’’پاکستان‘‘ ایک ہی ملک ہے، ایک ہی پرچم، ایک ہی آئین…مگر یہاں زندگی کے دو بالکل مختلف منظرنامے ہیں۔ ایک طرف وادی تیراہ ہے، جہاں لوگ اپنی جان، عزت اور چھت بچانے کے لیے پہاڑوں سے اترنے پر مجبور ہیں،،، یا کراچی کا گل پلازہ جیسی کئی جگہیں ہیں جہاں درجنوں جانیں انتظامیہ کی غفلت کا شکار ہو رہی ہیں اور اربوں روپے کا مالی نقصان ہورہا ہے۔ پنجاب حکومت عوام پر ہر حوالے سے خاصی سختی کر رہی ہے جیسے پولیس کو خاصا متحرک کیا ہوا ہے، پیرا فورسز کسی غریب کو نہیں چھوڑ رہی، ٹریفک چالان کی شکل میں عوام پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیںاور پرچے کاٹے جا رہیں پھر شادی ہال ہوں یا کہیں اور ہر جگہ رات کو دس بجے تقریب ختم کر دی جاتی ہے، اور ون ڈش کی بھی خاصی حد تک پابندی کروائی جا رہی ہے۔ پابندی پر عمل نہ کرنے والے ہال مالکان کو جرمانے کیے جا رہے ہیں اور ہال بھی سیل کیے جا رہے ہیں لیکن وطن عزیز میں ’’دو قومی نظریہ‘‘ نہ ہو،،، یہ کیسے ممکن ہے؟ جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے بیٹے کی شادی میں ہر قسم کے قوانین کو نظر انداز کیا گیا کہ بھائی! یہ قوانین آپ کے لیے ہیں۔ آپ بھی سادگی سے شادی کی تقاریب کا اہتمام کرکے ایک مثال بن جاتیں بالکل ایسے ہی جیسے آپ ہی کی پارٹی کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے بیٹے کی تقریب وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی سادگی سے منائی۔ یعنی انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ خاقان عباسی نے کراچی میں نکاح کیا اور پھر ولیمہ پروگرام اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کی لان میں سادہ انداز میں منعقد کیا۔ولیمہ کوئی بڑی شاہکاری تقریب نہیں تھی، بلکہ ایک پرائیویٹ، محدود اور کم خرچ تقریب تھی جس میں صرف قریبی رشتہ دار، خاندان کے لوگ اور چند دوست شامل تھے۔ولیمہ میں صرف ایک ہی ڈش مہمانوں کو پیش کی گئی، تاکہ فضول خرچی سے بچا جائے اور سادگی کا پیغام دیا جائے۔ تقریب میں حکومتی اہلکاروں اور وزیراعظم ہاؤس کے عملے کو شامل نہیں کیا گیا، اس لیے یہ روایتی سیاسی و سرکاری نمائش سے دور رہی۔پھر سابق وزیر اعظم عمران خان کی عمران خان کی تینوں شادیاں مثال کے طور پر پیش کی جاسکتی ہیں،،، جمائمہ گولڈ اسمتھ سے نکاح سادگی سے ہوا۔ ریحام خان سے شادی نہایت محدود تقریب میں ہوئی۔ بشریٰ بی بی سے نکاح خالصتاً مذہبی اور سادہ انداز میں انجام پایا۔ ان تقریبات میں نہ بھاری جہیز تھا اور نہ سیاسی شو آف۔مگر یہ شادیاں اور خاص طور پر شریف خاندان کی شادیوں کی تقاریب کوئی نفسیاتی مسئلہ لگتا ہے! جس میں دکھاوا اور غریب کا مذاق بنانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا! بہرحال ہمارے معاشرے میں ہر فرد کو اپنی خوشی منانے کا حق حاصل ہے، اور شادی ایک ذاتی معاملہ بھی ہے، ۔یہ ساری باتیں ایک طرف مگر کیا حکمرانوں کو ہمسایہ صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں جلنے والے عام پاکستانیوں کی فکر ہے؟ جہاں تادم تحریر 20افراد جاں بحق ہوگئے ہیں ،،، اور 60سے زائد ابھی بھی لاپتہ ہیں،،، چلیں اْن کو چھوڑیں کیا ان حکمرانوں کو وادی تیراہ کے مکینوں کے بارے میں علم ہے؟ کہ وہ کس حال میں نکل مکانی کر رہے ہیں؟ وہاں گزشتہ کئی مہینوں سے خوف کا راج ہے۔ نقل مکانی، بند سکول، ویران گھر، بیمار بوڑھے اور روتے بچے۔ یہ سب کسی فلم کا منظر نہیں بلکہ پاکستان کے ایک حقیقی خطے کی کہانی ہے۔ اطلاعات یہ بھی آرہی ہیں کہ وادی تیراہ کے علاقے میدان میں کئی جگہوں پر مکمل کرفیو نافذ ہے۔ باغ میدان، دوہ توئی، حیدر کنڈا، ارہانگہ ،سری کنڈا، پیر میلہ بازار، بر باغ بازار، لر باغ بازار اور دیگر ملحقہ علاقوں میں آمد و رفت پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ تمام بازار بند ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے عوام کو گھروں میں رہنے، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کی ہدایت کی گئی ہے۔انتظامیہ کے مطابق اب تک تقریبا دس سے پندرہ ہزار خاندان علاقہ چھوڑ چکے ہیں جبکہ یہ تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ان حالات میں متاثرین کی آواز سب سے زیادہ دردناک ہے۔ اطلا عات کے مطابق نقل مکانی وہی کر پا رہے ہیں جن کے پاس پشاور، باڑہ یا دیگر علاقوں میں رہائش کا بندوبست ہے جبکہ غریب اور بے وسیلہ لوگ آج بھی بے بسی کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔ نقل مکانی کے دوران شدید سردی کے باعث ایک کم سن بچے کی ہلاکت اور مویشیوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ نہ طبی سہولیات موجود ہیں اور نہ کھانے پینے کا کوئی مناسب انتظام ہے۔نقل مکانی اور ممکنہ آپریشن کے حوالے سے سب سے بڑا سوال ابہام کا ہے۔ بہرکیف اشرافیہ کا المیہ یہ نہیں کہ وہ خوشیاں مناتی ہے، المیہ یہ ہے کہ وہ بے خبر رہ کر مناتی ہے۔ انہیں معلوم ہی نہیں، یا معلوم ہو کر بھی اہم نہیں لگتا، کہ اسی وقت کسی ماں نے اپنا گھر چھوڑا ہے، کسی بچے نے اپنا سکول، اور کسی بزرگ نے اپنی زمین، وہ زمین جس سے اس کی شناخت جڑی تھی۔ یہ تضاد صرف معاشی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ ایک ریاست اس وقت کمزور ہوتی ہے جب اس کے طاقتور طبقات قومی دکھ درد سے کٹ جائیں۔ جب وادی تیراہ کے متاثرین کے لیے امدادی کیمپ خبر نہیں بنتے تو سمجھ لیجیے کہ مسئلہ صرف غربت کا نہیں، حساسیت کے فقدان کا ہے۔قومیں قربانیوں سے بنتی ہیں، اور اشرافیہ اگر واقعی قیادت کا دعویٰ رکھتی ہے تو اسے مثال بھی بننا ہوگا۔ شادی کی ایک تقریب سادہ ہو جائے، ایک فنکشن منسوخ ہو جائے، ایک کروڑ کسی بے گھر خاندان کے نام ہو جائے، یہ قربانی اشرافیہ کو غریب نہیں کر دے گی، مگر شاید قوم کو تھوڑا سا جوڑ دے۔وادی تیراہ صرف ایک جغرافیہ نہیں، یہ ایک امتحان ہے۔ یہ امتحان ریاست کا بھی ہے اور اشرافیہ کا بھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ میں کون صرف روشنیوں میں نظر آیا، اور کون اندھیروں میں بھی چراغ بن سکا۔لہٰذاہماری اشرافیہ اگر عوام کے دلوں میں اپنا مقام پیدا کرنا چاہتی ہے،،، تو اْن کے زخموں کو بھرنے کی کوشش کریں،، ورنہ انقلاب آتے دیر نہیں لگتی،،، اور ویسی بھی اس وقت دنیا بھر میں خاص طور پر ہمارے مسلم ممالک کے ستارے گردش میں ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ یہاں کے حکمرانوں کے ستارے بھی گردش میں آجائیں اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے،،، کیوں کہ قوم کو آج تقاریر سے زیادہ مثالوں کی ضرورت ہے۔ عوام کو نعرے نہیں، عملی رویے درکار ہیں۔ اگر حکمران خود سادگی اختیار کریں گے تو معاشرہ بھی اسی سمت بڑھے گا، ورنہ مہنگے جوڑوں، قیمتی زیورات اور شاہانہ تقریبات کا یہ کلچر مزید مضبوط ہوتا چلا جائے گا، اور اس کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام آدمی ہی اٹھاتا رہے گا۔
107