382

عدالت کا تاریخی فیصلہ اور تحریک عدم اعتماد

آخر کار مایوسی کے بادل چھٹ گیے اور ایک بے نام سی تاریکی جو سیاسی اور قومی فضا پر چھا گئ تھی وہ آج کے تاریخی فیصلے نے ایک امید اور روشنی میں بدل دی آج انصاف کا بول بالا ہوا اور عدالتوں پر اعتماد بھی مستحکم ہوا ھے کہ آج نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا گیا اور امید ھے کہ آیندہ بھی سر نہیں اٹھاے گا ۔تین اپریل کو جب تحریک عدم اعتماد کے لیے ووٹنگ ہونے والی تھی ڈپٹی سپیکر نےآیئن کے ایک آرٹیکل 5 کے تحت ایک غیر دستوری رولنگ کے زریعے یہ عمل ناکام بنا دیا تھا آرٹیکل پانچ ریاست سے

 وفاداری سے متعلق ھے اور کسی "سیاسی سیانے "کے مشورے سے حکومت نے یہ آرٹیکل اپلائ کرتے ہوے ایک تو عدم اعتماد سے جان چھڑائی اور دوسری طرف متحدہ اپوزیشن پر غداری کا الزام بھی لگا دیا ۔وزیر اعظم نے اسمبلیاں تحلیل کر دیں مگر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے نتیجے میں فریقین کو سنا گیا اور آخر کار اسمبلی اپنی پرانی حثیت میں بحال کر دی گئ پنجاب اسمبلی میں بھی آیئنی بحران کے زریعے سیاسی عمل معطل ھے مگر لاہور ہائیکورٹ میں اس کے لیے درخواست جمع کرای جا چکی ھے دو روز پہلے پنجاب اسمبلی کے دروازے بند کر کے خار دار تاریں لگا دی گیئں اور ممبران کو اندر جانے سے روک دیا گیا لیکن اپوزیشن نے اپنا اجلاس ہوٹل میں منعقد کر کے حمزہ شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب کر لیا ۔سیاسی رسہ کشی جاری ھے اور دیکھیے کہ انجام کیا ہوتا ھے مگر یہ واضح ھے کہ حکومت غیر جمہوری اور خلاف آیئن اقدامات کر رہی ھے اور تحریک عدم اعتماد سے بچنا چاہتی ھے یہ ہی وجہ تھی کہ وزیر اعظم صاحب نے اسمبلیاں توڑ دیں مگر میدان میں مقابلہ گوارا نہیں کیا سپریم کورٹ نے نو اپریل کو دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیا ھے مگر شنید ھے کہ حکومتی اراکین استعفوں پر غور کر رہے ہیں اور وزیر اعظم پھر کوئ نیا سرپرائز اپنی زنبیل سے نکالیں گے کیونکہ وہ اپوزیشن کا ایوان میں مقابلہ کرتے نظر نہیں آتے جبکہ ان کو "سپورٹس مین سپرٹ" کا بھی دعویٰ ھے ان گنت تقاریر میں وہ فرما چکے ہیں کہ آخری گیند تک لڑیں گے مگر شاید انکی شرط یہ ھے کہ میدان میں ان کے علاؤہ کوی نہ ہو ۔یہ ہی وجہ ھے کہ وہ موجودہ سیٹ میں،، بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے، والی صورت حال کو قبول کرنے کی بجاے سر اٹھا کر دوبارہ منتخب ہونا چاہتے ہیں اور نئے الیکشن اب انکا مطمح نظر ہیں۔ لیکن دیکھا جاے تو یہ ملک اب اتنی جلدی الیکشن کا متحمل نہیں ہو سکتا اور بقول خان صاحب کہ خزانہ تو پہلے ہی خالی ھے معلوم نہیں کہ اتنی ابتر معاشی صورت حال میں وہ نئے الیکشن کا انعقاد کیسے کریں گے یہ سوال کم از کم ہماری سمجھ میں تو نہیں آیا شاید کوی دانش مند انصافی جواب دے سکے ۔سپریم کورٹ کے فیصلے پر حکومت اور حواری خوش نظر نہیں آتے کہ فیصلہ ادھورا ھے عدالت کو نئے الیکشن کا حکم دینا چاہیے تھا۔ ہماری نظر میں بھی فیصلہ ادھورا ھے کہ نہ تو مشکوک خط کی بابت کوی سوال کیا گیا نہ غداری کے سنگین الزام پر بات ہوی وزیر اعظم صاحب کے لیے خوشی کا مقام ھے کہ عدالت نے معاملہ تین اپریل کے اقدام تک ہی محدود رکھا ورنہ وزارت خارجہ کی معمول کی کارروائی کے تحت کیبل کو سازشی خط بنانے اور سیاسی فایدہ اٹھانے پر بھی کارروائ تو بنتی ھے ۔کارروائ تو محترمہ گوگی کے خفیہ و غیر خفیہ معاملات پر بھی بنتی ھے مگر بھولا عوامی کہتا ھے کہ فی الحال دیکھو سنو اور سمجھو کہ وقت کی پٹاری سے اور کیا کیا برآمد ہوتا ھے سیاسی جھٹکوں کا وقت ھے رب خیر کرے

بشکریہ اردو کالمز