مولانا ابراہیم مظہری ممبر پر بیٹھ کر جس فصیح و بلیغ انداز میں ہر موضوع پر بولتے تھے، ان کے الفاظ دل و دماغ میں جاکر دم لیتے تھے۔
میرے مرشد و مربی ولی ابن ولی شیخ المفسرین و محدثین حضرت مولانا حمداللہ جان ڈاگئی باباجیؒ کے شاگرد رشید اور ان کے علمی گلشن کے مایہ ناز فاضل عالم باعمل شیخ الحدیث حضرت مولانا ابراہیم جدون مظہری 28 مارچ 2026 بروز ہفتہ اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات ڈاگئی باباجیؒ کے پورے خاندان کے صدمے کا باعث مگر مجھ پر ان کی وفات کی خبر آسمانی بجلی گرنے کے مترادف تھی۔
میں اپنی بے بسی پر روتا رہ گیا کیونکہ دونوں گھٹنوں کا آپریشن ہوا تھا اور میں بے بسی کے عالم میں نیشنل اسپتال لاہور کے ریکوری روم میں پڑا تھا اپنی61 سالہ زندگی میں دوسری بار اس تجربے سے گزر رہا تھا جسے میرے روحانی بھائی مولانا ابراہیم مظہری کی غیر متوقع ناگہانی رحلت و جدائی نے اذیت ناک بنا دیا کیونکہ وہ میرے صرف بھائی نہیں حقیقی معنوں میں دست راست تھے، ان کی ناگہانی رحلت تو ناقابل برداشت تھی ہی مگر ان کے آخری دیدار اور جنازے میں شرکت سے محرومی مدتوں تک مولانا ابراہیم مظہری کی جدائی کے زخم پر نمک پاشی کرتی رہے گی۔
اگر چہ میرے مرشد و مربی باباجانؒ ایک دوسرے مایہ ناز شاگرد شیخ القرآن والحدیث مفتی سردار جدون اشرفی مظہری اور پروفیسر امجد جدون نے ویڈیو کال پر مجھے میرے محبوب برادر اصغر کے نورانی چہرے کا آخری دیدار کروایا مگر چند سیکنڈ کے مواصلاتی دیدار نے مجھے مزید مضطرب کردیا، میری تشنگی دور نہ ہوسکی، ساری عمر یہی سوچتا رہوں گا کہ کاش میرا آپریشن نہ ہوتا اور مجھے مولانا ابراہیم مظہری کے آخری دیدار کے ساتھ ان کے جانشین و برخوردار محمد ذکریا کو سینے سے لگا کر ان کے سر پر دست شفقت رکھ کر تسلی دینے کیلیے حاضر ہوتا۔ مولانا ابراہیم مظہریؒ تو چلے گئے ، اب مجھے محمد ذکریا ابراہیم کے نام کے ساتھ مظہری کا لاحقہ لگا کر گزارا کرنا پڑے گا۔
مولانا ابراہیم مظہریؒ کے وفات کی خبر نے پورے علاقے خصوصاً علمی حلقوں کو سوگوار کردیا۔ مدارس، مساجد، خانقاہیں اور دینی مراکز نے ماتم کی چادر لپیٹ لی، نم آنکھوں کے ساتھ سیکڑوں طلباء کرام ان کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کرتے رہے۔ محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر دل پر اداسی کی دبیز چادر تن گئی ہو، اور ہر آنکھ اشکبار ہو۔ اتوار کے روز ان کی نماز جنازہ میں میرے برادر اکبر مولانا لطف اللہ جان صادق، باباجانؒ کے علمی جانشین اور مولانا ابراہیم مظہری کے مادر علمی دارلعلوم عربیہ مظہر العلوم کے شیخ القرآن والحدیث مولانا اسداللہ جان المظہری الداجوی میرے بھانجوں بھتیجوں، ڈاگئی باباجیؒ کے علمی گلشن دارلعلوم عربیہ مظہر العلوم کے اساتذہ، طلباء اور مولانا ابراہیم مظہریؒ کے ہزاروں چاہنے والوں نے شرکت کی، مگر افسوس کہ میں اس سعادت سے محروم رہا اور یہ درد قبر تک میرے ساتھ رہے گا۔
