ایک سفاک عورت کے بہیمانہ تشدد کی شکار کم عمر ملازمہ رضوانہ اس وقت موت و حیات کی کشمکش میں ھے اسکے زخم کاری ہیں اور مہلک انفیکشنز سے متاثر ھے۔ اس کا مدافعتی نظام انتہای پست درجے پہ کام کر رہا ھے اور ڈاکٹرز اسکی جان بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کمسن لڑکی سرگودھا سے مختار وڑائچ نامی کسی شخص کی وساطت سے سول جج عاصم حفیظ کے گھر ملازم ہوی تھی رضوانہ کو ملا کر اس کے دس بہن بھائ ہیں اور غریبوں کی دولت ان کے بچے ہی ہوتے ہیں کیونکہ یہ کم عمری سے انہیں کما کر دیتے ہیں گلیاں سڑکیں بازار شاپنگ مال ان بچوں سے بھرے ہیں خواہ وہ بھیک مانگتے نظر آتے ہیں یا کوی معمولی سا سامان بیچتے ہوئے مگر پاکستانی سڑکوں پر یہ کمسن بچے اپنی بدحالی کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہے ہوتے ہیں افسوس نظام کے پاس انکے لیے کچھ نہیی ھے لہزا یہ خود محنت مشقت کرتے ہیں اور نہ صرف اپنے بہن بھائ اور دیگر اہل خانہ کے رزق کا بھی بندوبست کرتے ہیں ۔ رضوانہ نامی یہ بچی بھی ان بچوں میں سے ایک ھے جو محنت مشقت سے گھر کا نظام چلانے میں مدد دیتے ہیں اسے جب سول جج عاصم حفیظ کے یہاں بھیجا گیا تب دو چار دن تو اس کے ساتھ نارمل سلوک گیا پھر ایک غیر انسانی رویے کی بنیاد ڈالی گئ لگ بھگ چھ ماہ اس بچی کی والدین سے ملاقات نہیں ہوی محض فون پر بات کرائ جاتی اور وہ بھی ہوں ہاں سے زیادہ نہیں جج صاحب کی غیر انسانی رویوں والی بیگم جن کے بارے میں خود انہوں نے اعتراف کیا ھے کہ میری بیگم کو نفسیاتی مسائل پیں مگر وہ ایسے نہیی مار سکتی اب جج صاحب کو کون بتاے کہ آپ رضوانہ نہیں ہیں جنہیں مار کر وہ اپنی فرسٹریشن دور کرتی ۔دس ہزار ماہانہ کے عوض ایک معصوم بچی سے ہر وقت کی مشقت اور ہڈیاں توڑ مار مفت میں تو یہ سودا برا نہیں تھا کبھی کبھار ان کے بچے بھی اس میں شریک ہو جاتے ہوں گے اور ڈنڈوں سوٹوں بلے ہانڈی پکانے والی ڈوئ اور اسی طرح کے دیگر ہتھیاروں سے لیس جج کی بیگم نے بچی کی ہڈیاں ہر جگہ سے توڑی ہیں ڈاکٹرز کا کہنا ھے کہ یہ ہڈیاں غلط طریقے سے جڑی ہیں اور چھ سات ماہ پرانی ہیں اس میں سر کی چوٹیں بھی ہیں اور سر میں بنے زخموں میں کیڑے پیدا ہوچکے ہیں آنکھوں میں بھی زخم ہیں کمر بھی متاثر ھے رضوانہ کی ماں کا کہنا ھے کہ اسکی آنکھوں میں ناخن مارنے سے آنکھیں متاثر ہوئیں اور ان میں خون جما ہوا ھے ۔اس کیس کی تفصیلات اس وقت منظر عام پر آیئں جب بقول رضوانہ کی والدہ اسے اسلام آباد سے سومیا جو مبینہ ملزمہ ھے اس نے فون کیا کہ اپنی بچی کو لے جاو یہ ٹھیک سے کام نہیں کرتی تو وہ اسلام آباد بچی کو لینے پہنچی ملزمہ نے بچی کو تقریبا گاڑی سے دھکیللا اور اسکی ماں سے کہا کہ اپنا کوڑا کرکٹ لے جاؤ بچی کی حالت کافی خراب تھی اور وہ ماں سے کہہ رہی تھی کہ مجھے نہ پکڑو نہ بازو کو ہاتھ لگاؤ مجھے بہت تکلیف ھے۔ جب ماں بچی کو ہسپتال لے گئ تب اسکی حالت کافی خراب تھی اور اسے لاہور بھجوا دیا گیا پنجاب پولیس اور ڈی پی او سرگودھا کا خصوصی تعاون اس میں شامل تھا تب ہی بچی کو لاہور میں طبی امداد مل سکی پنجاب پولیس کا یہ رویہ قابل تعریف مگر دوسری طرف یہ حالات کہ ایف آئ آر ایسی کاٹی گئ کہ ملزمہ اب تک باہر ھے اور اسے سات اگست تک ضمانت مل چکی ھے بچی پر بہیمانہ تشدد اور قتل کے ارادے سے ایسا ظلم چیخ چیخ کر اعلان کر رہا ھے کہ مظلوم بچی کے ساتھ کس نے یہ سب کیا مگر اس کے باوجود بھی انصاف کی امید نظر نہیں أتی ۔