صحافت میں سوال کو خاص اہمیت حاصل ہے ، اسکے ذریعے حقائق جاننے میں مدد ملتی اور بیانیوں کو پرکھا جاتا ہے۔ انٹرویو یا سوال وجواب کے طریقے کو الطاف حسن قریشی نے ایسا کلا سیکل انداز دیا جس کیلئےانہیں خود تو غیر معمولی تیاری کرنا پڑتی مگر اس تیاری سے فائدہ اٹھانے کیلئے کون کون سے امور مدنظر رکھنا ہیں؟ ان کا ادراک بھی آرٹ ہے۔ہمارے سامنے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی سے لیا گیا ایک انٹرویو ہے۔ درج تاریخ کے مطابق یہ انٹرویو نومبر1962میں لیا گیا۔الطاف حسن قریشی کا کہنا ہے کہ مودودی صاحب کیلئے سوالنامہ مرتب کرتے وقت مجھے خاصی دقت پیش آئی۔وہ ایک مفکر، عالم دین،صاحب طرز نثر نگار وخطیب، ایک سیاسی تنظیم کے راہبر اور ایک معاشرتی مصلح کی حیثیت سے معروف ہیں۔ اور پھر ان کی یہ ساری حیثیتیں ایک بڑی حیثیت میں مدغم ہوگئی ہیں۔ وہ بڑی حیثیت داعی اسلام کی ہے۔ الطاف قریشی نے سیاست،ادب سمیت کئی پہلوؤں کو انٹرویو سے باہر رکھنے کا فیصلہ کیا۔مگر خیال کی ایک اور رَواُبھری: ’’زندگی ایک مربوط تسلسل کانام ہے۔ اسے اکائیوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا‘‘ ۔اس خیال کے زیر اثر انہوں نے بھرپور سوالنامہ مرتب کیا اور تین نشستوں میں مودودی صاحب سے ان سوالات کے جواب حاصل کئے۔تحریر کے درمیان وہ اپنے سوالات اوران کے جوابات کے علاوہ ذہن میں اٹھنےوالےخیالات،اپنی جانب سے گفتگومیں مداخلت،مولانا کے کھنکھارنے، بعض سوالات کےجوابات پر اپنے چونکنے بعض واقعات وانکشافات پردیگر تاثرات میں قاری کو شریک کرکے چلتے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی قرطاس پر منتقل ہوگئی کہ کن کن الفاظ کی ادائیگی کے دوران مولانا کی نگاہوں میں خاص چمک آئی۔انٹرویو لینے، مشاہدہ کرنے، اس پر بروقت خود اپنے ردعمل سمیت تمام ہی ایسے ضروری نکات کو قلمبند کرنا یقیناً مشکل کام ہے کہ جن سے ماحول اور گردوپیش کی پوری کیفیت قاری کے سامنے آجائے۔مولانا مودودی سے کئے گئےاس انٹرویو کا حوالہ خاص طور پر دینا اس لئے ممکن ہوا کہ یہ تحریری صورت میں ہمارے سامنے ہے۔الطاف حسن قریشی نے جن اہم ملکی اور غیرملکی شخصیات سے انٹرویو کئے ان کے ناموں کی فہرست طویل ہے۔ ان کی ملاقاتیں اور باتیں جن شخصیات سے ہوئیں، ان میں پاکستان سمیت متعدد ملکوں کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے علاوہ دیگر قابل ذکر شخصیات شامل ہیں۔ 1960کی دہائی میں انہوں نے ترکی کے وزیر اعظم سلیمان دیمریل سے انقرہ جاکر جو انٹرویو لیا،اس کی دنیا بھر میں دھوم مچی۔ اردو ڈائجسٹ نامی جریدے کے لئے لیا گیا ان کا یہ انٹرویو ملک بھر کے اخبارات میں شہ سرخیوں سے شائع ہوا تھا۔ سلیمان دیمریل کے مذکورہ انٹرویو کا ایک جملہ راقم کو آج تک یاد ہے: ’’ میرا وجدان کہتا ہے، پاکستان میں جمہوریت آئے گی‘‘۔
