240

مہنگائ  عوام کی دہائی 

شہباز شریف کی حکومت قائم ہوے کوی دو ماہ کی مدت گزر چکی ھے گو کہ ایک مضبوط جمہوری حکومت کے قیام کے لیے یہ مدت بہت قلیل ھے مگر عوام کو ابھی ایسے اقدامات بھی نظر نہیں آرہے جس سے ان کی کچھ تسلی و تشفی ہو سکے ۔لوڈ شیڈنگ بدستور جاری ھے پٹرول کی قیمتوں میں تیس روپے کا اضافہ ہو چکا ھے اور اسی مناسبت سے خوردنی تیل مرغی کے گوشت اور دیگر اشیاے صرف میں بھی اضافہ ہوا مہنگای میں پسے عوام کے لیے یہ ناقابل برداشت بوجھ ھے ۔بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی نوید ھے اور یہ وہ بجلی ھے جو خال ہی عوام کو میسر ھے یہ تو معلوم نہیں کہ مہنگای کا یہ طوفان کب تھمنے والا ھے مگر عوام میں اب بے چینی پھیل رہی ھے انصافی دوست اب سوال پوچھتے نظر آرہے ہیں کہ کیا یہ نتایج و ثمرات ہیں جو عدم اعتماد کے نتیجے میں ملے ہیں ؟عمران خان صاحب کے دور میں تو بجلی بھی مل رہی تھی ،پٹرول بھی اتنا مہنگا نہیں تھا یہ اب کیا ہوا ؟انصافی دوستوں اور عوام کے شکوے بجا مگر بادی النظر میں کچھ حقایق بھی ہیں جن پر غور ضروری ھے کہ عمران خان صاحب کو جب حکومت ملی تو سابقہ حکومت بجلی کے مسائل حل کر کے گئ تھی ایل این جی کے معاہدے بھی کیے تھے  جی ہاں وہی معاہدے جن پر پچھلی حکومت الزام لگاتی تھی کہ مہنگے معاہدے کیے گیے ان کا یہ حال کہ خود بجلی کا کوی منصوبہ عوام کو دے کر نہیں گیے علاؤہ ازیں ڈالر کا ریٹ اس وقت کی حکومت کہیں کم چھوڑ کر گئ تھی جتنا آج عمران خان موجودہ حکومت کو دے گیے ہیں  قرضے اس وقت کی حکومتوں نے دس سال میں نہیں لیے ہوں گے جتںے قرضے عمران خان حکومت نے تین سال میں لیے باوجود اسکے کہ کوی ترقیاتی منصوبہ بھی نظر نہیں آتا تو پھر قرضے کیوں لیے گیے یہ اپنی جگہ ایک سوال ھے جس کا جواب سابقہ حکومت سے لیا جانا چاہیے  ۔اسکے علاؤہ خارجی محاذ پر بھی سابقہ حکومت کی کارکردگی کوی قابل زکر نہیں رہی سی پیک پر خاطر خواہ کام نہ ہونے کے نتیجے میں چینی ہم سے ناراض ہیں تو ترک کمپنیوں کو بر وقت پیسوں کی ادایئگی نہ کرنے اور منصوبے ختم کرنے سے  پاک تعلقات ترک بھی کچھ ٹھنڈے ٹھنڈے ہوچکے  سعودیہ ہمارا دوست بھی کچھ معاملات پر ہم سے خفا ھے کسی بھی ملک میں ترقی بین الاقوامی تعلقات میں بڑھوتری تجارتی منصوبوں کی مرہون منت ھے ایسے میں پاکستان میں خوشحالی کہاں سے آئے ۔اسکے علاؤہ ایک وجہ ملک کا اندرونی انتشار بھی ھے تو ایسے غیر یقینی حالات میں ایک غیر ملکی سرمایہ دار پاکستان میں انوسمنٹ کے خیال سے ہچکچا رہا ھے پاکستان کو پہلے اپنے دوستوں کا اعتماد بحال کرنا پڑے گا یہ اچھی بات ھے کہ بلاول بھٹو زرداری بطور وزیر خارجہ اپنی کارکردگی سے نمایاں ہو ریے ہیں اور وزیر اعظم بھی مختلف ممالک کے دورے کر کے پاکستان کے دوستوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کر ریے ہیں ۔ایک عام پاکستانی کو اس سے سروکار نہیں ہوتا کہ ملک کے داخلی اور خارجی امور کیسے چل رہے ہیں اسے دو وقت کی روٹی چاہیے اور اپنے بچوں کی تعلیم اور صحت چاہیے فی الوقت ایک متوسط اور غریب خاندان کا کفیل مایوس ھے حکومت کو بجٹ میں ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جس سے عوام کا اعتماد بحال ہو یقینا حکومت نے اپنی سیاست کو داؤ پر لگا کر کچھ فیصلے کیے ہیں اور مزید بھی کرے گی جس سے ریاست بچے گی مگر ساتھ ہی ایسے اقدامات بھی کرنے ہوں گے جس سے عوام بھی بچے کیونکہ عوام سے ریاست ھے پاکستان ھے ۔پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ھے سو سب سیاسی جماعتوں کو اپنی سیاست بچانے کی بجاے پاکستان کی فکر کرنی چاہیے ملک کی سیاسی صورت حال یہ ھے کہ عمران خان صاحب پشاور میں حجرہ نشین ہو گیے ہیں اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونواہ وفاق کو للکار ریے ہیں اس پر چڑھائی کا عندیہ دے رہے ہیں اور ایسے انتشاری بیانات کے باجود عدالتیں انہیں رعایت دے رہی ہیں پچیس مئ کو ہونے والے واقعات پر بھی عدالتوں نے عمران خان صاحب کی معصومیت پر قربان جاتے ہوے ایسے حکم دیے جسے اپوزیشن نے اپنی مقصد براری کے لیے استعمال کیا اور اسکے بعد اسلام آباد جلتا رہا درخت جل گیے میٹرو سٹیشن اور اے ٹی ایم کو نقصان پہنچایا عدالتیں حکومتی موقف سننے کو تیار نہیں یہ ہی وجہ ھے کہ لاہور میں سیشن کورٹ میں وزیر داخلہ کو اس ساری صورتحال کا زمہ دار قرار دے کر ان پر مقدمہ قائم کیا گیا ھے ۔ایسا معلوم ہوتا ھے کہ کچھ عناصر سب سے پہلے پاکستان کی بجاے سب سے پہلے عمران پر یقین رکھتے ہیں اس لیے عمران خان اب عدالتوں کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ انہیں دھرنے کی اجازت دی جاے انکی شرایط پر تو تب وہ اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں  جبکہ عمران خان صاحب یہ تسلیم کر چکے کہ انکے لوگ مسلح بھی تھے اسکے باوجود یہ حال ھے کہ عمران خان انتشاری بیانات جاری کرتے جا رہے ہیں مگر ریاستی ادارے ہیں کہ دم بخود ہیں اور خاموشی سے دیکھ اور سن رہے ہیں چاہے وہ اے آر وائی نیوز پر جنرل باجوہ اور غلام حسین کی گفتگو جیسے معاملات ہوں یا عمران خان کے پاکستان کے ٹکڑوں والے  بیان ہوں خاکم بدھن مگر خان کی محبت دل سے کم نہیں ہورہی ھے ایسا لگتا ھے کہ حکومت بدل گئ ھے مگر ،آپ نے گھبرانا نہیں ھے ،،نامی فلم ابھی چل رہی ھے 

بشکریہ اردو کالمز