رضوانہ پہلی یا أخری بچی نہیی جس کے ساتھ ایسا ہوا أے دن ایسے واقعات ہوتے ہیں اور کمسن گھریلو ملازمین کے ساتھ وحشیانہ سلوک اور بربریت کے نتیجے میں کچھ عرصہ پہلے ایک بچہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا یہ دو کمسن بچے کسی گھر میں ملازم تھے اور کھانے کے لیے کچھ تلاش کرتے ہوے فریج کی تلاشی لینے کے دوران اس گھر کے مکینوں نے دونوں بچوں پر بے پناہ تشدد کیا اور ایک بچے کی جان چلی گئ یہ واقعہ کچھ زیادہ پرانا نہیں مگر ہم عوام اور اہل اقتدار کی یاداشت کچھ کمزور ھے تو بڑی جلدی ظلم اور ظالم کو بھول بھال جاتے ہیں وہ کسی نہ کسی قانونی رعایت کے زریعے سے بچ نکلتا ھے یوں ظلم کا یہ چکر چلتا رہتا ھے ہر واقعے کے بعد حکمران زور و شور سے اعلان کرتے ہیں کہ زمہ داروں سے سختی سے نمٹا جاے گا مگر نتیجہ صفر ۔اب بھی یہ ہی ہو گا بیان آیئں گے قانون سازی کی بات ہو گی جج صاحب اپنے میڈیا ٹرائل اپنی ساکھ اور نوکری کا رونا رویئں گے کچھ ریلیف مل جاے گا مگر بچی کی روح پر جو گھاؤ لگے ہیں ان کا مداوا کیسے ہو گا ؟جاں بلب رضوانہ پوچھتی ھے کہ اس کے ساتھ ہونے والے ظلم کا زمہ دار کون ھے کیا اسکے والدین ؟جنہوں نے کم وسائل کے باوجود دس بچے پیدا کر لیے اور ایک پھول سی بچی کو چند پیسوں کی خاطر ایک خار زار میں جھونک دیا اور پھر خبر نہیں لی کہ اس پر کیا بیت رہی ھے یا یہ معاشرہ ظالم ھے جس کو اپنے ارد گرد کی کچھ خبر ہی نہیں رضوانہ کے علاؤہ بھی اس گھر میں ملازمین ہوں گے ملنے والے ہوں گے اڑوس پڑوس ہو گا مگر بعض اوقات ہمارے لیے ہماری زات ہی اتنی اہم ہوتی ھے کہ ہمارے چار چفیرے کیا ہو رہا ھے کسی کو فرصت ہی نہیں کہ توجہ دے سکے شاید کہیں کوئ مظلوم کوی معصوم مدد کا طالب ہو ۔سارا کھیل اسی کا ھے کہ میں یا أپ یا اہل اقتدار رضوانہ ،شمیم یا نسیم نہیں ہیں یہ ہمارے ساتھ یا ہمارے بچوں کے ساتھ نہیں ہوا ھے جس تن لگے سو وہی جانے سو اہل اقتدار بھی ان بچوں کی تکلیف کا اندازہ نہیں کر سکتے البتہ جج صاحب کی بلبلاہٹ کا اندازہ دل و جان سے کرتے ہیں یہ ہی وجہ ھے کہ کسی غریب یا مظلوم کو انصاف نہیں ملتا ۔جب تک ظلم کا یہ نظام چلتا رہے گا ایسی بچیاں اور بچے پوچھتے رہیں گے کہ ہمارا قصور ؟ ایسے ماں باپ کے لیے ہم کہیں گے تھوڑے سے فائدے کی خاطر ان بچوں کو کیوں عزاب میں جھونکتے ہو خدا کے لیے روکھی سوکھی کھا لو مگر انہیں نظروں کے سامنے رکھو اور أخر میں زکر اس معصوم ابو زر کا جو باجوڑ حادثے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا سات بہنوں کا ننھا سا پیارا سا بھائ جو جلسے میں پاپڑ چپس وغیرہ بیچ کر بہنوں کے لیے پیسے کمانے گیا تھا کہیں نہ کہیں پنجاب کی رضوانہ اور باجوڑ کا ابو زر ایک ہی ہیں دونوں مظلوم ہیں اور ہم ان سے شرمندہ ہیں کہ ہم اس ظالم معاشرے کے پروردہ ہیں جو ان بچوں کا گلا گھونٹ رہا ھے یا پھر ہم شرمندہ نہیں بلکہ بے حسی ہیں اس کا فیصلہ کون کرے گا ؟
391