جنگ نہیں… یہ کھیل ہے؟

اگر یہ واقعی جنگ ہوتی تو شاید اب تک ختم ہو چکی ہوتی یہ کچھ اور ہے اور شاید زیادہ خطرناک بھی۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر دنیا کے اعصاب پر سوار ہے۔ ایک طرف ایران ہے دوسری طرف امریکہ اور بیچ میں وہ پورا خطہ جسکی تقدیر دہائیوں سے طاقتوروں کے فیصلوں کے رحم و کرم پر رہی ہے،بیانات کی گھن گرج ہے ،میزائلوں کی خبریں ہیں آبنائے ہرمز پر دباؤ ہے، لبنان میں کشیدگی ہے اور عالمی منڈیوں میں بے چینی بظاہر یہ سب ایک جنگ کی تصویر بناتے ہیں مگر جب اس تصویر کو ذرا قریب سے دیکھا جائے تو اس کے خدوخال بدلنے لگتے ہیںیہاں ایک عجیب تضاد موجود ہے ایک ہی وقت میں دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں اور مذاکرات بھی جاری ہیں ایک طرف جنگی تیاری ہے دوسری طرف سفارتی رابطے ایک طرف طاقت کا اظہار ہے دوسری طرف پس پردہ مفاہمت کی کوششیں۔یہی تضاد اس پورے منظرنامے کو عام جنگ سے مختلف بناتا ہےیہی وہ لمحہ ہے جہاں سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ واقعی جنگ ہے یا ایک ایسا کھیل جسے ایک خاص حد تک زندہ رکھنا سب کے مفاد میں ہے۔یہ جنگ جتنی سیدھی نظر آ رہی ہے شاید اتنی ہے نہیں، بظاہر میزائل اور بیانات ہیں مگر پس پردہ ایک خاموش کھیل جاری ہے جہاں مکمل جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور مکمل امن بھی شاید فوری طور پر کسی کی ترجیح نہیں، اگر یہ مکمل جنگ بن جائے تو اسکے نتائج کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے اسی لیے ہر فریق ایک حد کے بعد رک جاتا ہےیا مذاکرات کی میز کی طرف لوٹ آتا ہےچند ہفتوں کی کشیدگی نے ہی عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ،جہاز رانی کے راستے متاثر ہوئے اور عالمی تجارت غیر یقینی کا شکار ہو گئی لیکن اس پوری کہانی کا سب سے بڑا بوجھ نہ واشنگٹن اٹھاتا ہے نہ تہران بلکہ وہ عام لوگ جنکے گھروں کے چولہے تیل کی قیمت سے جڑے ہوتے ہیں یہی وہ انسانی زاویہ ہے جو ہر بڑی جنگ کے شور میں دب جاتا ہے مگر حقیقت میں سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ امریکہ جیسی بڑی معیشت بھی اس دباؤ سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ دفاعی اخراجات میں اضافہ اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اسے بھی متاثر کر رہا ہےایران کی صورتحال اس سے مختلف مگر اتنی ہی پیچیدہ ہے ایک طرف وہ سخت پابندیوں اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے دوسری طرف اس نے ایک مزاحمتی نظام بھی قائم کر لیا ہے اس نے متبادل تجارتی راستے تلاش کیے اور ایک ایسی پالیسی اپنائی جس میں بقا اور مزاحمت دونوں شامل ہیںیعنی دونوں فریق ایک ایسی کیفیت میں ہیں جہاں وہ لڑ بھی رہے ہیں اور بچ بھی رہے ہیں۔ ایران کی حکمت عملی میں ایک واضح توازن نظر آتا ہے وہ سخت بیانیہ اختیار کرتا ہے مگر مکمل جنگ سے گریز کرتا ہے اس کی ہر حرکت میں ایک حساب کتاب موجود ہے دباؤ بھی ڈالنا ہے مگر اس حد تک نہیں کہ صورتحال قابو سے باہر ہو جائےامریکہ بھی اسی طرز پر چل رہا ہے وہ ایک طرف دھمکیاں دیتا ہے پابندیاں لگاتا ہے مگر دوسری طرف مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھتا ہے، دنیا کی بڑی طاقتیں اکثر ایسے تنازعات کو مکمل ختم کرنے کے بجائے ایک خاص حد تک برقرار رکھتی ہیں کیونکہ مکمل امن بعض اوقات ان کیلئے فائدہ مند نہیں ہوتا امن کا مطلب ہوتا ہے اثر و رسوخ کا کم ہونا اور دباؤ کے ذرائع کا ختم ہونا،تیل کی منڈی کو دیکھیں جیسے ہی کشیدگی بڑھتی ہے قیمتیں اوپر جاتی ہیں کچھ ممالک متاثر ہوتے ہیں مگر کچھ فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اسی طرح اسلحہ ساز صنعت ہے جو ہر بحران میں مزید مضبوط ہوتی ہےیہ تمام عناصر مل کر اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ شاید یہ کشیدگی مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ایک خاص سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہےاب اس تصویر میں لبنان کو شامل کریں جہاں واضح کر دیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے انخلا کے بغیر کسی بھی بڑے معاہدے کو مکمل کامیابی نہیں کہا جا سکتا اس کا مطلب کہ اگر ایران اور امریکہ کسی حد تک متفق بھی ہو جائیں تب بھی خطے میں کشیدگی باقی رہے گی اسی لیے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بات ہوتی ہے تو دیگر علاقائی طاقتوں کے مفادات بھی سامنے آ جاتے ہیں، ہر فریق چاہتا ہے کہ اسکے خدشات بھی اس معاہدے کا حصہ بنیںایسے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی طور پر سامنے آیا ہے ایک ایسا ملک جو اَب مخالفین کو ایک میز پر بٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ ایک بڑی تبدیلی ہے کیونکہ عالمی سیاست میں اصل طاقت یہی ہوتی ہےاب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اس کھیل میں فاتح بن کر ابھر رہا ہے بظاہر وہ دباؤ ڈال رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کشیدگی کی قیمت اسے بھی ادا کرنا پڑ رہی ہےایران بھی اسی طرح ایک دوہری کیفیت میں ہے مزاحمت بھی دباؤ بھی یعنی دونوں فریق ایک ایسے کھیل میں بندھے ہوئے ہیں جہاں مکمل جیت کسی کیلئے آسان نہیں اور شاید یہی اس کھیل کا اصل اصول ہے،یہ وہ جنگ ہے جسے جیتنے کیلئےنہیں چلانےکیلئے لڑا جا رہا ہے، یہ وہ کشیدگی ہے جسے ختم کرنے کیلئے نہیں کنٹرول کرنے کیلئے برقرار رکھا جا رہا ہےآخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے اگر واقعی سب فریق امن چاہتے ہیں تو امن بار بار قریب آ کر دور کیوں ہو جاتا ہے شاید اس لیے کہ یہ صرف جنگ نہیں ایک ایسا کھیل ہے جس میں بارود سے زیادہ بیانیہ چلتا ہے، جہاں گولیاں بھی اصلی ہیں اور قواعد بھی پوشیدہ اور جہاں فتح میدان میں نہیں بلکہ میز پر لکھی جاتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ آج