368

رانی پور کا انسانیت سوز واقعہ اور ہماری بے حسی 

اسلام آباد میں جج کے گھر درندگی کا شکار ہونے والی رضوانہ کے لیے انصاف کے مطالبے کی گونج ابھی تھمی نہیں کہ ایک اور ننھی کلی فاطمہ کو بے رحمی سے مسل دیا گیا مار دیا گیا ابتدائی رپورٹس کےمطابق  سندھ میں رانی پور میں ایک وڈیرے کے کمرے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوی جس میں ایک بچی دس سالہ فاطمہ فرش پر تڑپ رہی ھے جانکنی کے عالم میں ھے اور بیڈ پر ایک عیاش وڈیرا نشے میں دھت سو رہا ھے اس نے بچی کے ساتھ   زیادتی کی اس پر تشدد بھی کیا گیا یہاں تک کہ بچی جان کی بازی ہار گئ ۔فاطمہ کے والدین کا کہنا ھے کہ وڈیرے کے پاس کم عمر بچیوں کی ایک بڑی تعداد ملازم ھے اور انہیں والدین سے ملنے بھی نہیں دیا جاتا  وڈیرے پیر اسد شاہ نے اس بات کا اعتراف کیا ھے کہ وہ نشے میں تھا اس نے بچی کے ساتھ درندگی کی أج بچی کا پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا ھے اور اس حوالے سے مزید تحقیقات منظر عام پر آیئں گی اگر أنے دی گیئں تو ورنہ اس معاشرے میں غریب شخص جس کے پاس کوی پاور ھے نہ اتھارٹی اس سے انصاف کئ ہزار نوری سال دور ھے یعنی ناممکن ہی سمجھیے ۔کون نہیں جانتا  گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والی کم عمر دعا زہرہ کے مقدمے میں سندھ کی ایک با اختیار شخصیت کا اثر و رسوخ اورمداخلت تھی  ۔ قرائین سے ظاہر ہوتا ھے کہ جس طرح نور مقدم کا مجرم ابھی تک زندگی کے مزے لوٹ رہا ھے یہ وڈیرا شاہی بھی اسی طرح اپنے اثر و رسوخ سے بغیر سزا کے باہر أجاے گی پیر اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ پاکستان سے فرار ہو گئ ھے اور مرکزی مجرم پولیس کی تحویل میں ھے لیکن یہ وہ تحویل نہیں جس طرح ایک عام پاکستانی کو رکھا جاتا ھے  بلکہ ایس ایچ او نے ایک مہمان کی طرح پیر کو رکھا اس زمینی خدا کی اس مہمانداری کی خبر سکھر میں پولیس کے ایک اعلی افسر تک پہنچی تو اس نے ایس ایچ او کو معطل کیا اور پولیس کی جانب سے اس عزت افزائی کا نوٹس لیا ھے پیر اسد شاہ کے مطابق بچی بیمار تھی اور اس کا علاج کرایا جا رہا تھا جب اس سے تفصیلات پوچھی گیئں کہ کہاں علاج ہو رہا تھا تو اس نے کہا ہم اپنی پیروں کی حویلی میں  ہی علاج کرا رہے تھے اس کمپوڈرکو بھی گرفتار کر لیا گیا ھے جو نام نہاد ڈاکٹر بن کر اس حویلی میں مقید بچیوں کا علاج کے نام ستیا ناس کرتا تھا ۔ہمارا ان نام نہاد پیروں ،گدی نشینوں وڈیروں یا حکومت میں بیٹھے ان با اثر لوگوں کے عزیزوں جو ایم این اے ایم پی اے یا کوئی منسٹر ہیں اگر أپ ایک حساس دل رکھتے ہیں اور خود بھی بال بچوں والے ہیں زرا تصور کیجیے ان لمحات کا تصور کیجیے کہ یہ سب أپ کی  بچی کے ساتھ ہو وہ چیختی چلاتی ریے اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاے اسکی ویڈیو وایرل ہو جاے اسکے تن پر کپڑا نہ ہو تو  آپ کیسا محسوس کریں گے اگر دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں گے تو جواب مل جاے گا آپ کے دل سے صدا أے گی انصاف انصاف انصاف  اور ایک بار پھر وہی استدعا والدین سے ھے  کہ اللہ کے واسطے سوکھی روٹی کھا لو مگر اپنے معصوم بچے چند حقیر نوٹوں کے عوض بھیڑیا نما کسی جج کسی وڈیرے یا منسٹر کے آگے مت پھینکو یہ موجودہ زمانے کے فرعون ہیں یہ تمہیں اور تمہارے بچوں کو درد دیں گے اسکی دوا نہیں دیں گے خدارا ہوش کرو اور اتنے ہی بچے پیدا کرو جتنے سنبھال سکو رضوانہ ہسپتال میں سسک رہی ھے اور فاطمہ قبر کے اندھیروں میں اتر گئ اور نہ جانے کتنی ایسی بچیاں ہیں جو زندہ درگور ہیں کون ہو گا جو انہیں جہنم کدہ سے رہائی دلاے گا شاید موت ہی ،،،

 

بشکریہ اردو کالمز