43

خیر خیریت کی خبریں

اخبارات میں آنے والی سب خبریں بْری نہیں ہوتیں، کچھ اچھی خبریں بھی آ جاتی ہیں، سب کی خیر والی خبریں۔ کر بھلا ہو بھلا والے واقعات۔ 
ایسی ہی ایک اچھی خیر خیریت والی خبر کل لاہور سے آئی جہاں گرین ٹائون میں ایک سوتیلی ماں نے اپنی سوتیلی بیٹی کو اس کے سگے باپ سے مل کر تشدد کر کے قتل کر ڈالا۔ لاحول ولاء آپ کہیں گے اور پوچھیں گے کہ یہ تو ظلم کی خبر ہے، اس میں اچھی بات کیا ہے اور اس میں کس نے کس کا بھلا کیا ہے۔ جی ہاں، یہی، سوال کا آخری حصہ ہی تو اصل بات ہے۔ تھوڑا سا عقل عامہ پر زور دیجئے۔ چھ سال کی معصوم بچی فاطمہ اگر قتل نہ ہوتی، مزید زندہ رہتی، مثال کے طور پر چلئے زیادہ نہیں، چھ سات سال ہی اور زندہ رہتی تو کیا ہوتا۔ ہر روز صبح دوپہر شام کے حساب سے مار کھاتی، ہڈیاں تڑواتی ، جسم پر نیل ڈلواتی، گرم استری سے کھال جلواتی، گالیاں کھاتی اور بے حساب کھاتی، روح پہلے چھلنی ہوتی پھر مر جاتی تو اچھا ہوتا کہ برا؟۔ ظاہر ہے برا ہوتا اور بہت ہی برا۔ تو سوتیلی ماں نے یہی بھلا کیا کہ آئندہ کی چھ سات سال کی اذیت ناک اس کی زندگی ’’رائٹ آف‘‘ کر دی۔ 
اور فرض کیجئے، وہ چھ سات سال بعد بھی نہ مرتی تو ایک دن شادی ہو جاتی۔ دلہن بن کر کسی کے گھر جاتی، وہاں پہلے روز سے ہی ’’کنیز‘‘ کے عہدے پر فائز ہو جاتی۔ ساس ، سْسر ، نندوں کی چاکری، شوہر کی غلامی کرتی، مار کھاتی۔ سسرال والے یوں بھی شیر ہوتے ہیں، اس کے کیس میں تو اور بھی شیر ہو جاتے کہ ماں ہے نہیں، سوتیلی ماں ہے، سگا باپ سوتیلے سے بڑھ کر ہے، کوئی والی وارث نہیں۔ چاہے استری سے جلائو، چاہے استرے سے گلا کاٹو، آخر ایک دن سلنڈر پھٹنے سے زندہ جل کر مر جاتی۔ گرین ٹائون کی اس سوتیلی ماں نے یہ ساری المناک کہانی، جس پر ناول لکھنے کیلئے کوئی راشد الخیری رہا نہ عظیم بیگ چغتائی، ایک ہی جھٹکے میں ختم کر ڈالی۔ کر بھلا، ہو بھلا۔ 
بچی فاطمہ کا جس نے شاید پوری زندگی کبھی ٹافی کھائی ہو گی نہ آئس کریم کی شکل دیکھی ہو گی، نہ نئے کپڑے پہنے ہوں گے نہ سہیلیوں کے ساتھ کھیل کود کیا ہو گا، تو بھلا ہو گیا۔ کرنے والے کا کیا بھلا ہوا، اب آپ یہ پوچھیں گے۔ 
جی شوق سے پوچھئے۔ کرنے والی چند دن جیل میں رہے گی، پھر ضمانت ہو جائے گی۔ کیس اوّل تو چلنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی، چلا بھی تو سزا نہیں ہو گی، بالفرض ماتحت عدالت سے سزا ہو گئی تو ’’بالا‘‘ سے باعزت بری ہو جائے گی۔ یہ ملک آخر بنا کس لئے ہے۔ قاتلوں کو بری کرنے ہی کیلئے تو بنا ہے، قومی خزانہ لوٹ کر کھا جانے والوں کے قرضے بیک جنبش قلم معاف کرنے ہی کیلئے تو بنا ہے۔ غریبوں کی بستیاں بلڈوزروں سے ڈھا کر ایلیٹ کلاس کے پلازے بنانے ہی کیلئے تو بنا ہے۔ 
کل ہی اسلام آباد میں غریبوں کا ایک بہت بڑا علاقہ مسمار کر دیا گیا، بری امام کی بستی میں، فریاد کرنے والوں کو مار مار کر نقش فریادی بنا دیا گیا۔ خدمت کو عزت دو کیلئے ہی تو بنا ہے۔ 