مولانا ابراہیم مظہریؒ کے جنازے میں ہزاروں چاہنے والوں اور علماء کرام کی کثیر تعداد ان کی حقانیت پر دال تھی، اہل حق کے جنازے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ’’ہمارے بعد ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے کہ حق پر کون تھا‘‘۔ جنازے میں شریک عینی شاہدین اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ شیخ الحدیث حضر ت مولانا ابراہیم مظہریؒ کا جنازہ صرف ایک عام انسانی اجتماع نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر روحانی منظر تھا۔ آنسو آنکھوں سے نہیں بلکہ دلوں سے بہہ رہے تھے۔ فضا آہوں اور سسکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہر چہرہ غمزدہ اور ہر دل ان کی جدائی پر افسردہ تھا۔
مولانا ابراہیم مظہری کا شمار اُن جلیل القدر اہلِ علم میں ہوتا تھا جنھوں نے اپنی زندگی دین کی خدمت، علمِ حدیث کی ترویج اور قرآنی تعلیمات کی اشاعت کیلیے وقف کی، وہ اپنے اساتذہ کے ادب و تعظیم میں اپنی مثال آپ تھے، دوستی نبھانے میں اپنی مثال آپ، مولانا ابراہیم مظہری اپنے مادر علمی سے فراغت کے بعد سے وفات تک عید الفطر اور عید الضحٰی کے تیسرے دن اپنی حاضری فرض عین سمجھ کر دیا کرتے تھے۔ گزشتہ عید الفطر میں اپنی بیماری کی وجہ سے ڈاگئی نہیں جاسکا تو انھوں نے اپنی زندگی کی آخری عید کی مبارکباد کیلیے اپنی عقیدت و محبت بھرے لہجے میں وائس کلپ ان الفاظ میں واٹس ایپ کیا۔’’ہم اپنی سنت اور روایت کے مطابق عید کے تیسرے دن پہلے حضرت شیخؒ کے مزار پر گئے، پھر اپنے مادر علمی مبارکباد دینے آئے مگر آپ سے ملاقات نہیں ہوسکی، اس لیے ہماری طرف سے عید الفطر کی مبارکباد قبول فرمائیں۔‘‘
مولانا ابراہیم مظہری ممبر پر بیٹھ کر جس فصیح و بلیغ انداز میں ہر موضوع پر بولتے تھے، ان کے الفاظ دل و دماغ میں جاکر دم لیتے تھے۔ مولانا ابراہیم مظہری اپنے اساتذہ اور بزرگوں کی جس انداز میں ادب و تعظیم کرتے تھے وہ قابل رشک، قابل تحسین اور قابل تقلید تھی۔
عجز و انکساری کے مجسم پیکر میرے مرشد و مربی باباجانؒ عربی کا ایک معقولا اپنے شاگردوں کو بار بار سناتے، دھراتے بلکہ پڑھاتے تھے کہ’’دین سارا ادب ہے‘‘، ڈاگئی باباجیؒ فرماتے تھے کہ بے ادب پڑھا لکھا تو ہو سکتا ہے مگر عالم، عامل ودیندار کبھی نہیں بن سکتا۔‘‘ اور شاید اسی تاکید کی وجہ سے ڈاگئی باباجیؒ کے شاگردوں کی اکثریت ادب میں بے مثال ہوتے تھے مگر مولانا ابراہیم مظہری ادب و تعظیم میں اپنی مثال آپ تھے۔
