371

نئ وفاقی حکومت اور خونی پنجاب اسمبلی

آخر کار ایک بھرپور آیئنی جنگ لڑنے کے بعد عنان اقتدار شہباز شریف کے حوالے ھے اور وہ ملک کے وزیر اعظم منتخب ہو چکے ہیں ادھر اپوزیشن امپورٹڈ حکومت نا منظور کے ٹرینڈ چلا کر ہلکان ہو رہی ھے  سوشل میڈیا پر نا منظور کا طوفان برپا ھے مگر حقیقت یہ ہی ھے کہ نئ حکومت اپنی کابینہ سمیت میدان عمل میں آچکی ھے اور اس کے سامنے معاشی اور سیاسی چیلنجز موجود ہیں ۔ نئ حکومت کا سب سے بڑا مسلہ اس وقت اتحادیوں کا احسن طریقے سے ساتھ چلنا ھے جو کہ ایک کوہ گراں نظر آ رہا ھے اور عمران خان صاحب کے لیے یہ ایک پلس پوائنٹ ھے ان کے خیال میں اس غیر فطری اتحاد کا زیادہ دیر چلنا ممکن نہیں ہو گا لہزا فیصل واوڈا صاحب نے بھی سیاسی بڑھک لگا دی ھے کہ عید کے بعد یہ حکومت ختم ہو جاے گی ۔غریب عوام کو اس سے غرض نہیں کہ حکومت کب جاے گی ان کا مسلہ ھے مہنگای کب جاے گی  بجلی کب آے گی ؟  زور کس پہ ہوا غریب عوام پر  کیونکہ امیر عوام ابھی عمران خان کے ساتھ اظہار یک جہتی میں مصروف ہیں لہزا انہیں مہنگائ سے سروکار نہیں اور فی الحال وزیر اعظم شہباز شریف کے پاس بھی ان سوالات کے جواب نہیں ہیں ان کے آنے بعد ڈالر کی قیمت ضرور گری مگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے سے اب پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نا گزیر ہو گا ادھر نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی نوید سنائی ھے معلوم ہوتا ھے آنے  والا وقت نئ حکومت کے لیے مشکلات اور عوام کے لیے مہنگائ کا پہاڑ ثابت ہو سکتا ھے ۔لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ھے معلوم ہوا کہ پچھلی حکومت نے پاور پلانٹس جو کافی حد تک بند پڑے ہیں انکی بحالی کے لیے کوی کام نہیں کیا اور کرتے بھی کیسے ایک وقت میں ایک کام ہی ہو سکتا ھے توشہ خانہ کا مال و متاع سمیٹتے یا بجلی کا کچھ کرتے اسلیے پہلے تحفے تحائف کو ٹھکانے لگانا زیادہ ضروری تھا عوام  تو ہاتھ کا پنکھا بھی جھل سکتے ہیں توشہ خانے کے مسائل کیا کم ہیں اور سب سے بڑھ کر فرح گوگی صاحبہ کی سیاسی منظر نامے سے غیر موجودگی سب سے اہم معاملہ تھا جو پہلے پہل نمٹا لیا گیا باقی عوام کا کیا ھے ان کو تو رونے کی عادت ھے ۔جب عمران خان صاحب سے تحائف کی بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے میرا تحفہ میری مرضی کہہ کر بات ختم کرنے کی کوشش کی لیکن ان کو احساس نہیں کہ ملک کی کیسی جگ ہنسائی ہوی سرکاری حثیت میں دیے گیے تحایف کو قومی ملکیت تصور کیا جانا چاہیے اور یہ آدھی پونی قیمت دے کر تحایف لے لینا اور اسے اچھی قیمت پر فروخت کر کے پیسہ جیب میں ڈال لینا نہایت غیر اخلاقی حرکت ھے امید ھے اب اس حوالے سے کچھ قانون سازی ہو گی ۔کہنے والے تو کہیں گے کہ اس سے پہلے یوسف رضا گیلانی صاحب کے دور میں توشہ خانہ سے قیمتی ہار گم ہوا اور اس وقت نہ صرف گیلانی صاحب پر کیس ھے بلکہ میاں نواز شریف پر بھی توشہ خانہ کیس چل رہا ھے اور ہم یہ کہیں گے کہ جو بات غلط ھے وہ سب کے لیے غلط ھے جب دو سابق حکمرانوں پر کیس چل سکتا ھے تو عمران خان صاحب ،میرا تحفہ میری مرضی کہہ کر بری الزمہ کیسے ہو سکتے ہیں سب سے زیادہ احتساب کے نعرے خود وہی لگاتے رہے ہیں جلسوں میں اپنی یوتھ کو گرماتے ہوے