32

صبح بخیر! سوویت یونین اب وجود نہیں رکھتا

طیارہ شکن میزائل اسٹنگر نے افغان جنگ کا پانسہ تو پلٹ دیا مگر اب امریکیوں کو یہ خدشات لاحق ہوگئے کہ یہ جدید ٹیکنالوجی دیگر ممالک کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ بریگیڈیئر یوسف کا دعویٰ ہے کہ افغان جہاد میں شریک کوئی ایک بھی کمانڈر ایسا نہیں جس نے اسلحہ نہ بیچا ہو۔ مولوی یونس خالص کی حزب اسلامی کے ایک کمانڈر کو اوجڑی کیمپ میں ٹریننگ کے بعد اسٹنگر میزائل دیئے گئے اور اس تنبیہہ کیساتھ افغانستان روانہ کیا گیا کہ ہلمندکے راستے جانا ہے اور ایرانی سرحد کا رُخ نہیں کرنا۔ انہوں نے راستہ تبدیل کرلیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کے ہاتھوں گرفتا رہوگئے۔ یوں 4لانچر اور 16اسٹنگر میزائل ایران کے ہاتھ لگ گئے۔ ایرانی حکام نے افغان کمانڈروں کو تو رہا کردیا مگر کوشش کے باوجود اسٹنگر میزائل واپس نہ لئے جا سکے۔ 25ستمبر 1986ء کو آئی ایس آئی کے اوجڑی کیمپ میں دھماکوں سے اسلام آباد اور راولپنڈی لرز اُٹھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دھماکہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ بہرحال ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اختر عبدالرحمان جواب چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تھے، وہ دونوں شہروں کے سنگم پر گنجان آباد علاقے میں اسلحہ خانہ بنانے پر تنقید کی زد میں تھے، انہوں نے اوجڑی کیمپ دھماکوں کو تخریب کاری قرار دیدیا۔

ریٹائرڈ کرنل محمود احمد غازی جو آئی ایس آئی کے اسٹنگر ٹریننگ اسکول کے سربراہ اور چیف انسٹرکٹر تھے، وہ اپنی کتاب ’’افغان جنگ اور اسٹنگر کی داستان‘‘میں لکھتے ہیں کہ پاکستان نے امریکہ سے مجموعی طورپر 487لانچر اور 2288 سٹنگر میزائل وصول کیے تھے۔ ان میں سے 122لانچر اور 281 سٹنگر 10 اپریل 1988ء کو اوجڑی کیمپ کے مشہور دھماکے میں تباہ ہو گئے جس کے بعد ہمارے پاس صرف 365 لانچر اور 2007ء میزائل باقی رہ گئے تھے۔ ان میں سے 336لانچر اور 1969میزائل مجاہدین نے استعمال کئے تھے اور باقیماندہ امریکہ کو واپس کر دیے گئے تھے۔

جنرل ضیاالحق کے معتمد خاص اور سابق وائس چیف جنرل خالد محمود عارف نے بھی انکشاف کیا ہے کہ جنرل ضیاالحق نے دانستہ طور پر اس حادثے کو زیادہ اہمیت نہ دی۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو نے سانحہ اوجڑی کیمپ کی تحقیقات کیلئے لیفٹیننٹ جنرل عمران اللہ کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیدیا۔ جنرل ضیاالحق اس معاملے کو دبانا چاہتے تھے اسلئے 29مئی 1988ء کو وزیراعظم محمد خان جونیجو کو گھر بھیج دیا گیا۔ اُدھر افغانستان میں اب ببرک کارمل کی جگہ خفیہ ادارے ’’خاد‘‘ کے سابق سربراہ ڈاکٹر محمد نجیب اللہ احمد زئی عنان اقتدار سنبھال چکے تھے۔ افغان جنگ کے معاشی بوجھ نے سوویت یونین کی کمر توڑ کررکھ دی تھی اور اب اس معاملے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

جنرل کے ایم عارف نے اپنی کتاب ’’Working with Zia‘‘ میں لکھا ہے کہ سوویت یونین نے افغان مہم جوئی کی بہت بھاری قیمت ادا کی۔ جون 1989ء میں روسی وزیراعظم مسٹر نکولائی ریز کوف نے اعتراف کیا کہ افغانستان کی جنگ میںان کے ملک کو 70بلین امریکی ڈالر کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ جسکا مطلب ہے کہ اوسطاً سالانہ8بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ 25مئی 1988ء کو جنرل الیکسی لیزی چیف جو سویت یونین کی بحری اور بری افواج کے چیف پولیٹکل ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ تھے، انہوں نے انکشاف کیا کہ مئی 1988ء تک افغانستان میں 13310روسی فوجی مارے جا چکے تھے۔ اسکے علاوہ 35474زخمی ہوئے جبکہ 311لاپتہ ہیں۔ دوران جنگ 800ٹینک، 1113بکتر بند گاڑیاں ،7766دیگر فوجی گاڑیاں، 882 توپیں اور مارٹر جبکہ 1486جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے۔