باباجانؒ کی نسبت سے مولانا ابراہیم مظہریؒ جو ادب و احترام ہمارے گھر کے بچوں کا کیا کرتے تھے وہ ناقابل یقین، حیران کن اور بعض اوقات ہمارے لیے پریشانی کا باعث بن جاتا تھا ۔ مجھے الفاظ نہیں ملتے جن میں میں مولانا ابراہیم مظہری کے باباجانؒ کے ساتھ ان کی محبت کا احاطہ کرسکیں، مگر میں اس محبت و عقیدت کو عشق قلندری کا نام دے کر آگے بڑھتا ہوں کیونکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا موزوں لفظ نہیں مل رہا۔ مولانا ابراہیم مظہریؒ کی اس ناگہانی موت پر افسردہ صرف میرے گھر کے مرد و زن نہیں، میرے گاؤں ڈاگئی کے غیور عوام الناس بھی غمزدہ تھے کیونکہ وہ 8 سال میرے باباجانؒ کے مسکن ڈاگئی میں گزار چکے تھے۔ ہمارے خاندان کے لیے ان کی جدائی سگے بھائی کی جدائی سے کم نہیں مگر مجھے تو لگتا ہے کہ میرے دست و بازو ایک ساتھ کٹ گئے۔
2013 میں قومی اسمبلی کے الیکشن کے دوران، الیکشن کے بعد جمعیت علمائے اسلام کی اندرونی سیاست میں میرے دست راست، پشتی بان اور میرے اشارے کے منتظر رہتے تھے مگر 2019 میں باباجانؒ کی رحلت کے بعد تو مولانا ابراہیم مظہری میرا سایہ بن کر میرے ساتھ رہے اور میرے منہ سے نکلے ہوئے ہر لفظ اور فیصلے کو حرف آخر سمجھ کر ڈٹ جاتے تھے۔ موت برحق ہے سب نے جانا ہے مگر میں خود غرض ہو کر سوچتا ہوں کہ مفاد پرستوں کی اس دنیا میں میرے لیے مولانا ابراہیم مظہری کی یہ کمی اور خلا کون پر گریگا؟
مولانا ابراہیم مظہری ایک عالم و عامل باعمل، شفیق استاد، روحانی پیشوا ، قلندری سیاست کے علمبردار اور اپنے مرشد و مربی ڈاگئی باباجیؒ کی طرح عجز و انکساری کے مجسم پیکر تھے۔گفتگو میں علمی گہرائی، لہجے میں محبت اور کردار میں اخلاص پر ان کے چہرے کا نور ہمہ وقت رہتا تھا۔ پہلی ملاقات میں ان کی معصومانہ مسکراہٹ بندے کو اپنا اسیر بنا لیتی تھی اور یہی صفت انھیں اپنے معاصرین میں ممتاز بناتی تھی۔
ان کی دینی و علمی خدمات کے ساتھ ان کی سیاسی و تنظیمی وابستگی بھی نہایت اہمیت کی حامل رہی۔ وہ جمعیت علماء اسلام کیساتھ طویل عرصہ منسلک رہے، ضلعی اور صوبائی سطح پر فعال کردار ادا کرتے رہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے بااعتماد اور قابل رشک رفقاء میں شمار ہوتے تھے ،وہ دوستی کا حق نبھانے میں کیسے یکتا و بے مثال تھے یہ کوئی مجھ سے یا مولانا ابراہیم مظہری کو بہت ہی عزیز جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی جنرل سیکریٹری ہر دل عزیز سینٹر عطاء الحق درویش صاحب سے پوچھیں۔
ڈاگئی باباجیؒ کی علمی شان اور شاگردی کا حق ادا کرتے مولانا ابراہیم مظہری نے اپنے پیچھے وہ علمی نقوش چھوڑے جس کی وجہ سے وہ زندگی میں اپنے ہم عصروں سے ممتاز رہے اور اب ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میرے دست راست ، روحانی بھائی مولانا ابراہیم مظہریؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور انھیں فردوس بریں میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ ہمارے سمیت، ان کے پسماندگان اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ یا مولائے کائنات مجھ فقیر کو باباجانؒ کے شاگردوں میں سے کوئی دوسرا ابراہیم مظہری ثانی عطا فرمائے۔ آمین ثمہ آمین یا رب العالمین