لوڈشیڈنگ ہوتے ہی نیٹ بھی چلا جاتا ہے، جنرل نالج بڑھانے کی خواہش بدستور ناتمام رہ جاتی ہے۔ کل ہی ایک واقف کار ڈاکٹر کو فون کر کے پوچھا ایک چھ سالہ بچے یا بچی کو مارنے کیلئے کتنا تشدد درکار ہوتا ہے۔ پوچھنے لگا، کیا کہا، دوبارہ عرض کیا کہ چھ سال کے بچے کو کتنے تھپڑ، کتنے گھونسے ، کتنی لاتیں ماری جائیں چمٹے یا سرئیے کے کتنے وار کئے جائیں تو وہ مر جاتا ہے۔ مرنے کیلئے درکار مناسب تشدد میں کتنے گھنٹے لگتے ہیں۔ ڈاکٹر جواب دینے ہی والا تھا کہ بجلی چلی گئی اور ساتھ ہی نیٹ کو بھی لے گئی، جنرل نالج حاصل کرنے کی خواہش۔
ایک دو مزید خبریں اس طرح کی خیر خیریت والی ملاحظہ ہوں۔ مذکورہ بالا فارمولے کے تحت اس میں خیر کا عنصر آپ خود تلاش کر لیجئے۔ کل ہی کی ان خبروں میں سے ایک یہ ہے کہ جڑانوالہ میں ایک جاوید اقبال نامی شخص نے اپنی بیوی صائمہ اور دو بیٹیوں، 17 سالہ ام حبیبہ اور 13 سالہ عائشہ کو گولیوں سے چھلنی کر کے ہلاک کر ڈالا۔ ملزم مفرور ہے، پولیس نے چھاپہ مار پارٹیاں بنا دی ہیں جو حسب توقع ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہیں گی۔ بیٹیاں ہی ماری ہیں، کسی افسر کو بھتہ دینے سے انکار تو نہیں کیا ہے کہ گرفتاری بھی ہوگی اور گرفتاری کے بعد ملزم اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا بھی جائے گا۔ 
یہاں تو بیٹیاں تھیں، مالاکنڈ سے آنے والی خیریت خیریت کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ قالدرہ کے علاقے میں ایک نوجوان نے اپنی بھابھی اور اس کی دو بیٹیوں یعنی بھتیجیوں کو مار دیا۔ 
لڑکی ہے، اسے قتل کرنا باپ کا حق ہے۔ بھائی کہتا ہے، اسے قتل کرنا میرا حق ہے اور دیور کہتا ہے، میرا بھی تو ہے۔ 
حق ہے تو استعمال بھی کرنا چاہیے۔ اپنے حق سے دستبردار ہونا مردانگی ہے تو دانشمندی۔ اور دنیا جانتی ہے کہ دریائے سندھ کے دونوں اطراف قومیں مردانگی اور دانشمندی میں باقی سب دنیا سے کہیں آگے ہیں۔ 
بھارت میں بھی ہر سال سینکڑوں مرد کے بچے یہ حق استعمال کرتے ہیں لیکن آبادی کا تناسب دیکھا جائے تو بھارت اس میدان میں دریائے سندھ کے کنار باسیوں سے کوسوں پیچھے ہے۔ 
باپ بھائی دانشمند بھی ہوتے ہیں۔ اکثر یہ ہوتا ہے بیٹی کو باپ خود قتل نہیں کرتا، بیٹے سے کہتا ہے یہ نیک کام تم انجام دو۔ بیٹا بہن کو مار ڈالتا ہے، پکڑا جاتا ہے، باپ مدعی بنتا ہے وہ پھر عدالت میں بیان دیتا ہے کہ میرا ’’قاتل‘‘ سے راضی نامہ ہو گیا۔ ملزم چھوٹ جاتا ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں قتل کی مدعی ریاست نہیں بنتی۔ کسی باپ کا بیٹا نہ ہو تو وہ بیٹی قتل کرانے کیلئے بھائی کی خدمات حاصل کرتا ہے اور پھر وہی کہ عدالت جا کر مدعی بھائی قاتل بھائی کو صلہ رحمی کے تحت معاف کر دیتا ہے۔ 
دانشمندی میں بھی دریائے سندھ کے کنار واسی دنیا بھر سے کہیں آگے ہیں۔
خیر خیریت کی ایک خبر کل بھارت کے شہر بنگلور و (سابق بنگلور) سے بھی آئی جہاں 40 سالہ سورتا نے اپنی تیرہ سالہ بچی کو قتل کر کے خودکشی کر لی۔ 
سسرال والوں کا تشدد عرصے سے جاری تھا، بری بات ،خاتون نے اپنا اور اپنی بیٹی کا قصہ پاک کر کے بری بات کا خاتمہ کر ڈالا، اپنی بیٹی کے مستقبل کو تشدد اور اذیت سے بھی محفوظ بنا دیا۔ اچھی بات، بہت ہی اچھی بات۔

بشکریہ نواےَ وقت