کی طرف یک گونہ متوجہ ضرور ہوگئے تھے۔ یہ واقعہ ہمارے ذہن کی اختراع نہیں، انہوں نے اپنی سوانحِ حیات میں خود لکھ رکھا ہے۔ روحانیت پر ان کا پختہ اعتقاد غالباً اس وقت شروع ہوا، جب ایک پیر صاحب نے انہیں ریٹائرمنٹ لینے سے قبل کہا تھا کہ تم ابھی بھی گیم میں ہو، خدا تم سے آگے چل کر بڑا کام لینے والا ہے۔ آگے چل کر انہوں نے ملک کو کرکٹ ورلڈ کپ دلوا کر پیر صاحب کی پیش گوئی کو بامعنی بنایا۔ یہ واقعہ بھی ان کا اپنا قلم برداشتہ ہی ہے۔ جب 2002ء کے انتخابات میں اکبر بابر اور حامد خان نے انہیں میانوالی کی واحد نشست پر الیکشن سے بائیکاٹ کا مشورہ دیا تھا، تو انہوں نے ان دو سیاسی و قانونی دماغوں کو گھاس ڈالنے کے بجائے میاں بشیر عرف ایم بی کا مشورہ قبول کرکے وہ واحد نشست قبول کرلی تھی۔یہ واقعہ بھی بی بی سی پر رپورٹ ہو چکا ہے۔ چترالی ٹوپی والے اس پُراسرار بزرگ کے متعلق ہمیں زیادہ معلومات نہیں، جو عینی شاہدین کے مطابق اکثر بنی گالہ میں نظر آیا کرتے تھے اور ہر آنے جانے والے سے متعلق خان صاحب کو روحانی علم کے ذریعے مشورے دیا کرتے تھے۔ معروف روحانی پیشوا، بشریٰ بی بی کی ارادت میں جانے اور پھر فی الفور انہیں اپنے عقد میں لانے کا قصہ تو اب زبان زدِ عام ہو چکا ہے، سو اس پر کلام کی حاجت نہیں۔ تسبیح پھیرنے اور نماز کا فوٹو شوٹ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، مدینہ منورہ میں ننگے پاؤں جانے کا منظر بھی سب کو یاد ہے، آئین شکن ڈپٹی اسپیکر کی کنٹینر پر خان صاحب کے کان میں کی گئی (مگر مائیک میں ریکارڈ ہو جانے والی) سرگوشی: ’’خان صاحب، تھوڑا اسلامک ٹچ بھی دے دیں‘‘ بھی ہر ایک کے ذہن میں ہے، جس پر فوری عمل کرتے ہوئے خان صاحب نے گفتگو کا رخ اشیاء کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے سیرتِ طیبہ کی طرف موڑ دیا تھا۔اپنے شاندار قرآنی تدبر کا مظاہرہ انہوں نے اس وقت بھی کیا تھا، جب ’’دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالو‘‘ کو انہوں نے قرآنی آیت قرار دے دیا تھا اور مفتی منیب الرحمن نے بروقت نشاندہی کی تھی کہ قرآن میں ایسا کوئی حکم یا آیت موجود نہیں۔غرض کوئی ایک بات ہوتی تو ہم یہ لکھنے سے قبل سوچتے۔مگر یہاں تو بقول منو بھائی، درفنطنیوں کے طومار کے طومار موجود ہیں، کوئی کہاں تک لپیٹتا پھرے۔ قرآن کی تفسیر یا نوٹس کے لکھنے کا دعویٰ، ایسے شخص کے منہ سے، زیادہ تعجب کی بات بھی نہیں۔ ہاں، اس پر تعجب ہو سکتا ہے کہ جس کی بینائی نوے فیصد متاثر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہو، وہ ایسا آنکھیں اور دماغ کھپانے والا کام کیونکر کر رہا ہوگا؟ لیکن اس سلسلے کا کہیں رکنا بھی ضروری ہے۔ یوں بھی مذہب کے نام پر کاروبار چمکانے والوں پر ریاست کا شکنجہ ان دنوں سخت چل رہا ہے، لہٰذا ایسے وقت میں اس قسم کی مساعی سے خیر تو کیا نکلے، الٹا ایسی حرکت گلے ہی نہ پڑ جائے۔ ریاست نہ سہی، مذہبی مجاہدین تو ہمہ وقت تیار ہوا ہی کرتے ہیں کہ کب کسی کو غلط تفہیمِ دین کا حامل یا مرتکب قرار دے کر بخیے ادھیڑنے کو چلے آئیں۔ سیاسی نہ سہی، کم از کم ایسے معاملات میں تو عقل سے کام لینے کو برا نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ مذہبی ٹچ کا یہ سلسلہ آخر کہیں تو رکنے کا نام لے!

میری سنو، جو گوشِ نصیحت نیوش ہے

بشکریہ روزنامہ آج