خطے کی ہنگامی صورتحال کے متعلق کوئی بھی پیش گوئی کرنا مشکل دکھائی دیتی ہے۔ فریقین کے روز بروز بدلتے موقف اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
خطے کی ہنگامی صورتحال کے متعلق کوئی بھی پیش گوئی کرنا مشکل دکھائی دیتی ہے۔ فریقین کے روز بروز بدلتے موقف اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ لیکن اگر اس صورتحال میں پاکستان کے کردار کی بات کی جائے تو دنیا بھر میں اس کو نہ صرف سراہا جا رہا ہے بلکہ جنگ کے دو بڑے فریقین، امریکا اور ایران، پاکستانی فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کے کردار کو نہ صرف سراہتے ہیں بلکہ اسے شاندار بھی قرار دیتے ہیں۔
دونوں فریقین بات چیت بھی کر رہے ہیں لیکن وہ جو فیض صاحب نے کہا تھا کہ ’خون کے دھبے دھلیں گے کئی برساتوں کے بعد‘، والا معاملہ ہے۔ دوریاں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ ان فاصلوں کی کمی کو ایک وقت درکار ہے۔ بہرحال ہم تو دعاگو ہیں کہ معاملات جلد از جلد حل ہوں، اسی میں ہمارا مفاد بھی ہے اور دنیا کا بھی۔ اس جنگ نے دنیا کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ،خاص طور پر ہمارے خطے کی معاشی صورتحال خاصی بگڑ گئی ہے کہ عام آدمی اس سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔اول تو پٹرول کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے نے عوام کی نیندیں اڑا دی ہیں تو دوسری طرف حکومت کی جانب سے چند برس قبل بجلی کے شعبے میں خود کفالت کے لیے عوام کو سولر توانائی پر منتقل ہونے کی ترغیب دے کر اب یکایک نئی پالیسیاں بنانا شروع کر دی ہیں۔ حکومت کی ترغیب کے باعث عوامی سطح پر توانائی کے حصول میں خود کفالت کے لیے جس طرح سرمایہ کاری کی گئی اس کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو گئے۔
عوام پر بجلی کے بلوں کا بوجھ کم ہو گیا جب کہ نیشنل گرڈ میں توانائی کے بحران کو کم کرنے میں خاطر خواہ مدد مل گئی۔ شاید اسی بنیاد پر گزشتہ انتخابات میں ہماری موجودہ حکمران جماعتوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ عوام کو دو سو یونٹ تک بجلی کی سہولت مفت فراہم کی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے عوام میں مفت سولر پینل بھی تقسیم کیے گئے۔لیکن برا ہو ہمارے ان پالیسی سازوں کا جو مڈل کلاس کا خون نچوڑنے والی پالیسیاں بنانے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ ان بابوؤں کے ذہن میں یہ نادر خیال آ گیا کہ عوام سورج سے حاصل کردہ توانائی پر بھی ٹیکس لگا دینا چاہیے۔
سولرائزیشن کے آغاز میں تو صارف کی فالتو بجلی کو حکومت نے مناسب قیمتوں پر خریدنے کا فیصلہ کیا اور اس پر عمل درآمد بھی کیا لیکن اب یہی بجلی جو حکومت نجی بجلی گھروں سے انتہائی مہنگے داموں پر خرید رہی ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اگر وہ بجلی پیدا نہ بھی کریں تو اس کے باوجود بھی ادائیگیاں جاری رہتی ہیں۔ دوسری طرف عوام سے خریداری کے معاہدے کی قیمتوں کو آدھی سے بھی کم سطح پر لانے کا حکم نامہ نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔ اس پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے لیکن حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کر کے بجلی کے بلوں کے چنگل سے آزادی کے لیے جو پاپڑ بیلے گئے تھے، وہ اب گلے پڑتے نظر آتے ہیں اور ہر ماہ بجلی کے بل موصول ہونے پر یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نہ جانے حکومت کی جانب سے کون سا نوٹس موصول ہو جائے۔ یعنی سورج سے توانائی کا حصول تو جاری ہے لیکن صورتحال ’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‘ والا معاملہ بن چکی ہے
تکلیف دہ امر یہ ہے کہ عوام نے کسی حکومتی مدد کے بغیر اپنی جیب سے خرچ کر کے ملک کو توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب دھکیل دیا جس کی دنیا بھر میں ستائش بھی کی گئی۔ ہم جو توانائی کے بحران کے باعث اندھیروں کے عادی ہو چکے تھے، سورج کی توانائی نے ان اندھیروں کو روشنی میں بدل دیا۔ یعنی ریاست جس معاملے کا ستر برس تک حل نہ نکال سکی، عوام نے خود اس کا حل نکال لیا۔ لیکن اندھیرے سے روشنی کے سفر کے ان مسافروں کے راستے میں حکومت کھڑی ہو گئی اور بجائے اس کے کہ مہنگی بجلی کے کارخانوں سے جان چھڑائی جاتی عوام پر ہی چھری چلائی جانے لگی۔
ریاستیں جب عوام کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں ناکام ہو جاتی ہیں تو عوام خود ہی ان ضروریات کا حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہماری حکومت کو یہ سب پسند نہیں ہے۔ وہ عوام کو اپنے مرہونِ منت ہی رکھنا چاہتی ہے لہٰذا کوئی ایسا عوامی فلاح کا کام جو عوام خود ہی کر سکتے ہوں وہ بھی حکمرانوں کو پسند نہیں آتاکجا یہ کہ وہ اپنی عیاشیوں کو کم کریں اور حقیقی کفایت شعاری کی جانب سفر کا آغاز کریں، الٹا وہ عوام کی جیب کاٹ کر اپنی عیاشیوں کا سامان کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کم کیے جائیں اور پالیسی ساز ایسی پالیسیوں کا ڈول ڈالیں جو عوامی فلاح کے لیے ہوں نہ کہ عوام دشمنی پر مبنی ہوں۔
