238

گوگی گھڑی اور ملک کے گنجلک مسائل 

نئ حکومت اپنی زندگی کے دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ھے مسائل کا کوہ گراں کندھوں پر لدا ھے اور اس سے کہیں بڑھ کر عوام کے کندھے ان سے شل ہوے جاتے ہیں ۔رمضان کا آخری عشرہ ھے اور لوڈ شیڈنگ نے زندگی عزاب کر دی ھے ابھی کراچی میں مزید لوڈ شیڈنگ کی اطلاع ھے جبکہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی انتہا ہو چکی ھے ۔وزیر اعظم نے مئ کے اوائل میں اس کے خاتمے کی نوید دی ھے مگر ہنوز بجلی دور است اور جلدی خاتمے کے آثار تو نظر نہیں آتے مگر چلیے امید پر دنیا قائم ھے ۔اھر جلد از جلد اس بد ترین صورت حال پر قابو پا لیا جاے تو بہتر ہو گا ادھر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی کچھ حوصلہ افزا نہیں اور ان میں بھی طوفانی رفتار سے اضافہ ہو رہا ھے ۔مفتاح اسمعیل آئ ایم ایف سے مذاکرات کر رہے ہیں معلوم ہوتا ھے انہیں خراب ترین معاشی صورت حال کا ادراک بھی نہیں تھا اور معاشی اعداد و شمار پراس وقت کی اپوزیشن کے بیانیے محض سیاست تھی اب قرضوں کا بوجھ جو تین سال میں عمران خان صاحب نے اس ملک پر چڑھا دیا ھے وہ اترنا تو دور کی بات مزید قرضے لینا بھی آسان نہیں ظاہر ھے آئ ایم ایف کی شرائط سنگین ہوں گی شہباز شریف کے پیشرو یعنی کہ عمران خان صاحب اور انکے متعلقین ملک کی سنگین معاشی حالت کے باوجود رنگین دور حکومت گزار گیے ہیں جن میں ہیلی کاپٹر کے خرچے اور توشہ خانے کے تحائف جیسے معاملات قابل زکر ہیں ، اب عوام میں موجود ہیں اور آگے کی منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں مگر افسوس کہ ان کے آگے کے راستے میں گوگی، سونے کی گھڑیاں اور توشہ خانہ جیسی رکاوٹیں کھڑی ہیں ۔محترمہ فرح گوگی کے نام مزید قیمتی اراضی کا انکشاف ہوا ھے اور یہ ہی نہیں عبدالقادر یونیورسٹی کی ٹرسٹی بھی واقع ہوی ہیں قیمتی اراضی ان کے نام کوڑیوں کے بھاؤ ہونے کے انکشاف میں ملک ریاض کے صاحب زادے علی ریاض کا نام بھی آ رہا ھے تحقیقات جاری ہیں پھر بھی فواد چوہدری صاحب کی سادگی قابل دید ھے کہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کون فرح بی بی؟ جبکہ کچھ سابق وزرا کا کہنا ھے کہ تحقیق کریں جو سامنے آئے اس کی بنیاد پر سزا دیں یہ سوال تو عمران خان سے بھی پوچھا گیا ھے مگر کمال تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوے ایسے سوالات کا جواب نہیں دیتے ویسے بھی ان کا رجحان محض سوالات پوچھنے اور دوسروں کو للکارنے کی حد تک ھے جواب دینے کی پریکٹس کم ھے ۔جب آپ ہر بات پر مزہب کو بیچ میں لاتے ہیں تو گھڑیوں گوگی اور فارن فنڈنگ جیسے معاملات پر آپ جواب دہ ہیں ورنہ اپنی سیاست کو محض سیاست تک رکھنا مناسب ہوگا مزہب کا تڑکہ نہ لگایے تو بہتر ھے ۔اس وقت ملک کے حالات فساد کے متحمل نہیں ہو سکتے اس لیے تمام سیاسی قائدین کو وسیع تر قومی مفاد میں نفرت اور انتشار کی سیاست کو ختم کرنا چاہیے حال ہی میں کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون خودکش حملہ آور کی وجہ سے تین غیر ملکی شہری اپنی جان سے گیے اور چین سے اب سی پیک پر جو ایک تعطل کے بعد بات چیت شروع ہوی ھے وہ تلخیوں کی نذر ہو سکتی ھے جو کہ ملکی مفاد کے لیے قابل قبول نہیں یہ امر نہایت افسوس ناک ھے کہ ایک بار پھر دہشت گردی کا نادیدہ آسیب مسلط ہو چکا ھے نئ حکومت کے لیے ان مسائل سے نمٹنا بھی آسان نہیں ہو گا البتہ اتحادی اگر حکومت کا ساتھ دیں اور معاملات مفاہمت سے چلاے جایئں تو حالات میں بہتری آ سکتی ھے پنجاب حکومت اب بھی بن نہیں سکی اور ابھی تک وزیر اعلیٰ نے حلف نہیں لیا یوں سیاسی بحران اپنی جگہ موجود ھے گو کہ عدالت اس حوالے سے کئ بار حکم جاری کر چکی ھے مگر گورنر صاحب اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوے اور شاید ہوں گے بھی نہیں اور پھر کوی اور راستہ اختیار کیا جاے گا بہتر ہوتا آیئنی طریقے سے حکومت بن جاتی اور سیاسی عمل رواں ہوتا پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اس وقت سیاسی یتیم ھے اور کون جانے کب تک ایسا رہنے والا ھے ۔ادھر عمران خان صاحب نے عید کے بعد لانگ مارچ کا عندیہ دیا ھے اور انہیں امید ھے کہ عوام کا ٹھاٹیں مارتا سمندر انکے ساتھ ہو گا جو بقول انکے امپورٹڈ حکومت کو تہس نہس کر دے گا مقابلہ سخت ھے امید ھے کہ حکومت اس چیلنج پر اپنی کارکردگی کی وجہ سے قابو پا لے گی ،امید پہ دنیا قائم ھے ۔

بشکریہ اردو کالمز