موصوف ہی نعرے لگاتے تھے ،او یہ تمہارے باپ کا پیسہ ھے اب تو خیر وہ خود ایک حکومت بھگتا چکے ہیں اور احتساب والا کلیہ خود ان پر بھی  لاگو ہوتا ھے اور کوئ مائ کا لعل یہ پوچھ سکتا ھے کہ او یہ ،،،، عمران خان صاحب نے خلوص نیت سے احتساب کی  کوشش  کی ہوتی خود اپنے وزرا اور اپنے آپ کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہوتا تو یہ ایک اچھی روایت قائم کرتے مگر افسوس انہوں نے استحقاق اپنے لیے اور احتساب دوسروں کے لیے مخصوص کیا اور ایسی غیر آئینی روایات اس ملک میں قائم کر دی ہیں کہ طویل عرصے تک اسکے اثرات ختم نہیں ہوں گے یہ ہی دیکھ لیں کہ چیئرمین سینٹ کیسے منتخب کیا گیا تھا اس وقت لوٹا کریسی نہیں ثواب دارین تھا  پھر سیالکوٹ میں ضمنی انتخاب میں الیکشن کمیشن کے متعلقہ افسران کا دھند میں گم ہو جانا ،کشمیر انتخابات۔ وغیرہ وغیرہ مگر اسی سیاسی جوڑ توڑ کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہوے منخرف اراکین کے ساتھ پنجاب اسمبلی میں جو شرمناک کارروائی کی گئ  سر پھٹول غنڈہ گردی کا بازار گرم کر دیا گیا وہ کسی مہزب معاشرے کا خاصہ نہیں ہو سکتا  ڈپٹی سپیکر کو زخمی کیا گیا اور پرویز الٰہی صاحب پر حملہ یہ سب اسی غیر آئینی اقدام اور سازش کی کڑیاں ہیں ۔حمزہ شہباز 197 ووٹوں کی برتری سے وزیر اعلیٰ منتخب ہو چکے ہیں مگر وزارت کا تاج ابھی سر پر سجا نہیں سکے اس کی وجہ وہی غلط روایات ہیں جن پر سابق حکومت عمل پیرا ھے یعنی کسی بھی منتخب شخص سے حلف نہ لینا  اس سے پہلے جناب دندان شکن نے بھی نیے وزیر اعظم سے حلف لینے سے انکار کر دیا تھا کہ ان کے اپنے دانت میں تکلیف تھی ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ استعفیٰ دے کر آرام فرماتے خواہ مخواہ نادیدہ زمہ داریوں کا بوجھ کندھے پر لاد رکھا ھے  سوال تو یہ ھے کہ جس آینی زمہ داری کے لیے آپ کومنتخب کیا گیا ھے اگر آپ وہ ادا نہیں کر سکتے تو اس سے سبکدوش ہو جایے غریب عوام کے ٹیکسوں سے لی گئ تنخواہ اور مراعات کا بلاوجہ استعمال کرتے دیکھ کر دل میں یہ ہی سوال پیدا ہوتا ھے کہ کیا یہ ملک و قوم کا پیسہ ھے یا کسی کے باپ کا کہ یوں بے دردی سے لٹایا جاے ۔بالکل ایسا ہی حال گورنر پنجاب کا ھے جنہوں نے حلف لینے سے انکار کیا ھے کہ وہ کسی امپورٹڈ نامنظور وزیر اعلیٰ سے حلف نہیں لیں گے کیونکہ یہ سب لوگ ضمانتوں پر ہیں لہزا کسی مجرم سے حلف لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا سوال تو اس پر بھی بنتا ھے کہ جس حکومت کا وہ حصہ رہے ہیں خود انکے وزیر اعظم اور صدر دیگر وزرا پر بھی کیسز ہیں مگر شاید ہی کبھی عدالتوں کا سامنا کیا ہو، موجودہ حکومت کے بیشتر وزرا پر سیاسی انتقام کے تحت کیسز بناے گیے جن کی پاداش میں انہوں نے جیلیں بھگتیں اور پھر ضمانتوں پر رہا ہوے ۔ملک کا قیمتی پیسہ لا یعنی مقدمات پر پانی کی طرح بہایا گیا لیکن آج تک قوم کو مقصود چپڑاسی یا منظور پاپڑ والے کا دیدار نصیب ہوا نہ اس مد میں ایک روپیہ بھی وصول ہوا۔ اس طرح کی غیر مرئی کہانیاں سنانے والے شہزاد اکبر تو اپنا بریف کیس سنبھالے آزاد فضاؤں میں پرواز کر گیے ہیں البتہ امید واثق ھے کہ گوگی کو ضرور ملک واپس لا کر تحقیقات کی جاییں گی اور فارن فنڈنگ کیس بھی نتیجہ خیز ہو گا ۔

بشکریہ اردو کالمز