63

آبنائیں

تیسری خلیجی جنگ کا بحران اب آبنائے ہرمز کے بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ ایران نے کہا ہے کہ اس پر ہمارا کنٹرول ہوگا اور دنیا ہمارے کنٹرول کو مانے ۔ یہ مطالبہ دنیا میں کوئی بھی نہیں مانے گا۔ آبنائے ہرمز ایرانی سرزمین سے نہیں گزرتی۔ اس کے ایک طرف ایرانی ساحل ہے تو دوسری طرف اومانی ساحل اور اومانی ساحل کے ساتھ ہی اماراتی ساحل بھی ہے ۔ ایرانی دعویٰ مان لیا جائے تو دنیا میں کئی اور بھی آبنائے ہیں، ہر ایک پر کسی نہ کسی ملک کا دعویٰ ماننا پڑے گا۔ ہرمز کا معاملہ سامنے آیا ہے تو دھیان خودبخود ان دوسری آبناؤں کی طرف چلا گیا ہے کہ کہاں کہاں ہیں۔
ایک لحاظ سے ہرمز سے بھی اہم آبنائے وہ ہے جو ملایا اور سماترا کے بالکل درمیان اور اسی کی طرح بہت تنگ بھی ہے یعنی آبنائے ملاکا۔ ملایا ملائشیا کا حصہ ہے اور سمارات انڈونیشیا کا۔ یورپ، افریقہ اور بیشتر ایشیا کی مشرقی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا سے ساری سمندری تجارت اسی آبنائے کے ذریعے ہوتی ہے اور مشرقی ایشیا کا مطلب ہے چین، جاپان اور کوریا بالخصوص دوسری بڑی آبنائے باسفورس کی ہے جو ترکی کے بیچوں بیچ سے گزرتی ہے اور ایک جگہ تو اتنی تنگ ہو جاتی ہے کہ بس اسے پنجاب کی کوئی بڑی نہر ہی سمجھئے ۔ اس جگہ کو در دانیال کا نام دیا گیا ہے ۔ اس نہر پر مشرقی یورپ کے کم از کم ممالک کی سمندری تجارت منحصر ہے یعنی روس، یوکرائن، مالدووا، بلغاریہ، رومانیہ، جارجیا اور آذربائیجان۔ ان سات میں سے روس کو نکال کر باقی چھ ممالک کا تو عالمی سمندروں تک رسائی کا یہ واحد راستہ ہے ۔ یہ بند تو ان چھ ممالک کی سو فیصد سمندری تجارت بند۔ اس نہر کے راستے یہ ممالک بحیرہ روم میں اور وہاں سے ساری دنیا کے سمندروں میں داخل ہوتے ہیں۔ روس کی عالمی سمندروں تک رسائی 70 فیصد اسی نہر سے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ سارے افریقہ، ایشیا، جنوبی یورپ کیلئے روس کے پاس یہ واحد راستہ ہے ۔
باقی رسائی روس کی دو جگہ سے ہے ۔ ایک مشرقی سائبیریا کا ساحل الکاہل یہ ساحل روس سے ہزاروں میل دور ہے کوئی خاص کام کی چیز یہ ساحل بالکل نہیں ہے ۔ روس اصل میں وہی ہے جسے یورپی روس کہا جاتا ہے ، باقی سارا علاقہ تو سائبیریا اورٹنڈرا کے ‘‘مقبوضات’’ ہیں۔ دوسرے ممالک سمندر یا مقبوضات ہوا کرتے ہیں، روس کے ‘‘خشکی پار’’ مقبوضات، روس کا تیسرا ساحل بالٹک کا ہے ، نہایت مختصر اور یہیں پر سینٹ کیبٹرز کی بندر گاہ ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے اس شہر کا نام لینن قرار تھا اور مزے کی بات ہے کہ چوتھی اہم آبنائے بالٹک والے ساحل کو باقی یورپ اور بحر اوقیانوس سے ملاتی ہے ۔ نقشے پر اس آبنائے کا نام نہیں ملا لیکن یہ ڈنمارک اور سویڈن کے بیچ میں سے گزرتا ہے اور چند میل چوڑی نہیں ہے اور اگر ڈنمارک یا سویڈن اس نہری راستہ کو روک دیں تو یورپ تک رسائی روس کیلئے ختم ہو کر رہ جائے ۔ اس نہر کے سوا روس کی یورپ تک کوئی رسائی نہیں ہے ۔
