12

صحافت اور ذکاوت کس منزل پہ ہیں

زمانہ ہے1962/63کا ہے۔سمن آباد میں میرا دفتر تھا۔اسی زمانے میں بس اسٹاپ اس گھر کے سامنے تھا، جہاں سے بہت سے ماہنامے، ہفت روزہ اور بہت کچھ نظر آتا تھا۔ کئی دفعہ بس اسٹاپ پر ملاقات ہوئی بالکل مشرقی روایت میں۔کمال بات یہ ہے اس وقت بھی الطاف قریشی میرے چھوٹے سے غریب پرورنظریے سے واقف تھےاور میں بھی جانتی تھی کہ مذہب کو صحافت کے ذریعے فروغ دینے کیلئے، اصلاح اور تعلیم کو مقصود بناکر کون کس کے ساتھ کھڑا ہے کہ شورش کاشمیری کا پرچہ اور ہفت روزہ چٹان بھی ادب اور صحافت ، دونوں کے آمیزے بناکر پر چہ بناتے تھے۔ میں ماہنامہ دوست میں ملازم تھی ۔ سرکاری کسانوں اور دیہی لوگوں کے پرچے میں زبردستی منیر نیازی یا ظفر اقبال کی شاعری لگا دیتی تھی کہ اس طرح ان لوگوں کو دس روپے فی غزل مل جاتے تھے۔ریڈیو پرتو روشن آرا بیگم کو3منٹ کے راگ کے دس روپے ہی ملا کرتے تھے۔

1966ءمیں، میری نوکری محکمہ اطلاعات کے ریجنل دفتر میں ہوگئی یہاں انفارمیشن اور پبلی کیشن ڈیپارٹمنٹ ایک ہی بلڈنگ میں ہوتے تھے۔یہاں وقار انبالوی، رفعت ، بھٹی صاحب کے علاوہ سینئر اور میری عمر کے صحافی ، اخباروں میں موجودہ حکومت کیلئے تعریفی مضامین لکھا کرتے تھے۔ محکمہ اطلاعات ان کو25روپے معاوضہ دیا کرتا تھا۔

الطاف قریشی صاحب سے رابطہ، انکے مضامین کے مجموعوں کے ذریعہ رہتا اور ہمیشہ یاد دہانی کراتے کہ کتاب مل گئی ہے تو اپنی رائے دیں۔ اس زمانے میں میرے ایک دیور کے توسط سےشاہی صاحب سے رابطہ ہوا۔ وہ دن بدن صحافت میں زقند لگا رہے تھے۔میں نیشنل سینٹر کی ڈائریکٹر بن کے الفلاح میں بیٹھنے لگی۔ اس عمر سے دودن پہلے تک، الطاف قریشی کی کتابیں ملتی رہیں۔ جب میں نے پوچھا یہ یادداشتیں آپ خود لکھ رہے ہیں۔ بڑے فخر سے بتایا کہ ’’ میں بولتا جاتا ہوں اور میرا پوتا لکھتا جاتا ہے‘‘۔

اپنے سے چھوٹوں کو عزت دینے کا سلیقہ میں نے اپنے بڑوں سے سیکھا۔ ہم عمر لوگوں کے ساتھ گفتگو میں ہماری توتو میں میں بھی ہوجاتی تھی۔ روٹھنے والا سسٹم ہمارے درمیان نہیں تھا۔ البتہ مختار مسعود، صوفی صاحب اور عابد علی عابد کے علاوہ، ادب کا یہ سلسلہ ناصر کاظمی تک چلا۔ اب میرا قلم بھی میری زبان کی طرح فراٹے بھررہا تھا اور شعری تشکیلات بنائی جاتی رہیں۔

1971میں بنگال میں بھی ہوکے آئی تھی۔ وہاں سارے ہندو اور مسلمان صحافیوں کے ساتھ میں مختلف جگہوں پر جاتی اور میں نے سنا کہ الطاف قریشی صاحب بھی وہاں تھے۔ واپس آئے ہم دونوں نے جو لکھا وہ بالکل ایک دوسرے سے متضاد تھا۔ وہ ہندو استادوں اور صحافت کے خلاف لکھتے رہے اور میں نے واپس آکر بوڑھی گنگا کے کنارے چھ سات مہینے کی حاملہ غریب لڑکیوں کو دیکھا، ان سے مکالمہ نہیں ہوسکتا تھا کہ انہیں صرف بنگالی آتی تھی۔ قریشی صاحب نے فوج کو سراہا اور میں نے بنگالیوں کی آزادی کی طلب میں وہ آگ دیکھی جو بنگلہ دیش بنانے پہ سر انجام پائی۔ ان تمام سیاسی مرحلوں میں اختلاف اپنی جگہ اور ایک دوسرے کا احترام اپنی جگہ ۔

یہاں موضوع بدلتے ہوئے، فی الوقت ویسے تو بہت بحران ہیں اور قدرت کی طرف سےاب جوبھی عذاب آنا ہے وہ آئے کہ ہماری قوم کو ذلیل ہونے کی عادت پڑ چکی ہے۔

پچھلے ہفتے جو ون کانسٹیٹیوشن بلڈنگ کا بھانڈا پھوٹا۔ اور ’’ میری بکل دے وچ چور‘‘۔ کہاوت یا د اس لئے آئی کہ فلیٹوں کے مکین کوئی آج کے نہیں اور ہم جیسے غریب غربا بھی نہیں۔ عدالت تک ہر چند ایمان مزاری بھی پہنچ جاتی پھر بھی الزام اس پر ہی آتا۔ وہ تو شکر ہے کہ اسلام آباد کے امن خواہ غربا اور وکیل نےبھی اسکی جانب سے مقدمہ لڑا تو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ یہ مسئلہ پندرہ دن میں نمٹاؤ۔ ابھی تو فلیٹوں کے نامور اصحاب کے نام آنے ہیں۔ پھر کراچی کی منشیاتی ہوا میں کتنے نام چھپائے، بتائے اور غائب کیے جائینگے شاید یہ فیصلہ قربانی کا دن گزرنے کے بعد ہوگا۔

اس سلسلے میں مجھےگلہ اپنے جوانوں اور ہر طبقے کے لوگوں سے یہ ہے کہ سڑک پہ حادثہ ہوجائے، بندر کا تماشہ ہو کہ کسی عورت کا مقدمہ ، ایسے جوش وخروش کے ساتھ جمگھٹا کرلیتے ہیں اور لاانتہا تصاویر اتار کروہ لوگ سوشل میڈیا پہ جو چاہیں لکھتے رہتے ہیں۔ یہ قوم کب اور کیسے سدھرےگی اور ووٹ کے لئے عمر25سال کی جائےگی تو لوگ کالجوں میں داخل ہوکر بنگال کے استادوں کی طرح اپنی ذہینت کو متاثر کرلیںگے۔

بشکریہ ڈان ںیوز