ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ پاکستان نے ایران امریکا مذاکرات کی کامیاب میزبانی کی۔ چہ جائے اس کے کہ مذاکرات بے نتیجہ رہے اور بغیر کسی ایک نکتے پر پہنچے دونوں فریقین اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔یعنی اتوار کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس صبح چھ بجے کے قریب مختصر سی پریس کانفرنس کے بعد اسلام آباد سے واپس امریکہ روانہ ہو گئے۔(حالانکہ اُن کا دورہ 48گھنٹے کا تھا،،، لیکن وہ ابھی 24گھنٹے بھی نہ پورے ہوئے تھے کہ امریکا واپسی کے لیے روانہ ہوگئے۔ ) اور چند گھنٹوں بعد سہ پہر میں ایرانی وفد کو بھی پاکستان نے بحفاظت ایران پہنچایا۔ جبکہ امریکی نائب صدر کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ’’وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کا شکریہ! ان کی طرف سے کوئی کمی نہیں تھی‘ وہ ہماری مدد کرنا چاہتے تھے ۔ایرانی وفد کا بھی کچھ ایسا ہی کہنا تھا کہ’’ امریکا اپنا ’’آقائی‘‘ Behaviourتبدیل کرکے بات کرے گا تو مثبت نتائج نکلیں گے،انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اور جوہری توانائی جیسے معاملات حل ہونا باقی ہیں،،، مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ اس فضا میں یہ توقع کسی کو نہیں تھی کہ محض ایک نشست میں مذاکرات نتیجہ خیز ہو جائیں گے‘‘۔ویسے اُمید باقی رکھنی چاہیے کہ یہ مسائل مذاکرات کے دوسرے دور میں حل ہو جائیں،،،اور ویسے بھی مجھے یاد ہے کہ اوباما کے دور میں 2015میں ایران اور امریکا سمیت بڑی عالمی طاقتوں (برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین) کے درمیان ایک اہم ایٹمی معاہدہ JCPOAطے پایا جسے ’’جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن‘‘ کہا جاتا ہے ،اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور بین الاقوامی نگرانی قبول کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ اس کے بدلے میں اس پر عائد معاشی پابندیوں میں نرمی کی گئی۔ اور اس معاہدے کو بھی ہوتے ہوتے 2سال کا عرصہ لگ گیا تھا،۔ بہرحال اگر امریکا پر دیگر عالمی طاقتیں ایران کے حوالے سے اعتبار نہیں کرتی تو میرے خیال میں وہ طاقت کے نشے میں ایسا بدمست ہاتھی ہے، جو ہر چیز کو روندھنا چاہتا ہے ،،، اس ہاتھی کے لیے ’’مذاکرات‘‘ کوئی معنی نہیں رکھتے،،، حالیہ تاریخ میں آپ خود دیکھ لیں کہ اُس نے کب کب مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر ملکوں پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ آپ افغان جنگ 2001ء کو دیکھ لیں،،، امریکا نے افغانستان میں جنگ شروع کرنے سے پہلے کچھ حد تک مذاکرات اور سفارتی رابطے کیے تھے، لیکن وہ بہت مختصر اور ناکام رہے۔امریکا نے 9/11کے بعد افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اُسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کردے، اس حوالے سے مذاکرات جاری تھے، اور افغان حکومت کہہ رہی تھی کہ ہمیں اُسامہ بن لادن کے حوالے سے ثبوت فراہم کیے جائیں،،، لیکن امریکا نے طالبان کی شرائط کو مسترد کر دیا اور کہا کہ مزید وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا،،، اور ساتھ ہی اکتوبر 2001 میں امریکا نے افغان جنگ شروع کر دی۔