عمران خان کے انڈیا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا معاملہ ایک ایسی بحث ہے جس میں سیاسی الزامات اور دستاویزی ریاستی پالیسی کے درمیان ایک واضح خلیج نظر آتی ہے۔ جہاں ایک طرف گہرے روابط کے دعوے کیے جاتے ہیں، وہیں دوسری طرف ٹھوس شواہد ان دعووں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
وہ حلقے جو عمران خان کے ان ممالک کے ساتھ گہرے روابط کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کے پاس بنیادی دلیل الیکشن کمیشن آف پاکستان کا ممنوعہ فنڈنگ کیس ہے۔ اس کیس میں انڈین اور اسرائیلی نژاد غیر ملکی شہریوں، جیسے اندر دوسانجھ اور بیری شنیپس کی جانب سے عطیات کی نشاندہی کی گئی تھی۔سیاسی حریفوں نے ان آڈٹ رپورٹوں کو بنیاد بنا کر یہ موقف اپنایا کہ پی ٹی آئی (PTI) کی قیادت ان غیر ملکی مفادات کے زیرِ اثر ہے جو روایتی طور پر پاکستان کے سٹرٹیجک مفادات کے مخالف سمجھے جاتے ہیں۔
ناقدین اکثر ان کی ماضی کی ازدواجی زندگی اور گولڈ اسمتھ خاندان سے تعلق کو بین الاقوامی صیہونی حلقوں کے ساتھ ایک علامتی کڑی کے طور پر پیش کرتے ہیں، اگرچہ یہ عوامی پالیسی کے بجائے ا یک خالصتاً ذاتی معاملہ رہا ہے۔انڈیا کے ساتھ کسی ’’خفیہ مفاہمت‘‘ کا الزام اکثر عمران خان کے 2019 کے اس بیان سے جوڑا جاتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نریندر مودی کی بی جے پی (BJP) کی جیت سے مسئلہ کشمیر کے حل کے بہتر امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ان کے حامیوں نے اسے ایک حقیقت پسندانہ مشاہدہ قرار دیا کہ سخت گیر دائیں بازو کی حکومتیں جرات مندانہ فیصلے کرنے کی زیادہ طاقت رکھتی ہیں۔جبکہ ناقدین نے اسے ایک ایسے لیڈر کی حمایت قرار دیا جس نے پاکستان کے خلاف ہمیشہ سخت گیر موقف اپنایا۔
انڈیا کے ساتھ تعلقات کا عروج 2019 میں بالاکوٹ حملوں اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل 370) کے خاتمے کے بعد، پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع اور تجارت معطل کر دی تھی۔ یہ دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان تلخی کا بلند ترین مقام تھا۔
اگرچہ مالیاتی ریکارڈز اور بعض عوامی بیانات سیاسی بیانیہ بنانے کے لیے ایندھن کا کام دیتے ہیں، لیکن وہ اب تک کسی ثابت شدہ یا Strategic Alliance کی صورت میں سامنے نہیں آ سکے۔ عمران خان کی دورِ حکومت کی پالیسیاں زیادہ تر ان الزامات کے برعکس ایک روایتی اور سخت گیر موقف کی عکاسی کرتی رہی ہیں۔عمران خان کی عمومی پالیسیوں کے نتیجے میں ایسے کئی سوالات جنم لیتے ہیں جن کے جواب انتہائی مبہم ہوتے ہیں جو ان کی سوچ کو ریاست دشمن سمجھنے کے لئے کافی ہوتے ہیں جن سے ان کے اسرائیل اور بھارت کی جانب جھکاؤ بھی واضع ہوتا ہے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسرائیل اور انڈیا کے پالیسیوں میں قدر مشترک مسلمانوں کی نسل کشی ہے اور پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی خواہش ہے جس کی تکمیل کے لئے دونوں ممالک عمران خان کی استعمال کرنا کی کوششیں کرتے ہیں۔ لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ عمران ان کے پاکستان دشمن عزائم کے بارے میں باخبر ہونے کے باوجود ان کی جانب راغب کیوں ہیں؟ قوام متحدہ کی خواتین سے متعلق ایجنسی کی ترجمان صوفیہ کالٹورپ نے جنیوا میں ایک فروری 28، 2026 کو ایرانی شہر میناب میں واقع “شجرہ طیبہ گرلز اسکول” پر ایک ہولناک حملہ کیا گیا، جس نے انسانیت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس تباہ کن کارروائی میں 165 طالبات اور عملے کے افراد شہید ہوئے، جن میں زیادہ تر بچیاں 7 سے 12 سال کی عمر کے درمیان تھیں۔ اسرائیل اور انڈیا کی جانب سے مسلم امہ کے خلاف اس قدر سفاکیت اور نسل کشی پر عمران خان اور ان کی پارٹی کی جانب سے ایک لفظ مذمت تک سننے یا پڑھنے کو نہیں ملا- بظاہر یہ خاموشی ایسی محسوس ہوتی ہے گویا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ان ظالم کو نہ صرف نظر انداز کیا جا رہا ہے بلکہ اسے ایک طرح سے تائید بھی حاصل ہے۔
اگرچہ تحریک انصاف بدترین تقسیم اور انتشار کا شکار ہے اور پارٹی کا ایک سنجیدہ اور محب وطن طبقہ جسے عمران خان کی ریاست دشمن پالیسی سے اختلاف ہے، رفتہ رفتہ پارٹی کے معاملات سے کنارہ کش ہو کر خاموشی کے ساتھ علیحدہ ہو گیا، ان کی جگہ سیاست اور سیاسی اقدار سے نابلد لوگوں نے لے لی جو ریاست مخالف بیانیے اپنا کر عمران خان کے قریب ہوئے اور پارٹی میں اہم عہدے حاصل کر لئے اور پارٹی کو مزید اندھیروں میں دھکیلنے لگے۔پارٹی میں کلیدی حیثیت حاصل کرنے والوں میں عمران خان کی بہنیں بھی شامل تھیں جنہوں نے پارٹی کو ریاست مخالف پارٹی ثابت کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور عمران خان کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بنیں یہاں تک کہ انڈین ٹیلیویژن اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ریاست دشمن بیانیوں کو دنیا میں پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا اور عمران خان کے قتل جیسی جھوٹی خبریں پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کے کی کوششیں کیں لیکن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
