ثرو جمال اصمعی
پوری دنیا تقریباً آٹھ ہفتوں سے جس خلفشار کا شکار ہے، تیل کے بحران نے عالمی معیشت کو جس بحران سے دوچار کررکھا ہے، بین الاقوامی تجارت کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بات چیت کے ذریعے سے معاملات بہتر بنانے کی خاطرپاکستان کی کاوشوںپر بار بار ناامیدی کے بادل جس طرح چھا رہے ہیں، اس پریشان کن صورت حال کا ذمے دار کون ہے؟ امریکہ یا ایران؟ واشنگٹن یا تہران؟ ٹرمپ یا مسعود پزشکیان؟ واقعاتی حقائق کی روشنی میں اس سوال کا جواب واضح ہے۔
پانچ دہائی پہلے ایران پر ایک ایسی بادشاہت مسلط تھی جو امریکہ کے اِشارۂ ابرو پر چلتی تھی۔ اس دور میں ایران اور اسرائیل کی بھی گاڑھی چھنتی تھی۔دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیاں مشترکہ منصوبوں پر کام کرتی تھیںلیکن ایران کی دینی قیادت نے عوام کی بھرپور حمایت سے اس بادشاہت کا تختہ الٹ دیا اور اسے بچانے کیلئے امریکہ کی کوئی کوشش اور سازش کارگر نہ ہوسکی۔ انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان قابل فہم طور پر پہلے روز سے فاصلے حائل رہے۔امریکہ نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کردیں۔ ایران کا ایٹمی پروگرام امریکہ کی نظر میں اس حقیقت کے باوجود پہلے دن سے بری طرح کھٹکتا رہا کہ نئے ایران کے بانی آیت اللّٰہ امام خمینی نے ایٹم بم کوبے پناہ انسانیت کش اور تباہ کن ہونے کے باعث حرام قرار دیا ہے جسکی بنا پرایرانی قیادت مسلسل واضح کرتی چلی آرہی ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کیلئے ہے۔تاہم بارک اوباما کے دور صدارت میں امریکہ و اتحادیوں اور ایران کے درمیان ایک جوہری معاہدہ کامیابی سے طے پاگیا تھا جسے مشترکہ جامع ایکشن پلان کا نام دیا گیا تھا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصدایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنا تھا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایران جوہری ہتھیار تیارنہ کر پائے۔ اس کے بدلےمیں ایران پر عائد بین الاقوامی اور امریکی اقتصادی پابندیاں اٹھا لی گئیں۔اس معاہدے کا عالمی سطح پر پرجوش خیرمقدم کیا گیا ۔اوباما انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے کے حوالے سے اسے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا ۔ لیکن تین سال بعد 2018ء میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں اس معاہدے کو دنیا کے ’’بدترین معاہدوں میں سے ایک‘‘ قرار دیتے ہوئے امریکہ کو اس سے علیحدہ کر لیا اور اب اپنے موجودہ دور میں گزشتہ سال جون اور پھر رواں سال فروری میں اس دعوے کے ساتھ ایران سے مذاکرات شروع کیے کہ ایک بہتر معاہدہ کرکے دکھائیں گے لیکن دونوں مرتبہ کامیاب ہوتے ہوئے مذاکرات اچانک ختم کرکے ایران پر اسرائیل کی ملی بھگت کے ساتھ میزائلوں کی بارش شروع کردی گئی۔
صدر ٹرمپ نے اپنی بدنامی کی قیمت پر یہ غیر معقول رویہ کیوں اختیار کیا ؟ ایران کو دھوکا دے کر اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کیوں کی جبکہ اسکے نتیجے میں عالمی سطح پراور خود امریکہ میں ان کے بارے میں رائے عامہ انتہائی منفی ہوتی چلی جا رہی ہے؟اس سوال کا جواب سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے گزشتہ روز اپنے ایک انٹرویو میں دیا ہے۔ جان کیری نے انکشاف کیا ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کی تجویز ماضی میں تین امریکی صدور جارج بش، بارک اوباما اور جوبائیڈن نے مسترد کر دی تھی لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو قبول کرلیا۔جان کیری کا کہنا تھا کہ ان صدور نے جنگ کی حمایت اس لیے نہیں کی کیونکہ مسئلے کے حل کیلئے سفارتی اور پُرامن راستے کھلے تھے۔لیکن صدر ٹرمپ نے اپنے تین پیشرووںکے برعکس رویہ اختیار کیا حالانکہ بات چیت کے راستے اب بھی بند نہیں تھے۔ ان کا یہ طرز عمل متعدد ذرائع کی جانب سے ظاہر کیے جانیوالے اس شبہ کو تقویت دیتا ہے کہ ٹرمپ کو ایپسٹین فائلز میں موجود ان کے مکروہ کردار کے حوالے سے بلیک میل کیا گیا۔ انہوں نے نہ صرف جون اور فروری کے مذاکرات کو ناکام بنایا بلکہ اسلام آباد بات چیت کو بھی کامیاب نہیں ہونے دیا۔ اٹھائیس فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت اور ایران کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیجی ملکوں میں قائم امریکی فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی سے عالمی جنگ چھڑ جانے کے سنگین خدشات پیدا ہوئے۔ ان کو حقیقت بننے سے روکنے کیلئے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ماہ رواں میںاسلام آبادمیں امریکہ ایران مذاکرات کا اہتمام کیا۔ پوری عالمی برادری نے پاکستان کی اس کوشش کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا۔ مذاکرات بہت خوشگوار ماحول میں ہوئے اور منظر عام پر آنے والی مستند معلومات کے مطابق فریقین ایک متفقہ معاہدے کے قریب آپہنچے تو امریکی وفد کے پاس اچانک واشنگٹن سے مذاکرات ختم کرنے کا حکم آگیا۔ اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف ازسرنو جارحانہ طرزعمل اختیار کرلیا۔اس کے نتیجے میں مختصر وقفے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کردی جبکہ صدر ٹرمپ نے ایران کیلئے اس آبنائے کی بحری ناکہ بندی کا حکم جاری کردیا۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ بحری ناکہ بندی ختم کردی جائے تو ایران مذاکرات کیلئے بلاتاخیر اپنا وفد اسلام آباد بھیجنے کو تیار ہے لیکن صدر ٹرمپ ناکہ بندی اور دھمکیاں جاری رکھ کر مذاکرات کیلئے سازگار فضا میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک تازہ رپورٹ اس خدشے کو تقویت دیتی ہے کہ صدر ٹرمپ ایران سے معاہدے کے معاملے میں تسلسل کے ساتھ یکے بعد دیگرے پرُامیدی اور ناامیدی پر مبنی بیانات دے کر عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ذریعے مخصوص سٹہ بازوںکو اربوں ڈالر کا منافع کمانے کا موقع دینے کا اہتمام کررہے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے ان اقدامات سے پوری دنیا کو جس خلفشار میں مبتلا کررکھا ہے،اس کی بنا پر وہ فی الحقیقت پوری عالمی برادری کے سامنے جوابدہ ہیں اور خود امریکی ریاستی نظام پر دنیا کا اعتبار مزید مجروح ہونے سے بچانے کیلئے امریکی پارلیمان میں ان کا مواخذہ ضروری ہوگیا ہے۔
