قصیدہ گوئی اور مسخرے

شیراز خان ویسے اگر آپ کا حکومتی سرکاری جماعت کے ساتھ تعلق ہو کسی لیڈر کے ساتھ وابستگی ہو یا کسی جانب سے مراعات لے رہے ہوں یا مراعات یا مالی فائدہ اٹھانے کے خواہشمند ہوں یا اپنی مشہوری چاہا رہے ہوں تو وہی سبق پڑھیں گے اور پڑھائیں گے جو طاقتوروں کی مرضی کا ہو۔ ظاہر ہے چونکہ مجبوری ہے نوکری کا سوال ہے پھر اْسی طرف لگے رہیں یہ تو ایک عام سا اصول ہے۔لیکن اگر آپ اپنے وی لاگ کر رہے ہیں یا کالم لکھ رہے ہیں یا ویسے ہی سوشل میڈیا کا استعمال کررہے ہوں تو یہ چند سوالات ضروراٹھائیں کہ ٹرمپ نے ایران پر اسرائیل کے کہنے کے مطابق ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی جنگ کے ذریعے ہزاروں افراد کا قتل کیا جو جنگی جرائم کے مرتکب ہیں جس نے ایران میں صرف ریڈ کریسنٹ کی رپورٹ کے مطابق 730 سکولوں کو تباہ کر دیا۔ 30 سے زائد یونیورسٹیاں تباہ کر دی ہیں۔ دنیا کے جدید ترین ہتھیاروں سے ایران پر بمباری کی۔ ٹرمپ نے ایرانیوں کو گالیاں دیں۔ ٹرمپ مسلسل مسلمانوں اور اسلام کا تمسخراڑاتا ہے ایران کی سول املاک پر حملے کروائے۔دوائیوں کی فیکٹریاں نہ چھوڑیں معصوم بچوں کو نہ بخشا ان پر بمباری کی۔ ٹرمپ مغرب میں سفید فام کی پشت پناہی کررہا ہے مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف مسلسل مہم چلا رہا ہے مئیر صادق خان اور مئیر ممدانی پر حملے کررہا ہے جبکہ الیکشن سے پہلے جھوٹ بول کر اس نے امریکی مسلمانوں سے الیکشن میں ووٹ اس وعدے پر لئے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کروائے گا پھر الیکشن جیت کر ایک سال تک غزہ کے مسلمانوں کو اسرائیل سے مرواتا رہا یہ عمل آج بھی جاری ہے حتٰی کہ غزہ آج قبرستان بن چکا ہے۔ حال ہی میں اْس نے کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا پوپ Leo کو بھی نہیں بخشا حالانکہ 60 فیصد کیتھولک عیسائیوں نے ٹرمپ کو امریکہ میں ووٹیں دیں۔ حال ہی میں اْس نے خود کو نعوذباللہ حضرت عیسی علیہ السلام ظاہر کرنے کی کوشش کی۔جس پر دنیا بھر میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔آپ ایران کی حکومت اور اقدامات کے ناقد ہوسکتے ہیں، 47 سالہ رجیم کوئی آئیڈیل نہیں اس کی پالیسیاں درست نہیں رہی ہیں وہاں جمہوریت نہیں انسانی حقوق کی صورتحال خراب ہے اس رجیم پر میرے بھی تحفظات ہیں وہ بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے لیکن پاکستان آج ایران امریکہ کی ثالثی اس لئے کروا رہا ہے کہ ایران نے امریکی اسرائیلی جارحیت کے سامنے سرینڈر نہیں کیا، اپنی لیڈرشپ کو کھونے کے باوجود اور تمام تر نقصانات کے باوجود لڑتا رہا اور آج بھی فلسطین اور لبنان کے مسلمانوں کی حمایت سے دستبردار نہیں ہورہا ہے۔ اس کی استقامت نے امریکہ اور اس کے ناجائز بغل بچے اسرائیل کو دنیا میں رسوا اور شکست سے دوچار کیا۔ یورپ آج امریکہ کا اتحادی نہیں رہا چونکہ ایران نے اس جنگ کی قیمت بڑھا دی جو یورپین کو بھی ادا کرنی پڑ رہی ہے ایران امریکہ اسرائیل کے جارحیت کے سامنے تر نوالہ نہیں بنا۔ ہم پاکستانی تو کھائی میں گرے ہوئے ٹرمپ کو نکالنے کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ہم نے یا کسی مسلمان ملک نے غزہ اور فلسطین کی ثالثی کیوں نہیں کروائی جبکہ 75 ہزار مسلمانوں کا کھلے عام قتال کیا گیا۔ثالثی تو ان کی ہورہی ہے جو ڈٹ کر لڑے جنہوں نے مقابلہ کیا؟ ٹھیک ہے ہمارے ملک کی نیک نامی ہے جو اچھی بات ہے ہماری بھی ضرورت ہے لیکن کیا ہم نے ماضی میں بھی امریکہ کے لئے یہ کام کئی بار نہیں کیا پاکستان کو فائدہ کیا ہوا؟ فیلڈ مارشل ایوب خان نے امریکہ کا سٹیٹ وزٹ کیا پھر اس کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ ایوب خاں کو کسطرح ذلیل کر واکر کْتا کْتا کہلوا کر نکلوایا گیا تھا ۔ چین اور امریکہ کے درمیان ہم نے معاہدہ کروادیا جس کے بعد مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا امریکہ نے ہماری کیا مدد کی۔پھر ضیا الحق کا دور دیکھ لیں یہاں امریکہ کی ہم پراکسی بنے پھر مشرف کا دور دیکھیں ہم نے امریکہ کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔ سارے اْبلے ہوئے انڈے مشرف نے امریکہ کی تھالی ڈال دئیے۔ ایک فون کال بش نے کی تو حاضر جناب امریکہ بہادر کا نعرہ لگا دیا۔ اس کے بدلے ہمیں کیا ملا۔پاکستانی عوام کو کیا فائدہ ہوا۔شہادتیں دہشتگردی معیشت تباہ ہوگئی۔ آج ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کی جیل میں ہے۔ پاکستان کے میزائل سسٹم پر امریکہ نے پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ ہمارے ملک پر ٹرمپ نے 19 فیصد ٹیرف عائد کیا ہوا ہے۔ ویزوں پر پابندیاں عائد ہیں ۔ہم سات جنگ زدہ ملکوں کے ساتھ نتھی ہیں۔ قرضوں پر معیشت چل رہی ہے۔ باہر سے سرمایہ کاری آ نہیں رہی ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے۔ ہمارے مزدوروں اور طلباء کو ویزے نہیں مل رہے ہیں اور ہم غریب بیک گراؤنڈ کے پڑھے لکھے افراد قصیدہ گوئی میں لگے ہوئے ہیں۔ ہر ملک اپنے مفادات کو مدنظر رکھتا ہے ملکوں کی دوستی مفادات کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ ہوتی ہے۔ امریکہ کے لئے وہی اچھا جو انکے مفادات کا تحفظ کرے ۔جب مفادات حاصل ہوتے ہیں تو بھول جاتے ہیں اور جن اشخاص کو وہ استمال کرچکے ہوتے ہیں انکو ٹشو پیپرز کی طرح ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں۔ قیمت ملک اور عوام چکاتی ہے۔ آج کل دنیا طاقت کی ہے۔ آج اگر روس اور چین ایران کی سائیڈ لے رہے ہیں تو ان کی ان کے ساتھ دوستی یا رشتہ داری کسی نظریے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ مفادات کی بنیاد پر ہے۔ ہمیں اپنی قیمت پیشگی وصول کرنے کی شرائط رکھنی چاہئیں۔ یہاں چند افراد تو فائدہ اٹھاتے ہیں ،اپنی واہ واہ کرواتے ہیں لیکن ملک اور قوم کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ دنیا میں تو ہماری واہ واہ ہو رہی ہے لیکن اس سارے منظر نامے میں پاکستانی عوام کو کیا ملا ؟ سوائے اس کے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی بندش کے بہانے ارب ہا روپیہ پاکستانی عوام کی جیبوں سے نکالا گیا اور یہاں تیل کی کمپنیوں نے اپنے پیٹ بھرے۔کیا حکومت نے اپنے عوام کے لئے اس طرف توجہ دی یا سامراج اور منافع خوری کی سہولت کاری ہی حکومت کا مشن رہا.؟؟

بشکریہ روزنامہ آج