سوویت یونین کو ایک اور دھچکا یہ لگا کہ افغان جنگ کے دوران یکے بعد دیگرے تین چوٹی کے رہنما آنجہانی ہوگئے۔ نومبر 1982ء میں برزنیف فوت ہوئے، انکے جانشین یوری آندریوپوف بھی فروری1984ء میں انتقال کرگئے تو کانسٹنٹائن چرنینکو سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ چرنینکو بھی مارچ1985ء میں دار فانی سے کوچ کرگئے تو میخائل گوربا چوف نے عنان اقتدار سنبھال لی ۔اب بھی بلنڈر یا سرنڈر کرنیوالوں پر طنز کرنا ہو تو کہا جاتا ہے کہ یہ تو گوربا چوف ثابت ہوئے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ میخائل گوربا چوف نے حقیقت پسندی اور دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے روس کو افغان جنگ کی دلدل سے نکالا۔میخائل گوربا چوف نے فروری 1986ء میں سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کی 27ویں کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان ایک رستا ہوا زخم ہے۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں تعینات روسی فوجی دستوں کو مستقبل قریب میں واپس بلالیا جائے۔ روسی حکمرانوں کے دماغ سے جہاں پانی کا خناس نکل گیا تو گورباچوف نومبر 1985ء میں بھاگم بھاگ امریکی صدر ریگن کے پاس پہنچے۔ انہوں نے مسلم دنیا کا پرانا نقشہ نکالا اور کہا کہ یورپ کا اکثر علاقہ مسلمانوں کے زیر نگین رہا ہے۔ اب اگر وہ خواب غفلت سے جاگ پڑے تو دنیا کا کوئی ملک انکے سامنے نہیں ٹھہر سکے گا۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مشترکہ دشمن کے سامنے ڈٹ جائیں۔ ریگن نےاس تجویز کو سراہا اور یہی ملاقات 1988ء میں جنیوا معاہدے کا باعث بنی۔ جب تاریخ کے متلاطم دریائے سیاستکاری اور ڈپلومیسی کی لہر اتری تو زمانے بھر نے دیکھا کہ آمو میں امریکہ بالکل عریاں نہا رہا تھا۔ اس کے بدن پر جانگیا بھی نہیں تھا۔

14اپریل 1988ء کو افغان مجاہدین کو مذاکرات میں شریک کئے بغیر جنیوا معاہدے پر دستخط ہوگئے جس میں سوویت یونین نے افغانستان سے فوجی انخلا پر آمادگی ظاہر کردی۔ 15فروری1989ء کو سوویت یونین کے آخری دستے نے دریائے آمو پر قائم حیرتان پل عبور کرکے اس پار قدم رکھا اور یوں ایک اور افغان جنگ اختتام کو پہنچی۔ افغانستان سے روسی افواج کا انخلا اس قدر ہنگامہ خیز اور رسواکن نہ تھا جس طرح 29اپریل1975ء کو امریکیوں کو یوں ویت نام سے فرار ہونا پڑا کہ امریکی سفارت کاروں کو سائیگون کے سفارتخانے کی چھت سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالنا پڑا۔یہ واپسی اگست 2021ء میں کابل سے امریکیوں کے انخلا جیسی عجلت خیز بھی نہ تھی۔

21دسمبر1991ء کو روسی ٹی وی پر خبروں کاسلسلہ شروع ہوا تو نہایت ڈرامائی انداز میں بتایا گیا کہ صبح بخیر، سوویت یونین اب وجود نہیں رکھتا۔ چند روز قبل روس ،بیلا روس اور یوکرین کے رہنمائوں نے سوویت یونین کو تحلیل کرنے اور آزاد ریاستوں کے قیام سے متعلق بات چیت کی تھی۔اب مزید 8سوویت ریاستوں نے اس میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا تھا۔ 25دسمبر1991ء کو میخائل گورباچوف عہدہ صدارت سے مستعفی ہوگئے اور کریملن سے سوویت یونین کا پرچم اُتار لیا گیا۔

بشکریہ ایکسپرس