مملکت خداد پاکستان ہر قسم کی دولت سے مالامال ہے ۔یہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ایک سے بڑھ کر ایک زہیںن شخص یہاں مجود ہے یہاں اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والے زہین طرین افراد ہیں جو مسنداقتدار پرپہنچنے تک آپنی زہانت سے کام لیتے ہیں اور لیڈر بنے کے بعد یہ دوسروں کی زہانت پر انحصار کرتے ہیں .
اوریہی اسباب انکی ناکامی کا سامان بنتے ہیں اس دوران خوشامدیوں کا ایسا گروہ جو وزیراعظم تک باآسانی رسائی رکھتا ہے سب اچھا ہے کہ راگ الاپتا رہتا ہے ۔اور انہیں یقین دلانے کی کوششوں میں مصروف عمل رہتا ہے کہ اب ملک کے تمام اہم مسائل حل ہوگئے ہیں یا حل ہونے کو ہیں اب تو دنیا آپکو عالمی لیڈر کی نظر سے دیکھ رہی ہے اپنے اپنے دور میں موجود یہ خوشامدی ان ادوار کے وزیراعظموں اور صدور کے ازاہان میں عالمی لیڈری کا خواب جگانے میں کامیاب رہے ۔کچھ لیڈروں نے اس ضمن میں کام کرنے کی کوششیں کی مگر وہ ماضی کا حصہ بن گئے یا بنادیے گئے۔زرولفقار علی بھٹو ۔جنرل ضیاءالحق ۔نوازشریف ۔جنرل پرویز مشرف کے بعد اب یہ ٹافیاں جناب عمران کو کھلائی جارہی ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہماری دوسرے اسلامی ممالک کے مقابلے میں معاشی حثییت کیاہے۔؟کیا ہم دوسروں سے اپنی بات منواسکتے ہیں ۔؟کیا دوفریقوں کی صلح کرواتے وقت ہماری پوزیشین کتنی غیرجانبدار ہے۔؟کیا واقعی ہم نے اپنے ملک کے اہم مسائل حل کرلیئے ہیں۔؟ ہم نے جو اپنے ملک میں تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا اسکا کیا ہوا ؟کیا ہمارے ملک میں آج مزدور پیٹ بھر کر روٹی کھارہا ہے ؟کہیں میرے ملک میں مہنگاہی سےغریبوں کو فقیر اور متوسط طبقے کو غریب میں تبدیلی کا آغاز تو نہیں ہورہا۔؟کیا عنان حکومت والوں نے کبھی سوچا ان بچوں نے سرکاری سکول جاکر کیا پڑھنا جس کے ماں باپ گھر کے اخراجات کےپورے نہ ہونے پر چوبیس گھنٹے لڑتے رہتے ہوں۔بے شک آپ امت مسلمہ کی رہنمائی کیجیے پر غریب کو جینے کا حق بھی دیجیے ۔جب میرے کپتان لاری اڈوں پر بنائے گئے لنگرخانوں اور پناہ گاہوں پر نظر دوڑاتے ہیں اور خیالات میں ڈوب کر ریاست مدینہ کی تکمیل ہوتی نزدیک دیکھتے ہیں تو یقیناً ایسے میں وہ گورنر سٹیٹ بنک اور مشیر خزانہ اور دوسرے حواریوں سے عوامی زندگی پر اسکے ثمرات پوچھتے ہوں گہ تو جواب میں زمین آسمان قلابے ملادیے جاتے ہیں ۔ایسے لیڈر کی تو قوم کو تلاش تھی جو غریبوں کا دکھ سمجھے یقیناً آپ ہی ہیں وہ لیڈر آپ پاکستان کی آخری چوائس ہیں پاکستانی عوام کے پاس آپکے بغیر کوئی دوسرا آپشن نہیں عوام دعائیں دی رہی ہے اور ساتھ اسقدر خوشحالی پر شکرانے کے نفل ادا کررہی ہے وغیرہ وغیرہ
جناب کپتان عوام کو روٹی نہیں روٹی کمانے کے وسائل فراہم کیجیے عوام کو فقیر نہ بنائیے ۔ بلاشبہ لنگر خانے اور پناہ گاہیں بہت بڑے فلاحی کام ہیں مگر یہ کام حکومت کے نہیں اگر کرلیئے تو بھی ٹھیک ہے مگر مملکت کو کچھ اور بڑے کام فوری توجہ طلب ہیں ۔اگر ہم معاشی طور پر کم ازکم مسلم امہ کے برابر آجائیں تو ہمیں مسلم لیڈر شپ کے لیئے کسی کے پاس نہیں جانا پڑے گا بلکہ دوسرے ممالک ہمارے پاس خود آئیں گے ڈرانے دمھکاانے کیلئے نہیں بلکہ آپسی اختلاف کو کم کروانے کیلئے۔
زبان دراز