پھر آپ 2003ء میں عراق جنگ کو دیکھ لیں،،، اُس وقت بھی مذاکراتی عمل چل رہا تھا،،، جبکہ عراق مبینہ طور پر رکھے ہوئے کیمیائی ہتھیاروں کے حوالے سے انسپیکشن ٹیموں کو ملک میں آنے کی دعوت بھی دے رہا تھا،،، بلکہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کی تلاشی لینے کے لیے ٹیمیں بھی عراق روانہ کیں،،،جنہوں نے مختلف مقامات کا معائنہ کیا۔اس حوالے سے صدام حسین نے مکمل تعاون کیا لیکن امریکا کو ’’شبہ ‘‘ ہوا کہ عراق مکمل تعاون نہیں کر رہا اور کچھ چیزیں چھپا رہا ہے۔حالانکہ اُس وقت فرانس اور جرمنی عراق کے ساتھ تھے،،، لیکن مذاکرات کے دوران ہی ’’امریکا بہادر‘‘ نے حملہ کرکے سب کچھ تہس نہس کر دیا، صدام حسین کو مار دیا، رجیم چینج کر دیا،،، اور ساتھ ہی عراق کے تیل پر قبضہ کر لیا ، جو آج بھی برقرار ہے۔ پھر یہی نہیں بلکہ لیبیا میں بھی عرب بہار کے موقع پر کرنل قذافی کے ساتھ کیا کیاگیا وہ بھی سب کے سامنے ہے،،، امریکا نے 2011ء میں لیبیا کے ساتھ مذاکرات کیے، کہ وہ مظاہرین پر طاقت کا استعمال نہ کرے،،، اور سیاسی حل کی طرف آئے،،،لیبیا کے حکمرانوں نے اس پر لبیک کہا اور کچھ افریقی اور عرب ممالک کی ثالثی کے بعد مذاکرات شروع ہی ہوئے تھے کہ امریکا نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے قرار داد 1973ء کی منظوری لی ،،، جس کے بعد امریکا کی سربراہی میں NATOنے فضائی حملے شروع کر دیے ،،، اور پھر کہاں کے مذاکرات اور کہاں کی باتیں،،، الغرض آپ کے سامنے مصر کی بھی مثال ہے، جہاں رجیم چینج میں براہ راست امریکا ملوث رہا اور سب کے علم میں یہ بات ہے کہ یہ سب کچھ اسرائیلی ایما پر کیا گیا۔ پھر وینزویلا کی تازہ مثال آپ کے سامنے ہے جہاں مذاکرات کے دوران ہی وہاں کے صدر کو اُن کی اہلیہ سمیت اغواء کر لیا گیا۔ پھر شام کو دیکھ لیں جہاں امریکی ایما پر رجیم چینج کیا گیا ،،، اور آج وہاں امریکا نواز حکومت قائم و دائم ہے۔ مطلب! امریکا نے آج تک کونسے مذاکرات کامیاب ہونے دیے ہیں،،، جو یہ کامیاب ہونے تھے،،، بادی النظر میں اُس نے ایران کے آبنائے ہرمز پر قبضہ کرنا ہی کرنا ہے،،، اُس نے ایران سے اپنی 90فیصد شرائط منوانی ہی منوانی ہے،،، اُس نے ایران کے تیل کی ناکہ بندی کرنی ہی کرنی ہے، ،،اُس کے اپنے ملک کے حالات ٹھیک ہیں، یعنی اُس کے پاس تیل وگیس وافر مقدار میں موجود ہے، اس لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایران جنگ سے اُس کو فرق نہیں پڑنے والا۔ اگر فرق پڑے گا تو ہم جیسے غریب ملکوں کوپڑے گا، جن کے پاس پہلے ہی زرمبادلہ کے ذخائر گنے چنے رہ گئے ہیں’’میرے خیال ایران کو چاہیے کہ مذاکرات کی طرف آئے ایران پاس ہتھیار اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ وہ براہ راست امریکا کو نشانہ بنا سکیں۔امریکا تو اُس سے دس ہزار کلومیٹر دور ہے،،، اس لیے امریکا اور ایران کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ لیکن اب چونکہ مذاکرات امریکا بھاگ گیا ہے تو اب دیکھیں نہ جانے کیا ہوتا ہے،،، لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اگر مذاکرات کسی نتیجہ تک نہیں پہنچے تو یہ ایران کے لیے زیادہ برا ہوگا،،، نسبتاََ امریکا و اسرائیل کے۔ اس لیے میرے خیال میں پاکستان کو ایران کو اس بات پر قائل کرنا چاہیے کہ اس جنگ بندی معاہدے میں جو مل رہا ہے وہ لے لے،،، یعنی اگر ایران کو اُس کے غیر ملکی منجمد اکائونٹس کی مد میں اربوں ڈالر مل رہے ہیں تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔
67