ایک اور آبنائے بھی ہے لیکن اس کے بند کرنے سے کسی کا فائدہ ہے نہ نقصان۔ سال کے چھ آٹھ مہینے تو یہ خود ہی بند رہتی ہے برف کی وجہ سے باقی مہینے بھی کھلی رہے تو کیا، بند رہے تو کیا۔ یہ ‘‘بیرنگ ’’(BERING) کی آبنائے ہے ۔ خاصی چوڑی ہے اور یہ روس اور امریکہ (الاسکا) کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے ۔ ایک ٹھنڈی ٹھار، پرسکون، دنیا سے کٹا ہوا، بے رونق بے آباد بنجر علاقہ۔ سناٹوں کی سرزمین ایسی ہے کار جگہ جو، حتی کہ میدان جنگ بھی نہیں بن سکتی۔
بیرنگ سے پہلے باب المندب کی آبنائے کا ذکر ہونا چاہئے تھا لیکن روس کی مناسبت سے بیرنگ بیچ میں آ گئی۔ باب المندب کی آبنائے جنوبی یمن اور افریقی ملک جیبوتی کے بیچوں بیچ ہے ۔ پچھلے دنوں بہت شہرہ رہا کہ شمالی یمن کے حوثی باغی اس کی ناکہ بندی کر دیں گے لیکن حوثی اس سے سو کلومیٹر شمال میں بیٹھے ہیں، وہ اس کی ناکہ بندی کر ہی نہیں سکتے ۔ باب المندب کے ایک طرف جنوبی یمن سعودیہ کے زیر اثر حکومت کے ماتحت ہے تو دوسرا ساحل جبوتی کا ہے جو سعودیہ کے کیمپ میں سمجھا جاتا ہے ۔ حوثی البتہ، ماضی کی طرح، بحیرہ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنا کر سمندری ٹریفک میں خلل ضرور ڈال سکتے ہیں، لیکن یہ خلل پہلے بھی جزوی تھا، آئندہ بھی جزوی ہوگا، باب المندب کی ناکہ بندی کیلئے حوثیوں کا عدن پر قبضہ ضروری ہے جو ممکن نہیں۔
ایک ‘‘تجزیہ نگار’’ نے یہاں تک کہہ دیا کہ باب المندب کی ناکہ بندی سے سعودی تیل یورپ تک پہنچنا بند ہو جائے گا۔ حالانکہ سعودی تیل نہر سویز کے راستے یورپ اور امریکہ جاتا ہے اور یہ نہر بہت دور شمال میں ہے ۔ باب المندب کا راستہ جنوب کا ہے ۔ بند ہوا جو کہ نہیں ہو سکتا تو پاکستان اور باقی ایشیائی ممالک کو سعودی تیل نہیں پہنچ سکتا۔
سویز اور پانامہ کی نہریں بھی آبنائیں ہیں لیکن قدرت کی نہیں، یہ انسان کی کھودی ہوئی نہریں ہیں۔ نہر سویز کے دونوں طرف مصر اور نہر پنامہ کے دونوں طرف پنامہ ہے لیکن ان نہروں پر بھی مصر اور پنامہ من مرضی کی گرفت نہیں بنا سکتے ، کچھ عالمی قوانین کی پابندی ضروری ہے ۔ پھر ایران، جس کے علاقے کے بیچ سے ہرمز کی آبنائے گزرتی بھی نہیں ہے ، کیسے اسے من مرضی کی گرفت میں لے سکتا ہے ۔
آبنائے ہرمز ناکہ بندیوں کی زد میں ہے ۔ پہلے ایران، اب امریکی، بہر حال ان ناکہ بندیوں کو ایک دن ختم ہونا ہے لیکن دیکھئے ۔
جانے کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک۔

بشکریہ نواےَ وقت