’’ اردو ڈائجسٹ‘‘ وہ جریدہ تھا جس کے مدیر الطاف حسن قریشی تھے۔ ان کے بڑے بھائی اعجاز حسن قریشی نے امریکی رسالے ’’ ریڈرز ڈائجسٹ‘‘ کی طرز پر پاکستان میں ’’ اردو ڈائجسٹ‘‘ کی اشاعت کی بنیاد رکھی ۔دنیا بھر سے حاصل شدہ مواد پر مبنی انگریزی جریدے کی پاکستان سمیت بہت سے ملکوں میں بڑی دھوم تھی جبکہ پاکستان کے بعض اردو جریدے اس میں شائع شدہ مواد کے ترجمے یا خلاصے شائع کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقسیم ہند سے بہت پہلے لاہور سے ایک رسالہ ’’ مستانہ جوگی‘‘ شائع ہوتاتھا جو ہر اعتبار سے ڈائجسٹ کہلانے کا مستحق تھا۔ اس کے ایڈیٹر صوفی لچھمن پرشاد تھے جو ہندو ہونے کے باوجود اپنے نام کے ساتھ ’’ صوفی‘‘ کا لفظ لکھتے اور پورے برصغیر میں شہرت رکھتے تھے۔جو لوگ نادر چیزیں حفاظت سے رکھنے کا فن جانتے ہیں ان میں سے بہت سوں کے پاس ’’ مستانہ جوگی‘‘ کے20ویں صدی کے ابتدائی عشروں کے شمارے بڑے عرصے تک محفوظ رہے۔1947 میں تقسیم ہند کے بعد اس رسالے کا مقام اشاعت نئی دہلی منتقل ہوگیا۔ اس رسالے میں طب اور جڑی بوٹیوں سے متعلق معلومات کیلئے خاصا حصہ وقف تھا جبکہ یوگا اور سائنس کے علاوہ کئی علوم پرمبنی مضامین بھی شائع ہوتے تھے (قیام پاکستان سے قبل شائع ہونے والے بعض شماروں میں مالیکیول کی کیفیت کےبارے میں مضامین بھی شامل ہوتے تھے)۔ اس میگزین میں گھر گرہستی ، خوبصورتی کی حفاظت،مختلف مقامات پر دریافت ہونے والی حیرت انگیز اشیاء مثلاً لچک دار پتھر اور ہزاروں سال سے جلی آگ میں موجود کیڑوں سمیت ایسی معلومات دی جاتی تھیں جواس زمانے کے اعتبار سے نادر کہی جاسکتی ہیں۔
بات چلی تھی صحافت میں سوال کے سلیقے، الطاف حسن قریشی کے انٹرویوز کے انداز اور ان کے طرز نگارش کے قاری کو اپنی گرفت میں رکھنے کے جادو سے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ الطاف حسن نے ’’ اردو ڈائجسٹ‘‘ کے ذریعے انگریزی رسالے ریڈزر ڈائجسٹ کی جاذبیت اردو میں منتقل کی ۔ دنیا بھر میں چھپنے والے بہترین مواد تک اردو قارئین کو رسائی دی۔ جلد ہی اس کے مواد اور فکری انداز میں مقامی رنگ نمایاں ہوتا چلاگیا۔ یوں یہ ڈائجسٹ ترجمہ شدہ مواد سے آگے بڑھ کر بہت سے وسیع موضوعات کا احاطہ کرتا محسوس ہوا۔ جبکہ اردو ڈائجسٹ کا لاہور میں اجرا پاکستان میں مختلف النوع ڈائجسٹوں کی اشاعت کا پیش خیمہ بنا۔اس گفتگو میں جس الطاف حسن قریشی کا ذکر کیا گیا وہ ایک جیتا، جاگتا الطاف حسن قریشی ہے۔ اس کی ہر تحریر، اس کا ہر سوال، اس کی ہر طرزادا دست قدرت کی کرم فرمائی سے زندہ ہے۔ کتابوں اور تاریخوں میں موجود ہے۔ مگر قانون قدرت یہ ہے کہ دنیامیں جو آیا اسے یہاں سے جانا ہے۔ یوں3مارچ1932ء کوپیدا ہونے والا ہوشیار پور مشرقی پنجاب سے تقسیم ہند کے وقت پاکستان آکر ادیب، شاعر ، کالم نویس ، مدیر، مدبر کی شناخت بنانے والا الطاف حسن 17۔مئی2026 کو لاہور میں رزق خاک ہوکراپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹ گیا۔ الطاف قریشی کو اللہ کریم نے حیات ظاہری میں بھی عزت وتکریم عطا کی اور اس رب کریم سے دعا ہے کہ وہ آخرت میں بھی زیادہ سے زیادہ ان کے درجات بلند فرمائے(آمین)۔ ان کے اداریوں، مضامین ،نظموں،کالموں اور خطبات کی صورت میں قوم کے لئے بڑا اثاثہ موجود ہے، ہمیںاس اثاثے کی قدر کرنا اور اپنی اگلی نسلوں تک پہنچانا ہے۔
